پرانا جوتا اور باپ کی قربانی
پٹڑی کے کنارے جڑے خواب اور ٹوٹے جوتے
باپ کے کھردرے ہاتھ اور بیٹے کی بڑی منزلیں
زندگی بعض اوقات ہمیں وہ راستے دکھاتی ہے جہاں کانٹے تو ہمارے حصے میں آتے ہیں، مگر ہم دوسروں کی راہوں میں پھول بچھا رہے ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک غریب بوڑھے موچی بابا رحمت کی، جو شہر کے ایک مصروف بازار کے کونے میں بیٹھ کر پھٹے ہوئے جوتے سیتا اور ان پر پالش کرتا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا، سہیل، جسے اس نے اپنی تنگی، غربت اور دن رات کی سخت محنت کے باوجود شہر کی بہترین یونیورسٹی میں پڑھایا تھا۔ بابا رحمت کا بس ایک ہی خواب تھا کہ اس کا بیٹا بڑا افسر بنے اور اس کی زندگی کی ساری مشقتیں رائیگاں نہ جائیں۔ سہیل نے بھی اپنے باپ کے اس خواب کو سچ کر دکھایا اور پڑھ لکھ کر شہر میں ایک بڑا مینیجر بن گیا۔
شہر کی چکاچوند اور اونچی عمارتوں میں جا کر سہیل اپنے بوڑھے باپ کو آہستہ آہستہ بھول گیا۔ شروع میں فون پر ہفتے میں ایک بار بات ہوتی تھی، پھر مہینے میں، اور پھر یہ رابطہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ بابا رحمت ہر روز دکان کے باہر اسی پرانے لکڑی کے تختے پر بیٹھ کر آنے جانے والے ہر شخص کے جوتے دیکھتا، اس امید پر کہ شاید اس کا بیٹا اپنے جوتے ٹھیک کروانے یا صرف اسے ملنے آ جائے۔ وہ ہر عید پر ایک نیا جوتا تیار رکھتا کہ سہیل آئے گا تو اسے تحفے میں دے گا، مگر اس کی دکان کے دروازے پر صرف دھول اور تنہائی ہی دستک دیتی تھی۔ بابا رحمت نے اپنے بیٹے کو کئی خط لکھے، مگر ایک کا بھی جواب نہیں آیا کیونکہ سہیل کے لیے وہ پرانے خط اب کسی اہمیت کے حامل نہیں رہے تھے۔
برسوں بیت گئے، بابا رحمت کی بینائی کمزور ہو گئی اور ہاتھوں کے جوڑ درد کرنے لگے۔ ایک دن سردی کی رات تھی، جب سینے میں اٹھنے والے شدید درد نے ان کی سانسوں کو جکڑ لیا۔ آخری وقت میں انہوں نے اپنے ایک پڑوسی کو بلا کر ایک خط سہیل کے نام لکھوایا اور کہا کہ یہ میری امانت میرے بیٹے تک پہنچا دینا۔ اگلے ہی دن بابا رحمت کی میت اسی پرانے دکان کے کونے میں رکھی تھی جہاں انہوں نے اپنی پوری جوانی گزار دی تھی۔ پڑوسیوں نے بڑی مشکل سے نمبر تلاش کر کے سہیل کو اطلاع دی کہ اس کے باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔
سہیل جب اگلی صبح اپنی قیمتی گاڑی میں بیٹھ کر دکان پر پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ چہرے پر اس بات کی شکن تھی کہ اس کا ضروری آفس کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ جب وہ اپنے باپ کی چھوٹی سی کوٹھری میں داخل ہوا، تو میز پر وہی پرانا خط اور ایک نیا چمکماتا ہوا چمڑے کا جوتا رکھا تھا۔ اس نے بے دلی سے لفافہ کھولا اور پڑھنا شروع کیا: "میرے پیارے بیٹے سہیل، مجھے معلوم ہے تم بہت مصروف ہو، اور اب تم میرے جیسے بوڑھے موچی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ میں صرف تمہیں ایک بار اپنے آخری وقت میں دیکھنا چاہتا تھا، تاکہ تمہیں بتا سکوں کہ تم ہی میری کائنات تھے۔ خیر، جہاں بھی رہو خوش رہو، اس بوڑھے باپ کی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔"
خط کے آخری الفاظ پڑھتے ہی سہیل کے ہاتھ کانپ اٹھے۔ اس کی نظریں میز پر رکھے اس تحفے پر پڑیں جو اس کے باپ نے برسوں سے اپنی خون پسینے کی کمائی سے جوڑ کر سنبھال رکھا تھا۔ اس کے اندر کا سارا غرور اور تکبر ایک ہی لمحے میں ریزہ ریزہ ہو گیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اپنے باپ کے بے جان پیروں سے لپٹ کر معافی مانگنے لگا، مگر اب وقت بہت آگے نکل چکا تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے مٹی کے نیچے سو چکے تھے۔ یہ کہانی ہمیں یہ دردناک سبق دیتی ہے کہ والدین کی قدر ان کی زندگی میں ہی کر لو، کیونکہ ان کے جانے کے بعد دنیا کا سارا سونا بھی ان کی ایک دعا کی قیمت ادا نہیں کر سکتا۔
کہانی کا نام: پرانا جوتا اور باپ کی قربانی
ہیرو: بابا رحمت (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: سہیل (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.