Urdu Khaniya - Digital Kahani - Episode 5

پرانا ٹرک اور باپ کی محبت

روڈ کے مسافر اور دل کی ان کہی داستان

مٹی سے لتھڑے ہاتھ اور بیٹے کا غرور

زندگی کبھی کبھی ایسے سچ سامنے لے آتی ہے جنہیں دیکھ کر انسان کے پاؤں تلے زمین نکل جاتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے ٹرک ڈرائیور دین محمد اور اس کے جوان بیٹے سلمان کی، جس نے شہر کی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ دین محمد نے دن رات ہائی وے کی دھول پھانک کر، راتوں کو جاگ کر اور پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بیٹے کو پڑھایا تھا تاکہ وہ ایک دن بڑا افسر بنے۔ اس کا پورا سرمایہ ایک پرانا، کھٹارا ٹرک تھا جس پر اس نے اپنے خون پسینے کی کمائی لگا دی تھی۔

سلمان جب شہر کے کالج میں پہنچا، تو اس نے دیکھا کہ اس کے دوستوں کے پاس مہنگی گاڑیاں ہیں اور ان کے باپ بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ آہستہ آہستہ سلمان کو اپنے باپ کے پیشے اور اس پرانے ٹرک سے شرم آنے لگی۔ جب دین محمد کبھی اپنے بیٹے سے ملنے یونیورسٹی جاتا، تو سلمان اسے گیٹ کے باہر ہی روک دیتا اور کہتا کہ آپ یہاں اس پرانے ٹرک کو لے کر کیوں آتے ہیں، میرے دوست کیا سوچیں گے۔ دین محمد اپنے بیٹے کی آنکھوں میں اپنے لیے چھپی ناگواری دیکھ لیتا، مگر وہ کچھ کہتا نہیں، بس ایک اداس مسکراہٹ چہرے پر سجا کر واپس لوٹ جاتا۔ اس کا دل کہتا کہ میرا بیٹا بڑا آدمی بن رہا ہے، اسے مجھ پر غصہ کرنے کا حق ہے۔

ایک دن سلمان کی سالگرہ تھی۔ اس نے اپنے تمام امیر دوستوں کو ایک بڑی پارٹی میں بلایا۔ اس نے اپنے باپ کو دعوت دینے سے بھی گریز کیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اس کے دوست اس کے بوڑھے اور عام لباس والے باپ کا مذاق اڑائیں گے۔ پارٹی اپنے عروج پر تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ سلمان نے دروازہ کھولا تو سامنے دین محمد کھڑے تھے، کپڑوں پر مٹی اور گریبان پر انجن کا کالک لگا ہوا تھا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لفافہ تھا جس میں اس کی پوری زندگی کی جمع پੂੰجی سے خریدی گئی ایک معمولی سی گھڑی تھی۔

سلمان غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اپنے باپ کو مہمانوں کے سامنے ہی طعنے دینے لگا کہ آپ کو یہاں کس نے بلایا ہے، میری لائف خراب کرنے کے علاوہ آپ نے کیا کیا ہے۔ دین محمد نے کانپتے ہاتھوں سے وہ لفافہ میز پر رکھا اور ایک بھی لفظ کہے بغیر واپس پلٹ گیا۔ رات گئے جب پارٹی ختم ہوئی، تو سلمان کا ایک قریبی دوست اس کے پاس آیا اور کہا کہ یار تمہارے پاپ کتنے عظیم ہیں، پچھلے ہفتے جب میرا ٹائر پنکچر ہو گیا تھا اور میں ہائی وے پر پھنس گیا تھا، تو یہی انکل آئے تھے جنہوں نے نہ صرف میری مدد کی بلکہ مجھے اپنے بیٹے کی طرح گلے لگا کر کھانا بھی کھلایا تھا۔ انہوں نے فخر سے کہا تھا کہ میرا بیٹا بھی شہر میں پڑھ رہا ہے۔

یہ سنتے ہی سلمان کا سینہ پھٹ گیا۔ وہ بھاگتا ہوا باہر آیا، لیکن تب تک اس کا باپ اپنے پرانے ٹرک کو لے کر جا چکا تھا۔ اگلے ہی دن ایک ہولناک خبر آئی کہ ہائی وے پر ایک حادثے میں وہی پرانا ٹرک ایک کھائی میں گر گیا ہے اور ڈرائیور موقع پر ہی دم توڑ چکا ہے۔ سلمان جب جائے حادثہ پر پہنچا، تو باپ کی لاش کے پاس وہی خون سے لتھڑی ہوئی گھڑی اور ایک خط پڑا تھا جس میں لکھا تھا: "بیٹا، مجھے معاف کر دینا، میں تمہارے لائق باپ نہیں بن سکا۔ بس ہمیشہ خوش رہنا۔" سلمان نے اپنے باپ کے بے جان جسم سے لپٹ کر اتنی زار و قطار رویا کہ اس کے آنسوؤں نے اس کے سارے غرور کو ہمیشہ کے لیے مٹی میں ملا دیا۔

Post a Comment

0 Comments