سمندر کی ریت اور ٹوٹی ہوئی گڈی
باب اول: ساحلی بستی اور قحط کا سایہ
بحیرہ روم کے نیلگوں اور بظاہر پرسکون پانیوں کے کنارے، لیبیا کے ایک پرانے اور پسماندہ ماہی گیر گاؤں 'زوارہ' کی کچی اور نمکین ہواؤں میں ہمیشہ ایک اداسی گھلی رہتی تھی۔ یہاں کی زمینیں بنجر تھیں اور روزی روٹی کا واحد ذریعہ صرف سمندر تھا، جو کب کس کا سہاگ نگل لے اور کس کا آنچل اجاڑ دے، کوئی نہیں جانتا تھا۔ اسی بستی کے ایک سرے پر ناریل کے پتوں اور پرانی لکڑیوں سے بنی ایک جھونپڑی تھی، جہاں چالیس سالہ فاطمہ بی بی اپنے بیمار شوہر یوسف اور نو سالہ معصوم بیٹے زیاد کے ساتھ رہتی تھیں۔
فاطمہ بی بی کے گھر کی غربت اس قدر ہولناک تھی کہ اکثر راتوں کو چولہا جل ہی نہیں پاتا تھا۔ یوسف جو کبھی اس بستی کا سب سے توانا غوطہ خور اور ملاح ہوا کرتا تھا، سمندر کے اندر ایک خوفناک چٹان سے ٹکرا کر اپنی ٹانگ اور پھیپھڑوں کی طاقت ہمیشہ کے لیے گنوا بیٹھا تھا۔ اس کے بعد سے وہ چار پائی کا قیدی بن چکا تھا۔ گھر کا سارا بوجھ اب فاطمہ بی بی کے کمزور کندھوں پر تھا۔ وہ صبح سے شام تک ساحل پر مچھلیوں کے جال سیتیں، ریت پر مردہ مچھلیاں چن کر لائیں اور جو دو وقت کی سکھی روٹی ملتی، اس سے اپنے بیمار شوہر اور ننھے بیٹے کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتیں۔
زیاد ایک انتہائی ذہین، خوبصورت اور ہنس مکھ بچہ تھا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں سمندر کی طرح وسعت تھی، مگر اس کے پیر ہمیشہ ننگے رہتے تھے اور اس کا تن پر صرف ایک پھٹا ہوا کرتا تھا۔ زیاد کو کھیلنے کا بہت شوق تھا، مگر اس کے پاس کوئی کھلونا نہیں تھا۔ اس نے ریت اور لکڑی کے ٹکڑوں سے خود ہی ایک چھوٹی سی 'کاغذی گڈی' (پتنگ) اور لکڑی کی ایک کشتی بنا رکھی تھی، جس سے وہ ساحل کی لہروں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔
باب دوم: طوفانی رات اور دوا کی تلاش
نومبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی سمندر کا مزاج بدل گیا۔ طوفانی ہوائیں چلنے لگیں اور اونچی لہریں جھونپڑیوں کے دروازے پر دستک دینے لگیں۔ ایک ایسی ہی کڑکتی اور ہولناک رات کو، جب باہر بارش کے تیر روح کو چیر رہے تھے، یوسف کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ اس کے سینے سے ہوٹ اٹھنے لگے، منہ سے جھاگ بہنے لگا اور سانس کی ڈور ٹوٹنے لگی۔
فاطمہ بی بی حواس باختہ ہو گئیں۔ انہوں نے گھر میں رکھی تمام چیزیں ٹटولیں، مگر نہ دوا کے لیے ایک سکہ تھا اور نہ ہی ڈاکٹر کو بلانے کا کوئی ذریعہ۔ باہر اندھیرا اور خوفناک طوفان ناچ رہا تھا۔ یوسف نے اپنی ہچکیوں کے درمیان فاطمہ کا ہاتھ پکڑا اور بمشکل کہا:
"فاطمہ... لگتا ہے میری سانسیں اب اس طوفان کا ساتھ نہیں دے پائیں گی۔ ہمارے پاس زیاد کے سوا کچھ نہیں ہے... اس کی حفاظت کرنا... اسے اس سمندر کی بھوک سے بچا لینا..."
یہ کہتے ہی یوسف کا سر ایک طرف ڈھلک گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ جھونپڑی میں قیامت برپا ہو گئی۔ فاطمہ بی بی اور زیاد دونوں لاش سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ باہر طوفان کا شور تھا اور اندر دو غریب روحوں کی سسکیاں تھیں۔
باب سوم: تین دن کا فاقہ اور سفاک حقیقت
شوہر کی تدفین کے لیے بھی بستی کے لوگوں نے ترس کھا کر چندہ کیا تھا۔ اب فاطمہ اور زیاد بالکل اکیلے رہ گئے تھے۔ شوہر کے انتقال کے بعد بستی کے ظالم ساہوکار اور زمیندار، جو یوسف کو پرانا قرضہ دار بتاتے تھے، ان کی جھونپڑی پر آ دھمکے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ یا تو پچھلا قرضہ مع سود کے ادا کرو، ورنہ اس جھونپڑی کو بھی جلا کر راکھ کر دیں گے۔
فاطمہ بی بی نے ان کے پیروں پر ہاتھ جوڑے، مگر ان کے دل میں ذرا بھی ترس نہیں آیا۔ تین دن تک ماں بیٹے نے پانی کے علاوہ کچھ نہیں کھایا تھا۔ زیاد بھوک سے نڈال ہو چکا تھا اور اس کے ہونٹ سوکھ کر کالے پڑ چکے تھے۔ وہ اپنی ماں کے گلے لگ کر سسکتا: "اماں! مجھے تھوڑا سا پانی دے دو... پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے..."
فاطمہ کا دل اس معصوم کی حالت دیکھ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔ انہوں نے اپنی آخری پونجی—وہ چاندی کی چھوٹی سی انگوٹی جو ان کی ماں کی نشانی تھی—ایک راہ چلتے سوداگر کو کوڑیوں کے دام بیچ دی اور اس سے ملنے والے چند سکوں سے ایک چھوٹی سی روٹی خرید کر لائیں، جو انہوں نے زیاد کو کھلا دی۔ زیاد نے روٹی کھاتے ہی ماں کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور کہا: "اماں! جب میں بڑا ہو جاؤں گا، تو تمہیں ایک بہت بڑا گھر لا کر دوں گا جہاں کبھی بھوک نہیں آئے گی!"
باب چہارم: غیر قانونی کشتی اور خطرناک سفر
بستی کے حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے تھے۔ وہاں ایک افواہ پھیلی کہ کچھ لوگ غیر قانونی طور پر کشتیوں کے ذریعے یورپ (اٹلی) جا رہے ہیں تاکہ وہاں نئی زندگی شروع کر سکیں۔ بستی کے کئی نوجوان راتوں رات غائب ہو چکے تھے۔ کچھ لوگوں نے فاطمہ بی بی کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اس عذاب سے بچنے کے لیے کسی طرح اس کشتی میں سوار ہو جائیں۔
فاطمہ کے پاس پیسے نہیں تھے، مگر ایک مکار ایجنٹ نے ان کی لاچارگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں اور ان کے بیٹے کو مفت لے جائے گا اگر وہ سفر کے دوران اس کے لیے کھانا پکانے کا کام کریں۔ مجبوری، غربت اور موت کے خوف نے فاطمہ کو اندھا کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کا ہاتھ تھاما اور ایک تاریک رات کو سمندر کے کنارے کھڑی اس خستہ حال، کھٹارہ لکڑی کی کشتی میں سوار ہو گئیں جس میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔
کشتی میں سوار ہوتے وقت زیاد کے ہاتھ میں اس کی وہ ٹوٹی ہوئی لکڑی کی گڈی تھی جسے اس نے اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔ ایک شخص نے طنز کرتے ہوئے کہا: "بچے! یہ کھلونے سمندر میں ڈوب جائیں گے، انہیں پھینک دو!" تو زیاد نے آنسو بھری آنکھوں سے کہا: "نہیں! یہ میرے بابا کی نشانی ہے، میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا!"
باب پنجم: بحیرہ روم کی موجیں اور قیامت کا منظر
کشتی سمندر کے بیچوں بیچ پہنچی ہی تھی کہ موسم نے ایک بار پھر بھیانک روپ دھار لیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں اور پہاڑ جیسی اونچی لہریں اس چھوٹی سی کشتی سے ٹکرانے لگیں۔ کشتی میں پانی بھرنا شروع ہو گیا۔ لوگوں میں چیخ پکار مچ گئی۔ جو ایجنٹ پیسے لے کر سب کو محفوظ سفر کی ضمانت دے رہا تھا، وہ سب سے پہلے اپنی زندگی بچانے کے لیے لائف جیکٹ پہن کر پانی میں کود گیا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
کشتی کا توازن بگڑ چکا تھا اور وہ ایک طرف جھک گئی تھی۔ لوگ خوف سے ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے اس طرح جکڑ لیا جیسے کوئی چٹان طوفان کو روکتی ہے۔ انہوں نے رو رو کر دعا مانگنی شروع کی: "یا اللہ! میرے معصوم بچے کو بچا لے... میرا سب کچھ لے لے، بس اسے سلامت رکھنا!"
اچانک ایک بہت بڑی لہر پہاڑ کی طرح کشتی پر ٹوٹی اور ایک زور دار دھماکے کے ساتھ کشتی درمیان سے دو ٹکڑے ہو گئی۔ سب لوگ نیلگوں اور تاریک پانی میں سمندر کی نذر ہو گئے۔
باب ششم: ساحل کی ریت پر ٹوٹی ہوئی گڈی
اگلی صبح جب طوفان تھما اور سورج نکلا، تو زوارہ کا ساحل ایک بار پھر پرسکون ہو چکا تھا—مگر یہ سکون موت کا سکون تھا۔ لہریں ایک ایک کر کے لاشوں کو کنارے پر پھینک رہی تھیں۔
ساحل کی گیلی اور سفید ریت پر فاطمہ بی بی کا بے جان جسم پڑا تھا، اور ان کی بانہوں کے حصار میں اب بھی زیاد کا چھوٹا سا جسم بندھا ہوا تھا۔ دونوں ماں بیٹے ایک ساتھ ابدی نیند سو چکے تھے۔ زیاد کے چھوٹے سے سخت جکڑے ہوئے ہاتھ میں اب بھی وہ ٹوٹی ہوئی لکڑی کی گڈی موجود تھی، جو پانی میں بھیگ کر بالکل گل چکی تھی، مگر اس کے تار اب بھی اس کے ننھے انگلیوں سے لپٹے ہوئے تھے۔
جب امدادی رضاکاروں نے ان دونوں لاشوں کو اٹھایا، تو ان کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس ساحل پر آج بھی جب شام کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں، تو ملاحوں کا کہنا ہے کہ ریت پر ایک معصوم بچے کی ہنسی اور اس کی ٹوٹی ہوئی گڈی کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں: "اماں! ہم اب کبھی بھوکے نہیں رہیں گے نا؟" یہ کہانی اس بے رحم دنیا کا ماتم ہے جہاں غریب کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں، اور اس کا خواب ہمیشہ سمندر کی ریت میں دفن ہو جاتا ہے۔

0 Comments
Thanks for your feedback.