روتی ہوئی گھڑی اور ادھوری عید
عید کے دن جب ہر گھر میں خوشیوں کے ترانے گونج رہے تھے اور بچے نئے کپڑے پہن کر چہک رہے تھے، بستی کے ایک پرانے اور ویران گھر کے اندر صرف ایک گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس گھڑی کے نیچے بسترِ مرگ پر پڑی ستر سالہ اماں حلیمہ آخری ہچکیاں لے رہی تھیں۔ ان کے بستر کے پاس ایک نئی قمیض رکھی تھی جو انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے وقار کے لیے بڑی محنت سے سی تھی، جو چودہ سال پہلے عید کی رات ہی گھر چھوڑ کر شہر گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔
وقار کے بڑے خواب اور بے وفائی
وقار جب گیا تھا تو اس نے جاتے ہوئے ماں سے کہا تھا: "اماں! اگلی عید پر اس کچے گھر میں نہیں، بلکہ تمہیں شہر کے شاندار محل میں عید مناؤں گا۔" مگر شہر کی چمکتی ہوئی دنیا اور دولت کی اندھی ہوس نے وقار کو اس قدر بدلا کہ اس نے عیدیں تو بہت دیکھیں، مگر اپنی بوڑھی ماں کو ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ ابتدائی سالوں میں کچھ پیسے بھیجے، پھر وہ خطوط اور رقوم بھی بند ہو گئیں۔
اماں حلیمہ ہر سال عید کے چاند رات کو دروازے پر دیا جلا کر بیٹھ جاتی تھیں اور محلے کے ہر آنے جانے والے سے کہتیں: "میرا وقار آنے والا ہے، دیکھو میں نے اس کے ناپ کی نئی قمیض بھی سی لی ہے..." محلے والے ترسی ہوئی نظروں سے دیکھتے اور خاموش ہو جاتے۔ وقت کا ہر نیا سال ماں کے دل پر ایک اور زخم لگا جاتا تھا۔
دیر سے جاگنے والا ضمیر اور سناٹا
برسوں بعد جب وقار کا بزنس بیٹھ گیا، اس کے تمام ساتھی اور دوست غائب ہو گئے اور وہ کڑے مالی بحران کا شکار ہوا، تو اسے عید کے اس پرسکون ماحول میں اپنی ماں کا وہ کچا گھر شدت سے یاد آیا۔ وہ ندامت کے بوجھ تلے دبتا ہوا عید کے روز ہی اپنے آبائی گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے دل میں بس یہی امید تھی کہ ماں کے گلے لگ کر وہ اپنی تمام غلطیوں کی معافی مانگ لے گا۔
جب وہ پرانی گلی میں داخل ہوا تو اس کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل کانپ گیا۔ وہ دوڑتا ہوا اندر داخل ہوا؛ ماں کا بے جان جسم چار پائی پر پڑا تھا اور ان کے ٹھنڈے ہاتھوں میں وہی عید کی قمیض دبی ہوئی تھی جو انہوں نے اس کے لیے بنائی تھی۔
ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر وقار کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بھاری آواز میں بولا: "وقار! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں مرنے سے چند لمحے پہلے تک عید کا چاند دیکھ کر یہی کہہ رہی تھی کہ میرا بیٹا آ رہا ہوگا، اس کی قمیض تیار رکھنا..." وقار نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اس قمیض کو اپنے سینے سے لگا لیا اور ماں کے پیروں میں گر پڑا، مگر اب اس کی زندگی میں عید کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے مٹ چکی تھیں اور وہ گھر ہمیشہ کے لیے ویران ہو چکا تھا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.