پرانا ہارمونیم اور ماں کی آخری لوری
سروں کا سفر اور یادوں کے بکھرے تار
ماں کی ادھوری خواہش اور بیٹے کی بڑی کامیابی
زندگی کے سر جب بے سرے ہو جائیں تو انسان اندر سے بالکل خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک اکیلی ماں اور اس کے اکلوتے بیٹے دانیال کی، جو موسیقی کا بے حد شوقین تھا اور شہر کے سب سے بڑے سنگر بننے کا خواب دیکھتا تھا۔ دانیال کی ماں، زینت، ایک چھوٹے سے گھر میں سلائی مشین چلا کر اور لوگوں کے کپڑے سی کر گھر کا خرچ چلاتی تھی۔ اس کے پاس دنیا کی کوئی آسائش نہیں تھی، سوائے ایک پرانے، دیمک زدہ ہارمونیم کے جو اسے اپنے شوہر کی نشانی کے طور پر ملا تھا۔ زینت راتوں کو جب بھی تھک جاتی، تو اسی پرانے ہارمونیم کے سروں پر دانیال کے لیے محبت بھری لوری گایا کرتی تھی۔
جیسے جیسے دانیال بڑا ہوا، اس کے خواب بھی بڑے ہوتے گئے۔ اسے شہر کے ایک بڑے اکیڈمی میں داخلہ مل گیا، لیکن فیس اتنی زیادہ تھی کہ ماں کی سلائی مشین کی کمائی اس کے سامنے بہت چھوٹی پڑ جاتی تھی۔ زینت نے اپنے بیٹے کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیے، یہاں تک کہ اس نے اپنے ہاتھ کے زیورات اور گھر کا سامان بھی بیچ دیا۔ دانیال نے بھی بہت محنت کی اور بالآخر وہ دن آ گیا جب وہ شہر کا ایک نامور گلوکار بن گیا۔ اس کے پاس اب پیسہ، شہرت اور بڑی گاڑیاں تھیں، لیکن اس کی اس نئی زندگی میں اب اس کی بوڑھی ماں اور اس پرانے ہارمونیم کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہ اپنی کامیابی کی چکاچوند میں اتنا اندھا ہو چکا تھا کہ اسے یاد ہی نہیں رہا کہ اس کے اس مقام تک پہنچنے کے پیچھے کس ماں کے خون پسینے کی محنت شامل تھی۔
ماں گاؤں کے اسی چھوٹے سے گھر میں اکیلی بیٹھی اپنے بیٹے کے گانے ٹی وی پر سنتی اور فخر سے مسکراتی۔ وہ چاہتی تھی کہ بس ایک بار اس کا بیٹا اس سے ملنے آئے، مگر دانیال کے پاس اپنی پرانی ماں کے لیے ایک سیکنڈ کا بھی وقت نہیں تھا۔ ایک دن زینت کی طبیعت اچانک بہت زیادہ خراب ہو گئی، پڑوسیوں نے دانیال کو فون کر کے اطلاع دی۔ دانیال جب تک کار میں بیٹھ کر گاؤں پہنچا، اس کی ماں دنیا سے جا چکی تھی۔ اس کے گھر کے صحن میں ماں کا جنازہ رکھا تھا اور پاس ہی وہ پرانا، ٹسا ہوا ہارمونیم رکھا تھا۔ دانیال پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اپنی ماں کے بے جان قدموں میں گر گیا۔
جب اس نے ماں کا کمرہ صاف کیا، تو اسے وہاں ایک صندوقچه ملا جس میں اس کی بچپن کی تما م یادگاریں اور ایک خط پڑا تھا۔ خط میں لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے دانیال، مجھے فخر ہے کہ تم نے میرا خواب پورا کر دیا۔ میں جانتی ہوں تم اب بہت مصروف ہو، اس لیے میں نے کبھی تمہیں تنگ نہیں کیا۔ میرا یہ پرانا ہارمونیم سنبھال کر رکھنا، یہ تمہاری ماں کی وہ سانسیں ہیں جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔ خوش رہنا۔" دانیال نے اس ہارمونیم کو اپنے سینے سے لگا لیا اور اتنے زور سے رویا کہ اس کی ساری شہرت اور غرور پانی کے ایک قطرے کی طرح بہہ گیا۔
کہانی کا نام: پرانا ہارمونیم اور ماں کی آخری لوری
ہیرو: زینت (بے لوث محبت اور قربانی کی پیکر ماں)
ولن: شہرت کی اندھی دوڑ اور بے حسی
سائیڈ کردار: دانیال (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.