پرانی دکان کا تختہ اور ابّا کا چشمہ
گاؤں کے بازار کے ایک کونے میں لکڑی کی ایک نہایت پرانی اور خستہ حال دکان تھی، جس کا تختہ بارشوں اور دھوپ کی شدت سے رنگ اڑ چکا تھا۔ اس دکان کے باہر ایک چھوٹی سی میز پر ابّا کا وہ پرانا چشمہ اور لکڑی کا کھاتہ آج بھی اسی طرح رکھا تھا جیسے ابّا ابھی کہیں باہر گئے ہوں۔ اسّی سالہ بابا رحمت اس دکان پر روزانہ بیٹھ کر لوگوں کے پرانے جوتے سیٹ کیا کرتے تھے، مگر ان کی نگاهیں ہمیشہ سامنے والے راستے پر جمی رہتیں جہاں سے ان کا اکلوتا بیٹا عاصم تیرہ سال پہلے شہر گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔
عاصم کے خواب اور شہر کی دوڑ
عاصم بچپن سے ہی اس دکان پر ابّا کا ہاتھ بٹاتا تھا، مگر اس کے دل میں اس چھوٹے سے گاؤں اور اس غریب مزدوری سے بڑی نفرت تھی۔ وہ اکثر کہتا: "ابّا! اس پھٹے پرانے کام سے ہماری نسلیں نہیں بدل سکتیں۔ میں شہر جا کر بڑا آدمی بنوں گا اور آپ کو اس دکان سے ہمیشہ کے لیے چھٹی دلا دوں گا۔" بابا رحمت مسکرا کر کہتے: "بیٹا! رزق حلال میں جو سکون ہے، وہ اونچے محلوں میں کہاں۔" مگر عاصم کے سر پر شہر کا جنون سوار تھا اور وہ ایک دن کسی کو بتائے بغیر گھر سے نکل گیا۔
شروع کے چند ماہ عاصم کا خط اور کبھی کبھار تھوڑی سی رقم آ جاتی تھی، مگر آہستہ آہستہ شہر کی رنگینیوں اور بلند و بالا عمارات نے اسے اس طرح بدلا کہ اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس چھوٹی سی دکان کو اپنی نئی شان و شوکت کے راستے کا کانٹا سمجھ کر بھلا دیا۔ محلے والے بابا رحمت سے کہتے: "رحمت بھائی! اب اس نالائق کا انتظار چھوڑ دو، شہر کے لوگ اپنے پرانے سائے بھی بھول جاتے ہیں۔" مگر بابا رحمت اپنے چشمے کو صاف کرتے ہوئے کہتے: "میرا بیٹا راستہ بھٹک گیا ہے، مٹی کی خوشبو اسے ایک دن ضرور کھینچ لائے گی۔"
تقدیر کا پلٹا اور توبہ کی شام
وقت کا پہیہ گھوما اور تقدیر نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عاصم نے فریب اور جادوئی دنیا کے بل بوتے پر جو محل بنایا تھا، وہ ایک ہی مالیاتی گھٹالے میں ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ گیا۔ اس پر لاکھوں کے قرضے ہو گئے، اس کے اپنے ساتھی اسے چھوڑ کر بھاگ گئے اور وہ ذہنی و جسمانی طور پر بالکل ٹوٹ گیا۔ جب ہر طرف اندھیرا چھا گیا، تو اسے اپنی بوڑھی باپ کی وہ دکان اور ابّا کا وہ چشمہ شدت سے یاد آیا۔
ایک اداس اور سرد شام، جب بازار کی دکانیں بند ہو رہی تھیں اور ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی، عاصم پھٹے پرانے کپڑوں میں، سر جھکائے ہوئے اس پرانے بازار میں داخل ہوا۔ وہ دوڑتا ہوا اپنی ابّا کی اسی پرانی دکان پر پہنچا؛ دکان کا شٹر نیم وا تھا اور اندر بابا رحمت اسی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے۔
عاصم سسکیاں لیتے ہوئے ابّا کے قدموں میں گر پڑا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا: "ابّا مجھے معاف کر دیں... میں دنیا کی دوڑ میں اندھا ہو گیا تھا، سب کچھ ہار کر اب صرف آپ کی دہلیز پر پناہ مانگنے آیا ہوں۔" بابا رحمت نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو اٹھایا، اسے اپنے سینے سے لگایا اور میز پر رکھا وہ پرانی عینک اٹھا کر بولے: "روتے کیوں ہو میرے بچے! دکان کا تختہ پرانا ضرور ہو گیا ہے، مگر تیرے لیے اس کا دروازہ آج بھی بند نہیں ہوا۔ میرا مسافر لوٹ آیا، اب میرے دل کا ہر اندھیرا مٹ گیا ہے۔" اس شام اس پرانی دکان پر باپ بیٹے کے پیار نے برسوں کی دوری کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.