آخری کھلونا اور بابو جی کا بستہ
شہر کے سب سے بڑے سکول کے باہر، جہاں روزانہ قیمتی گاڑیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، وہیں ایک کونے میں ستر سالہ ماسٹر اسلم روزانہ ایک پرانی بوری بچھا کر بیٹھتے تھے۔ ان کے پاس کوئی مہنگی چیز نہیں تھی، بس ہاتھ سے بنے ہوئے چند لکڑی کے کھلونے، مٹی کی گُڑیاں اور رنگ برنگے غبارے ہوتے تھے۔
ماضی کی یادیں اور اجڑی ہوئی دنیا
ماسٹر اسلم کبھی اسی سکول میں بچوں کو پڑھایا کرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی دنیا اس وقت اجڑ گئی جب ان کا جوان بیٹا دانش، جو باہر کے شہر میں انجینئر تھا، ایک سڑک حادثے میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ دانش کا ایک ہی بیٹا تھا، سات سالہ آیان، جسے اس کی ماں اپنے ساتھ شہر لے گئی تھی۔ بیٹی کی جدائی اور پوتے کے غم نے ماسٹر اسلم کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ اب وہ پیٹ کی آگ بجھانے اور پوتے کی یاد مٹانے کے لیے روزانہ یہ چھوٹا سا کھلونوں کا ٹھیلا سجاتے۔
ہر دوپہر جب سکول کی چھٹی ہوتی، بچے دوڑتے ہوئے باہر نکلتے۔ ماسٹر اسلم ہر آنے جانے والے بچے کو دیکھ کر سوچتے کہ کاش آیان بھی ایسا ہی ہوتا۔
ایک انجان ملاقات
ایک دوپہر، جب دھوپ تیز تھی، ایک ننھا سا بچہ سکول کے گیٹ سے نکلا اور سیدھا ماسٹر اسلم کے ٹھیلے کے پاس آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی نوٹ بک تھی اور آنکھوں میں معصومیت۔ اس نے ٹھیلے پر رکھے لکڑی کے ایک چھوٹے سے گھوڑے کو اٹھایا اور پوچھا: "بابا جی! یہ کتنے کا ہے؟"
ماسٹر اسلم نے پیار سے بچے کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولے: "بیٹا! یہ تم پیسے मत दो, بس یہ بتاؤ کہ تمہارا نام کیا ہے اور تم کون سی کلاس میں پڑھتے ہو؟"
بچے نے مسکرا کر کہا: "میرا نام آیان ہے، اور میں پہلی کلاس میں پڑھتا ہوں۔ میرے پاپا... میرے پاپا اب اس دنیا میں نہیں ہیں، اس لیے ممی مجھے اکیلا چھوڑ دیتی ہیں۔ مجھے یہ لکڑی کا گھوڑا بہت پسند آیا ہے۔"
دل کو چھو لینے والا انکشاف
آیان کا نام سن کر ماسٹر اسلم کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور گلا رُندھ گیا تھا۔ انہوں نے فوراً وہ گھوڑا اٹھایا اور آیان کے چھوٹے سے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا: "آیان... بیٹا! یہ میری طرف سے تمہارے لیے تحفہ ہے۔ رکھ لو اسے۔"
آیان خوشی سے چہک اٹھا اور اس نے عقیدت سے ماسٹر اسلم کو گلے لگا لیا۔ اسی لمحے دور سے ایک گاڑی کا ہارن بجا، اور آیان کی ماں نے گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے آواز دی: "آیان! جلدی کرو بیٹا، دیر ہو رہی ہے۔"
آیان نے ہاتھ ہلا کر کہا: "خدا حافظ بابا جی!" اور بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔
ماسٹر اسلم وہیں پتھر کے بت بنے بیٹھے رہے۔ ان کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے، لیکن دل کو ایک عجیب سا سکون مل گیا تھا۔ زندگی نے انہیں ان کا پوتا تو دور سے دکھا دیا تھا، اور اس دن کے بعد سے وہ بوڑھا ماسٹر ہر روز سکول کے باہر اس ننھے گاہک کے آنے کا انتظار کرنے لگا، کیونکہ اب وہ کھلونا بیچنے والا نہیں، بلکہ اپنے پوتے سے ملنے والا ایک دادا بن چکا تھا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.