Urdu Kahania - Digital Kahani - Railvey Station ka Musafir

پرانی کھڑکی اور ریلوے اسٹیشن کا مسافر

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

شہر کے چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے سامنے بنے پرانے مکان کی لکڑی کی کھڑکی جب بھی کھلتی، اندر بیٹھی اساسی بی کا دل دھک سے رہ جاتا۔ پچاس سال پہلے اسی اسٹیشن سے ان کے شوہر، جو ریلوے میں گارڈ تھے، ڈیوٹی پر گئے تھے اور پھر ایک بھیانک حادثے میں ان کی لاش ہی واپس لوٹی تھی۔ اس حادثے نے اساسی بی کی دنیا اجاڑ دی تھی، اور جوان بیٹے کی پیدائش کے بعد انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی ایک کمرے اور اس کھڑکی کے سہارے گزار دی تھی۔

اکیلا پن اور بیٹے کی رخصتی

اساسی بی کا اکلوتا بیٹا سلیم جب بڑا ہوا، تو وہ بھی اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتا تھا۔ سلیم کہتا تھا: "اماں! ریلوے ہمارا خاندانی ورثہ ہے، میرے بابا نے بھی اسی پٹڑی پر جان دی تھی۔" اساسی بی کا کلیجہ منہ کو آتا تھا، مگر بیٹے کی ضد کے آگے وہ ہار گئیں۔ جب سلیم کو نوکری ملی، تو وہ روزانہ ٹرین کے ساتھ سفر کرتا اور شام کو ماں کے پاس لوٹ آتا۔

وقت کا پہیہ گھوما اور سلیم کی شادی ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد نوکری کی ترقی کے باعث سلیم کا تبادلہ ایک دور دراز شہر میں ہو گیا۔ سلیم نے ماں کو ساتھ لے جانا چاہا، مگر اساسی بی نے صاف انکار کر دیا: "بیٹا! میرے شوہر کی قبر اور اس پرانے مکان کی مٹی یہیں ہے، میں یہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی۔ تم جاؤ، اپنا گھر آباد کرو۔"

برسوں کا انتظار اور آخری سیٹی

سلیم شہر چلا گیا، شروع میں فون اور خط آتے رہے، مگر آہستہ آہستہ روزگار کی مصیبتوں اور بیوی بچوں کی ذمہ داریوں میں سلیم ایسا الجھا کہ سالوں گزر گئے اور وہ اپنی بوڑھی ماں کو دیکھنے نہ آ سکا۔ اساسی بی ہر روز عصر کے وقت اس لکڑی کی کھڑکی کو کھول کر بیٹھ جاتی تھیں، یہ سوچ کر کہ شاید کسی دن سلیم کی ٹرین اس پلیٹ فارم پر رکے گی اور اس کا بیٹا دوڑتا ہوا گھر آئے گا۔

محلے والے کہتے تھے: "اساسی بی! اب انتظار چھوڑ دو، شہر کے لوگ اپنے ماں باپ کو یاد نہیں رکھتے۔" مگر ماں کی پلکیں ہمیشہ اسی پٹڑی کی طرف جمی رہتیں جہاں سے سلیم گیا تھا۔

ایک شام اور ادھورا خواب

ایک سرد شام، جب ٹرین کی سیٹی کی آواز گونجی، تو اساسی بی نے حسبِ معمول کھڑکی کھولی۔ اس بار پلیٹ فارم پر ایک ادھیڑ عمر شخص اترا، جس کے بال سفید ہو چکے تھے، ہاتھوں میں پرانے زمانے کا ایک بریف کیس تھا اور چہرے پر ندامت کے بادل تھے۔ وہ تیزی سے اس چھوٹے سے گھر کی طرف دوڑا۔

وہ سلیم تھا! دروازہ کھلتے ہی سلیم ماں کے قدموں میں گر پڑا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا: "اماں مجھے معاف کر دو... میں نے ماں کی دعاؤں کو بھلا کر دنیا کے پیچھے دوڑ لگائی، جب ہوش آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی... اب میں سب کچھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے آپ کے پاس آ گیا ہوں۔"

اساسی بی نے کانپتے ہاتھوں سے بیٹے کا سر اٹھایا، اس کی پیشانی چومی اور بولیں: "تیرا انتظار ہی میری زندگی تھا، میرا مسافر لوٹ آیا ہے، اب مجھے اور کچھ نہیں چاہiے۔" کھڑکی سے آنے والی ٹرین کی آواز اب اداسی کی نہیں، بلکہ ایک مکمل ہوتے ہوئے گھر کی خوشی کی نوید سنا رہی تھی۔

Post a Comment

0 Comments