Urdu Kahania - Digital Kahani - Urdu Kahani

ریشم کا رومال اور ماں کی یاد

پرانا صندوق اور بند دروازے

ماں کے کانپتے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے تو وہ اکثر اپنے ماضی کے ان تمام چھوٹے چھوٹے تحفوں کو بھول جاتا ہے جو اس کے پیاروں نے اپنی ہر ضرورت کو مار کر اسے دیے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی سکینہ بی بی کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال گھر میں لکڑی کے ایک پرانے صندوق کے پاس اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا طارق تھا، جسے مائی سکینہ بی بی نے لوگوں کے گھروں میں سلائی کر کے، خود راتوں کو جاگ کر ریشم کے کپڑے جوڑ کر اور ایک ایک روپیہ بچا کر شہر کے اعلیٰ ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

طارق جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے تحفوں کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی سکینہ بی بی ہر روز شام کو اسی پرانے صندوق کو کھولتی، اس کے اندر رکھا ہوا ریشم کا ایک پرانا رومال باہر نکالتی، اسے اپنے سینے سے لگاتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا طارق کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس رومال کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کی محبت کا احساس ہوتا رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی سکینہ بی بی کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ طارق جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ طارق کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب طارق نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اسی پرانے صندوق کے اندر رکھے ہوئے ریشم کے اسی رومال پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی سکینہ بی بی کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے طارق، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے تیرے بچپن کی یہ نشانی اور ریشم کا رومال ہمیشہ سنبھال کر رکھا ہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی طارق کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس ریشم کے رومال سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

کہانی کا نام: ریشم کا رومال اور ماں کی یاد

ہیرو: مائی سکینہ بی بی (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: طارق (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments