Urdu Kahania -Digital Kahani - Roti Hoi Beathk

روتی ہوئی بیٹھک اور ٹوٹی ہوئی چوکھٹ

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

گاؤں کی اس ویران بستی میں شام کا وقت اترتا تو ایسا محسوس ہوتا جیسے اداسی نے پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو۔ ایک پرانے اور بوسیدہ گھر کی بیٹھک میں بسترِ مرگ پر پڑی اسی سالہ اماں سکینہ کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ ان کے بستر کے قریب ایک پرانا حقہ اور مٹی کا وہ پیالہ رکھا تھا جس میں وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے پانی بھرا کرتی تھیں۔ ان کا بیٹا جاوید سترہ سال پہلے بڑے شہر میں قسمت آزمانے گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔

جاوید کے خواب اور شہر کی بے رحمی

جب جاوید گھر سے گیا تھا تو اس نے ماں سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے کہ وہ ایک دن گاڑی میں آئے گا اور ماں کو تمام تکالیف سے نجات دلا دے گا۔ مگر شہر کی چکاچوند اور دولت کی ہوس نے جاوید کو اس قدر سنگدل بنا دیا کہ اس نے اپنے بوढ़े ماں باپ اور کچے گھر کو مکمل طور پر فراموش کر دیا۔ ابتدائی چند سالوں میں کچھ رقوم آئیں، پھر خطوط کا سلسلہ بند ہوا اور آخرکار تمام رابطے منقطع ہو گئے۔

اماں سکینہ ہر روز اپنی کمزور بینائی کے ساتھ دروازے کی ٹوٹی ہوئی چوکھٹ پر بیٹھ جاتی تھیں اور آنے جانے والوں سے کہتیں: "کوئی میرے جاوید کو بتائے کہ اس کی ماں کا آخری وقت قریب ہے، وہ ایک بار آ کر مجھے دیکھ لے..." محلے والے ترس کھاتے ہوئے انہیں تسلی دیتے، مگر وقت کا مرہم ان کے زخموں کو اور گہرا کر دیتا تھا۔

دیر سے جاگنے والا ضمیر اور خالی بستر

برسوں بعد جب جاوید کا کاروبار تباہ ہو گیا، اس کے پاس رہنے کو چھت نہ رہی اور اپنوں کے دھوکے نے اسے توڑ دیا، تب اسے اپنے آبائی گھر اور ماں کی یاد ستانے لگی۔ وہ ندامت کے بوجھ تلے دبتا ہوا ایک طویل سفر طے کر کے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے دل میں بس یہی خوف تھا کہ کہیں اس کی ماں اس سے خفا نہ ہو۔

جب وہ پرانی گلی میں داخل ہوا تو اس کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ دوڑتا ہوا بیٹھک میں داخل ہوا۔ ماں کا بے جان جسم سفید چادر میں لپٹا ہوا تھا اور ہمسائے ان کی تدفین کی تیاریاں کر رہے تھے۔

ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر جاوید کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بھاری آواز میں بولا: "جاوید! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں مرنے سے چند لمحے پہلے تک دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ میرا بیٹا راستہ بھول گیا ہے، کوئی اسے بلا لاؤ..." جاوید پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، اس نے ماں کے بے جان قدموں میں سر رکھ کر معافی مانگنی چاہی، مگر اب دنیا میں اسے سینے سے لگانے والی ماں ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی۔ ٹوٹی ہوئی چوکھٹ پر اس کا پچھتاوا اکیلا رہ گیا۔

Post a Comment

0 Comments