Urdu Khaniya - Digital Kahani - Episode 3

پرانی ڈائری اور ماں کی ادھوری محبت

وقت کی گرد میں چھپی ماں کی ممتا

ایک پرانی ڈائری کے اوراق اور بیٹے کا پچھتاوا

زندگی کتنی عجیب ہے نا! ہم ان لوگوں کو سب سے زیادہ نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمارے لیے اپنی پوری زندگی قربان کر دیتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ارمان اور اس کی ماں کی، جن کے درمیان فاصلے اس وقت بڑھ گئے جب ارمان نے شہر جا کر بڑی نوکری حاصل کر لی اور جدید دنیا کی دوڑ میں اپنے گھر کو بھول گیا۔ ارمان کی ماں، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر میں اکیلی رہتی تھی، ہر روز اپنے بیٹے کے فون کا انتظار کرتی۔ اس کی دن بھر کی دعا صرف یہی ہوتی کہ اس کا بیٹا ہمیشہ خوش اور آباد رہے۔ لیکن ارمان کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ نکالنے کا بھی وقت نہیں تھا۔ اسے لگتا تھا کہ ماں کی باتیں پرانی اور فضول ہیں، اور اس کا فون کرنا صرف وقت کا ضیاع ہے۔

وقت تیزی سے گزرتا گیا یہاں تک کہ ایک دن ماں کی اچانک طبیعت خراب ہونے کی خبر ملی۔ ارمان جب تک گاؤں پہنچتا، بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس کی ماں اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی تھی۔ ارمان کو اس وقت زبردست صدمہ ہوا، لیکن آنسوؤں کا اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ماں کے جنازے کے بعد جب ارمان ان کا کمرہ صاف کر رہا تھا، تو اسے ایک پرانی، جسی ہوئی ڈائری ملی۔ اس نے جب وہ ڈائری کھولی اور اس کے پنے پلٹے، تو اس کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ اس ڈائری کا ہر ایک صفحہ ماں کے ہاتھ سے لکھا ہوا تھا، لیکن وہ کوئی عام تحریر نہیں تھی۔

ماں نے اس ڈائری میں ارمان کے بچپن سے لے کر جوانی تک کی ہر بات درج کی تھی۔ کس دن ارمان کو بخار ہوا تھا، کس دن اس نے پہلی بار اسکول میں انعام جیتا تھا، اور کس دن وہ روتے ہوئے گھر آیا تھا—ہر ایک چھوٹیوٹی تفصیل تاریخ کے ساتھ لکھی ہوئی تھی۔ اور سب سے دل دہلا دینے والی بات یہ تھی کہ ڈائری کے آخری صفحے پر ماں نے لکھا تھا: "میرا بیٹا اب بہت بڑا آدمی بن گیا ہے، اس کے پاس مصروفیت بہت ہے، مجھے اس سے کوئی گلہ نہیں۔ بس میرا دل کرتا ہے کہ جب بھی وہ تھکا ہوا گھر آئے، میں اسے اپنے سینے سے لگا لوں۔ رب میرے بچے کو ہمیشہ سلامت رکھے۔"

یہ الفاظ پڑھ کر ارمان کا اندرونی وجود ٹوٹ گیا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ جس دولت کے پیچھے بھاگ رہا تھا، اس کی اصل دولت تو مٹی میں جا چکی ہے۔ اس نے اپنی بے حسی اور غرور پر ماتم کیا، مگر اب وقت کو پیچھے گھمانا ناممکن تھا۔ یہ کہانی ہمیں یہ دردناک سبق دیتی ہے کہ والدین کی قدر ان کے جانے سے پہلے کر لو، کیونکہ جب وہ چلے جاتے ہیں تو پیچھے صرف ان کی یادیں اور پچھتاوے ہی رہ جاتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments