Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 12

پرانا چرخہ اور ماں کی آخری دعا

تپتی دھوپ اور یادوں کے سائے

ماں کے ترستے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا

زندگی انسان کو بعض اوقات ایسے کٹھن موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہمارے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود دل بالکل ویران ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی حلیمہ کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے ٹوٹے ہوئے گھر میں بیٹھ کر لکڑی کا پرانا چرخہ چلایا کرتی تھی۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا، ریحان، جسے اس نے اپنے دن رات کی سخت محنت، بھوکے پیٹ سو کر اور لوگوں کے کپڑے سی کر شہر کی بڑی یونیورسٹی میں پڑھایا تھا۔ مائی حلیمہ کا بس ایک ہی خواب تھا کہ اس کا بیٹا بڑا افسر بنے اور اس کی زندگی کی ساری مشقتیں رائیگاں نہ جائیں۔ ریحان نے بھی اپنی ماں کے اس خواب کو سچ کر دکھایا اور پڑھ لکھ کر شہر میں ایک بہت بڑا مینیجر بن گیا۔

شہر کی چکاچوند اور اونچی عمارتوں میں جا کر ریحان اپنی بوڑھی ماں کو آہستہ آہستہ بھول گیا۔ شروع میں فون پر ہفتے میں ایک بار بات ہوتی تھی، پھر مہینے میں، اور پھر یہ رابطہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ مائی حلیمہ ہر روز شام کو دروازے پر بیٹھ کر آنے جانے والے ہر شخص کو دیکھتی، اس امید پر کہ شاید اس کا بیٹا اسے ملنے آ جائے۔ وہ ہر عید پر ایک نیا کرتا تیار رکھتی کہ ریحان آئے گا تو اسے تحفے میں دے گی، مگر اس کے گھر کے دروازے پر صرف ہوا کے جھونکے ہی دستکیتے۔ مائی حلیمہ نے اپنے بیٹے کو کئی خط لکھے، مگر ایک کا بھی جواب نہیں آیا کیونکہ ریحان کے لیے وہ پرانے خط اب کسی اہمیت کے حامل نہیں رہے تھے۔

برسوں بیت گئے، مائی حلیمہ کی بینائی کمزور ہو گئی اور ہڈیاں کمزور پڑ گئیں۔ ایک دن سردی کی رات تھی، جب سینے میں اٹھنے والے شدید درد نے ان کی سانسوں کو جکڑ لیا۔ آخری وقت میں انہوں نے اپنے ایک پڑوسی کو بلا کر ایک خط ریحان کے نام لکھوایا اور کہا کہ یہ میری آخری امانت میرے بیٹے تک پہنچا دینا۔ اگلے ہی دن مائی حلیمہ کی میت اسی پرانے گھر کے صحن میں رکھی تھی جہاں انہوں نے اپنی پوری جوانی گزار دی تھی۔ پڑوسیوں نے بڑی مشکل سے نمبر تلاش کر کے ریحان کو اطلاع دی کہ اس کی ماں کا انتقال ہو چکا ہے۔

ریحان جب اگلی صبح اپنی قیمتی گاڑی میں بیٹھ کر گاؤں پہنچა، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ چہرے پر اس بات کی شکن تھی کہ اس کا ضروری آفس کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ جب وہ اپنے گھر کے چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوا، تو چرخے کے پاس وہی پرانا خط اور ایک نیا سینا ہوا کرتا رکھا تھا۔ اس نے بے دلی سے لفافہ کھولا اور پڑھنا شروع کیا: "میرے پیارے بیٹے ریحان، مجھے معلوم ہے تم بہت مصروف ہو، اور اب تم میری طرح کی بوڑھی ماں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ میں صرف تمہیں ایک بار اپنے آخری وقت میں دیکھنا چاہتا تھی، تاکہ تمہیں بتا سکوں کہ تم ہی میری کائنات تھے۔ خیر، جہاں بھی رہو خوش رہو، اس بوڑھی ماں کی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔"

خط کے آخری الفاظ پڑھتے ہی ریحان کے ہاتھ کانپ اٹھے۔ اس کی نظریں میز پر رکھے اس تحفے پر پڑیں جو اس کی ماں نے برسوں سے اپنی خون پسینے کی کمائی سے جوڑ کر سنبھال رکھا تھا۔ اس کے اندر کا سارا غرور اور تکبر ایک ہی لمحے میں ریزہ ریزہ ہو گیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اپنے ماں کے بے جان پیروں سے لپٹ کر معافی مانگنے لگا، مگر اب وقت بہت آگے نکل چکا تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے مٹی کے نیچے سو چکی تھیں۔ یہ کہانی ہمیں یہ دردناک سبق دیتی ہے کہ والدین کی قدر ان کی زندگی میں ہی کر لو، کیونکہ ان کے جانے کے بعد دنیا کا سارا سونا بھی ان کی ایک دعا کی قیمت ادا نہیں کر سکتا۔

کہانی کا نام: پرانا چرخہ اور ماں کی آخری دعا

ہیرو: مائی حلیمہ (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: ریحان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments