پرانا کھلونے والا اور باپ کی محبت
محبت کے کھلونے اور زندگی کی حقیقت
باپ کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کے بڑے خواب
زندگی بعض اوقات ہمیں وہ سب کچھ سکھا دیتی ہے جو بڑی سے بڑی کتابیں بھی نہیں سکھا سکتیں۔ یہ کہانی ہے ایک غریب بوڑھے کھلونے والے بابا رحیم اور اس کے جوان بیٹے شہروز کی، جو شہر کے ایک نامور کالج میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بابا رحیم سارا دن گلیوں میں گھوم کر لکڑی کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے کھلونے اور گڑیاں بیچا کرتا تھا۔ اس کی اپنی زندگی تو غربت اور تنگی میں گزری تھی، مگر اس کا خواب تھا کہ اس کا اکلوتا بیٹا شہروز بڑا ہو کر جج بنے اور معاشرے میں عزت کا مقام حاصل کرے۔
بابا رحیم نے اپنی تمام کمائی شہروز کی پڑھائی اور فیسوں پر نچھاور کر دی۔ وہ خود پھٹے ہوئے کپڑے پہنتا اور اکثر رات کو بھوکے پیٹ سو جاتا، مگر شہروز کو کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ شہروز جب کالج کے اچھے ماحول میں پہنچا، تو اس کے دوست بڑے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ آہستہ آہستہ شہروز کو اس بات پر شرم آنے لگی کہ اس کا باپ سڑکوں پر کھلونے بیچتا ہے۔ جب کبھی بابا رحیم اپنے بیٹے سے ملنے کالج کے باہر جاتا اور اسے ہاتھ سے بنا ہوا کوئی کھلونا محبت سے دیتا، تو شہروز منہ پھیر لیتا اور کہتا کہ آپ یہاں کیوں آتے ہیں، میرے دوست دیکھ لیں گے تو کیا سوچیں گے۔ بابا رحیم اپنے بیٹے کی آنکھوں میں اپنے لیے چھپی ناگواری دیکھ کر اندر سے ٹوٹ جاتا، مگر لبوں پر مسکراہٹ سجا کر واپس لوٹ جاتا کہ اس کا بیٹا اب بڑا افسر بننے والا ہے۔
وقت تیزی سے گزرا اور وہ دن بھی آ گیا جب شہروز نے اپنی پڑھائی مکمل کر کے ایک بڑا امتحان پاس کر لیا اور وہ وکیل بن گیا۔ اس کی کامیابی پر ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر کے بڑے بڑے معزز لوگ شریک ہوئے۔ شہروز نے اپنے اس جشن میں اپنے غریب باپ کو بلانے سے گریز کیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اس کے مہمان اس کے بوڑھے اور عام لباس والے باپ کا مذاق اڑائیں گے۔ پارٹی اپنے عروج پر تھی کہ ہال کے دروازے پر دستک ہوئی۔ جب دروازہ کھلا تو سامنے بابا رحیم کھڑے تھے، ہاتھ میں لکڑی کا بنا ہوا ایک خاص کھلونا تھا جس پر انہوں نے اپنے ہاتھ سے "بیٹا شہروز - مبارک ہو" کندہ کیا تھا۔
شہروز مہمانوں کے سامنے غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اپنے باپ کو سخت لہجے میں طعنے دینے لگا کہ آپ کو یہاں کس نے بلایا ہے، میری اتنی بڑی محفل کو خراب کرنے کے لیے کیوں آ گئے ہیں۔ بابا رحیم نے کانپتے ہاتھوں سے وہ کھلونا میز پر رکھا اور ایک بھی لفظ کہے بغیر وہاں سے چپ چاپ مڑ گئے۔ رات گئے جب تقریب ختم ہوئی، تو شہروز کا ایک دوست اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یار تمہارے پاپ کتنے عظیم ہیں، پچھلے سال جب میں بہت پریشان تھا اور میری فیس ادا نہیں ہو رہی تھی، تو یہی بزرگ مجھ سے ملے تھے اور انہوں نے اپنے پاس جمع کی ہوئی ساری پونجی مجھے دے کر کہا تھا کہ میرا بیٹا بھی پڑھ رہا ہے، کسی کی پڑھائی نہیں رکنی چاہیے۔
یہ سنتے ہی شہروز کا دل دھک سے رہ گیا اور اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ وہ بھاگتا ہوا باہر آیا، لیکن تب تک بابا رحیم جا چکے تھے۔ اگلے ہی دن یہ خبر پہنچی کہ بابا رحیم سڑک پار کرتے ہوئے ایک گاڑی کی زد میں آ گئے ہیں اور اسپتال میں دم توڑ چکے ہیں۔ شہروز جب اسپتال پہنچا، تو اس کے باپ کی لاش کے پاس وہی لکڑی کا کھلونا اور ایک پرانی ڈائری پڑی تھی، جس پر بابا رحیم نے آخری بار لکھا تھا: "مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا وکیل بن گیا، چاہے وہ مجھے اپنا باپ نہ مان سکے۔" شہروز اپنے باپ کے بے جان جسم سے لپٹ کر اتنی زار و قطار رویا کہ اس کی ساری انا اور غرور ہمیشہ کے لیے خاک میں مل گئے، مگر اب پچھتاوے کے سوا اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا کھلونے والا اور باپ کی محبت
ہیرو: بابا رحیم (بے لوث قربانی اور محبت کا پیکر)
ولن: غرور اور دنیاوی خودغرضی
سائیڈ کردار: شہروز (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.