Urdu Khaniya - Digital Kahani - Episode 4

مٹی کا دیا اور باپ کی خاموشی

اندھیری راتوں میں جلنے والا امید کا دیا

باپ کے کھردرے ہاتھ اور بیٹے کی بڑی منزلیں

زندگی بعض اوقات ایسے کٹھن امتحان لیتی ہے جہاں انسان درد کو بیان کرنے کے لیے الفاظ تلاش کرتا رہ جاتا ہے اور زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے اور مفلوک الحال باپ اور اس کے جوان بیٹے زین کی، جو پڑھ لکھ کر شہر کے ایک بڑے ادارے میں آفیسر بن چکا تھا۔ زین کا باپ، ماسٹر اسلم، گاؤں کے اسکول میں چپراسی تھا اور اس نے اپنی پوری زندگی کٹھن حالات میں گزار دی تھی۔ اس نے خود پھٹے ہوئے کپڑے پہنے، سردی کی راتوں میں سکون کی نیند قربان کی، اور پیٹ پر پتھر باندھ کر بیٹے کو اس مقام پر پہنچایا تھا کہ آج وہ فخر سے جی سکے۔

زین جب شہر چلا گیا اور اس کی زندگی بدل گئی، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کو آہستہ آہستہ بھلا دیا۔ وہ مہینے میں ایک آدھا فون کر کے اپنی مصروفیت کا رونا روتا، اور اپنے باپ کی ان تھکی ہوئی آواز میں پوچھی جانے والی خیریت کو بھی بوریت سمجھ کر جلدی فون بند کر دیتا۔ اسے لگتا تھا کہ اس کا باپ اب اس کی جدید لائف اسٹائل کے مطابق نہیں ہے، اس کے پہننے کا انداز اور اس کی باتیں اس کے دوستوں کے سامنے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ماسٹر اسلم اپنے بیٹے کی اس بے توجہی کو محسوس کرتا، لیکن لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجا کر دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا کہ اس کا بیٹا کامیاب ہو گیا ہے۔

ایک دن بارش کی طوفانی رات تھی، دروازے پر دستک ہوئی۔ زین نے دروازہ کھولا تو سامنے اس کا باپ بھیگا ہوا کھڑا تھا، ہاتھ میں ایک پرانا کپڑے کا تھیلا تھا جس میں کچھ سوکھے آم اور اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی مٹھائی تھی۔ زین کے چہرے پر خوشی کی بجائے ناگواری کے آثار ابھر آئے کیونکہ اس کے گھر پر اس کے چند اہم آفس کے مہندس اور دوست بیٹھے ہوئے تھے۔ زین نے طنزیہ لہجے میں باپ سے کہا کہ آپ کو اس طرح اچانک آنے کی کیا ضرورت تھی، میرے پاس مہمان ہیں، آپ ذرا سلیقے سے رہا کریں۔ ماسٹر اسلم اپنے بیٹے کے ان سرد اور تلخ الفاظ کو سن کر اندر سے ٹوٹ گیا۔ اس نے ایک بار بھی پلٹ کر اپنے بیٹے کی طرف نہیں دیکھا، بس چپ چاپ تھیلا وہیں رکھا اور بارش میں ہی واپس پلٹ گیا۔

تین دن بعد گاؤں سے فون آیا کہ ماسٹر اسلم کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ اسپتال میں ہیں۔ زین گھبرا کر جب گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کی میت اس کا انتظار کر رہی تھی۔ زین جب اپنے باپ کے کمرے میں گیا، تو اس کی میز پر ایک پرانی ڈائری اور ایک خط پڑا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ خط کھولا، جس میں لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے زین، مجھے معلوم ہے کہ میں تمہاری بڑی دنیا میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ میں نے تمہیں پڑھانے کے لیے لوگوں کے طعنے سہے ہیں تاکہ میرا بیٹا کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے۔ اس دن بارش میں میں صرف تمہیں دیکھنے آیا تھا کیونکہ میرا دل تمہیں یاد کر کے گھبرا رہا تھا، مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہاری محفل خراب کی۔ اب میں تمہیں کبھی تنگ کرنے نہیں آؤں گا۔ اپنا خیال رکھنا۔"

یہ خط پڑھتے ہی زین کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ اس نے اپنے باپ کی لاش سے لپٹ کر اتنے زور سے رونا شروع کیا کہ اس کا پورا وجود ہل گیا، مگر اب پچھتاوے کے علاوہ کچھ باقی نہیں بچا تھا۔ یہ کہانی ہمیں یہ دردناک سبق دیتی ہے کہ دنیا کا ہر باپ اپنی اولاد کے لیے اپنی پوری زندگی جلا دیتا ہے، لیکن افسوس کہ اولاد کو اس کی قدر تب ہوتی ہے جب وہ مٹی کے نیچے سو جاتا ہے۔

کہانی کا نام: مٹی کا دیا اور باپ کی خاموشی

ہیرو: ماسٹر اسلم (بے لوث قربانی اور محبت کی انتہا)

ولن: غفلت اور دنیاوی دوڑ

سائیڈ کردار: زین (پچھتانے والا اور ناگوار بیٹا)

Post a Comment

0 Comments