بیوی کا انوکھا مذاق
سمیر اپنی بیوی آرزو کی بار بار ناراض ہو کر میکے چلے جانے کی عادت سے بہت تنگ آ چکا تھا۔ اس عادت سے نپٹنے کے لیے اس نے اپنی بہن عنایا اور ماں کے ساتھ مل کر آرزو پر ایک حیرت انگیز اور انوکھا مذاق کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت گھر کے سبھی افراد نے سارا دن آرزو سے بالکل بات نہ کرنے اور اسے مکمل طور پر نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اسے احساس ہو سکے کہ جب اپنوں کا رویہ سرد مہری کا شکار ہو تو کتنا دکھ ہوتا ہے۔
نظر انداز کرنے کا کٹھن عمل
اگلی صبح سے ہی گھر میں اس انوکھے مذاق کا عملی نفاذ شروع ہو گیا۔ سمیر نے صبح اٹھ کر آرزو کی طرف دیکھا تک نہیں اور نہ ہی اس کے پیار بھرے الفاظ کا کوئی جواب دیا۔ جب آرزو نے ناشتے کی میز پر اور کمرے میں سمیر کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو سمیر نے اسے بالکل نظر انداز کر دیا۔ یہاں تک کہ اس کی ساس اور نند عنایا نے بھی آرزو سے منہ موڑ لیا اور کسی نے اس سے بات نہیں کی۔ سارا دن گھر والوں کا یہ سرد رویہ دیکھ کر آرزو سخت پریشان اور غمزدہ ہو گئی۔ وہ بار بار سوچتی رہی کہ اس سے ایسی کون سی خطا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سب اس سے اس طرح کترانے لگے ہیں۔
سچ کا انکشاف اور پچھتاوا
جب شام تک کسی نے بھی اس کی ایک نہ سنی اور سمیر نے بھی اس سے لاتعلقی جاری رکھی تو آرزو کا صبر جواب دے گیا۔ وہ غصے اور رونے کی حالت میں اپنا سامان اٹھا کر ایک بار پھر میکے جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔ آرزو کو واقعی گھر سے جاتے دیکھ کر اس کی ساس اور نند گھبرا گئیں اور انہوں نے فوراً سارا سچ بتاتے ہوئے اسے روک لیا کہ یہ صرف ایک مذاق تھا۔ حقیقت جان کر آرزو کا غصہ اور حیرت دیدنی تھی، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ سب نے مل کر اس کے ساتھ پورا دن اتنا بڑا مذاق کیا ہے۔ اس نے فوراً سمیر اور باقی سب سے بولنا چھوڑ دیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی، جبکہ سمیر اپنی بیوی کی اس ناراضگی پر دل ہی دل میں پچھتانے لگا کہ اب اسے منانے کے لیے کافی محنت کرنی پڑے گی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.