پرانا خط اور ماں کا انتظار
وقت کی دہلیز پر بکھری ماں کی امیدیں
خاموش آنسو، پرانی یادیں اور بیٹے کا پچھتاوا
زندگی بعض اوقات ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہمارے پاس سب کچھ ہوتا ہے سوائے اس شخص کے جس کی دعاؤں سے ہماری تقدیر سنورتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی اور اس کے اکلوتے بیٹے وقار کی، جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہر چلا گیا تھا اور وہیں ایک بڑی نوکری ملنے کے بعد بس گیا۔ شہر کی چکاچوند روشنیوں اور جدید زندگی نے وقار کو اس قدر بدل دیا کہ وہ اپنے گاؤں، اپنی مٹی اور اپنی بوڑھی ماں کو بالکل بھول گیا۔
مائی بی بی ہر روز شام کو گھر کے باہر دروازے پر بیٹھ جاتی اور آنے جانے والے ہر شخص سے اپنے بیٹے کا پوچھتی۔ اس کی آنکھیں ہر پل دروازے پر لگی رہتیں کہ شاید آج اس کا وقار اسے دیکھنے آ جائے۔ وہ اپنے بیٹے کو خط لکھا کرتی تھی، لیکن وقار کے پاس ان خطوں کا جواب دینے کا بھی وقت نہیں تھا۔ اسے لگتا تھا کہ ماں کے پرانے خیالات اور اس کا بار بار فون کرنا اس کی پروفیشنل لائف میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ آہستہ آہستہ وقار نے ماں سے رابطہ بالکل ختم کر دیا۔
برسوں بیت گئے، ایک دن وقار کو خیال آیا کہ بہت ہو گیا، اب جا کر ماں کو دیکھ لینا چاہیے۔ وہ اپنی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ اپنے پرانے گھر کے سامنے پہنچا، تو گھر پر تالا پڑا ہوا تھا اور صحن میں سوکھے پتوں کا ڈھیر لگا تھا۔ پڑوسیوں سے پتہ چلا کہ اس کی ماں کا انتقال دو دن پہلے ہو چکا ہے اور وہ اپنے آخری وقت میں بھی صرف "وقار، میرے بیٹے" کا نام پکار رہی تھی۔
وقار جب گھر کے اندر داخل ہوا، تو اسے ماں کے تکیے کے نیچے ایک پرانا لفافہ ملا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے جب وہ خط کھولا، تو اس میں ماں کے ہاتھ کا لکھا ہوا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے، مجھے معلوم ہے تم بہت مصروف ہو، لیکن میری آنکھیں مرتے دم تک تمہارا انتظار کرتی رہیں گی۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو، تمہاری ماں نے تمہیں معاف کر دیا۔" یہ الفاظ پڑھ کر وقار کا سینہ پھٹ گیا اور وہ زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، مگر اب اس پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ جو ہستی اس کی دنیا کی سب سے بڑی دولت تھی، وہ ہمیشہ کے لیے مٹی میں سو چکی تھی۔
کہانی کا نام: پرانا خط اور ماں کا انتظار
ہیرو: مائی بی بی (انتظار اور بے لوث محبت کی پیکر ماں)
ولن: غفلت اور وقت کی بے رحمی
سائیڈ کردار: وقار (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.