پرانا قلم اور استاد کی قربانی
روشن چراغ اور اندھیرے راستے
استاد کے گھسے ہوئے ہاتھ اور شاگرد کی بڑی منزل
زندگی ہمیں بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملواتی ہے جو خود اندھیرے میں رہ کر دوسروں کے راستوں کو روشن کرتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے پرائمری اسکول کے ماسٹر عنایت کی، جو گاؤں کے ایک ٹوٹے پھوٹے کمرے میں بچوں کو تعلیم دیا کرتا تھا۔ ماسٹر عنایت کی زندگی کا مقصد صرف علم کی شمع جلانا تھا۔ اس کا کوئی اپنا اولاد نہیں تھا، اس لیے وہ اپنے ہر طالب علم کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتا تھا۔ ان میں ایک ہونہار بچہ دانش بھی تھا، جس کی غربت دیکھ کر ماسٹر صاحب نے اس کی فیس معاف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی کتابوں اور کاپیوں کا خرچ بھی خود اٹھایا۔
ماسٹر عنایت نے دن رات محنت کر کے دانش کو اس قابل بنایا کہ وہ شہر کے ایک بڑے کالج میں اسکالرشپ حاصل کر سکے۔ جب دانش شہر چلا گیا اور اس کی زندگی میں ترقی کے نئے دروازے کھلے، تو وہ آہستہ آہستہ اپنے بوڑھے استاد کو بھول گیا۔ شروع میں خط اور سلام دعا کا جو سلسلہ تھا، وہ مہینوں اور پھر برسوں کے وقفے میں بدل گیا۔ ماسٹر عنایت ہر روز اسکول کے پرانے برآمدے میں بیٹھ کر اپنے شاگرد کے خط کا انتظار کرتے، یا ٹی وی پر بڑے لوگوں میں دانش کو دیکھ کر فخر سے مسکراتے۔ انہوں نے دانش کے لیے ایک پرانا، قیمتی چاندی کا قلم سنبھال کر رکھا تھا جو انہیں خود اپنے استاد سے ملا تھا، وہ چاہتے تھے کہ جب دانش بڑا افسر بنے تو وہ اسے یہ تحفہ دیں۔
برسوں بیت گئے، ماسٹر عنایت کی صحت خراب ہو گئی اور وہ بستر سے لگ گئے۔ زندگی کی آخری سانسوں میں بھی ان کی زبان پر صرف دانش کا نام تھا۔ انہوں نے گاؤں کے ایک شخص کے ذریعے دانش کو پیغام بھجوایا کہ ان کا استاد آخری وقت میں اسے یاد کر رہا ہے۔ دانش جب چند دن بعد اپنی شان دار گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو ماسٹر عنایت کی میت کو اٹھائے جانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ دانش کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں آیا، بلکہ دل میں بس یہی خیال تھا کہ اس کا وقت ضائع ہو گیا۔
جب وہ ماسٹر صاحب کے اسکول والے کمرے میں گیا، تو میز پر وہی پرانا چاندی کا قلم اور ایک خط رکھا ملا۔ دانش نے جب وہ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے دانش، مجھے خوشی ہے کہ تم نے میرا خواب پورا کر دیا۔ میں جانتا ہوں تم بہت مصروف ہو، اس لیے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ یہ پرانا قلم میری آخری نشانی ہے، اسے سنبھال لینا۔ ہمیشہ خوش رہنا۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی دانش کے اندر کا سارا غرور اور خودغرضی ایک لمحے میں ٹوٹ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور ماسٹر صاحب کے کفن سے لپٹ کر معافی مانگنے لگا، مگر اب وقت بہت آگے نکل چکا تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے۔
کہانی کا نام: پرانا قلم اور استاد کی قربانی
ہیرو: ماسٹر عنایت (علم اور بے لوث محبت کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: دانش (پچھتانے والا شاگرد)
0 Comments
Thanks for your feedback.