Urdu Kahania -Digital Kahani - Purani Shaal

پرانی شال اور خالی چارپائی

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

سردیوں کی ایک دردناک اور اداس رات جب ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے مکان کی پرانی کھڑکیوں کو ہلا رہے تھے، بستی کے آخری کونے میں بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں نوے سالہ مسمات فاطمہ بی بی آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ ان کے جسم پر ایک بوسیدہ، خاکی رنگ کی اونی شال لپٹی ہوئی تھی، جسے وہ بستر پر لیٹے لیٹے بھی بار بار اپنے سینے سے بھینچ لیتی تھیں۔ یہ شال ان کے اکلوتے بیٹے سلیم کی تھی، جو پندره سال پہلے بستی چھوڑ کر بڑے شہر گیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں لوٹا تھا۔

سلیم کے بلند و بالا خواب اور غفلت

سلیم جب گھر سے نکلا تھا تو اس نے جاتے ہوئے ماں سے کہا تھا: "اماں! بس یہ چند سال کی غربت ہے، جب شہر میں میرا کام جم گیا تو تجھے اس کچے گھر سے نکال کر ایک شاندار محل میں لے جاؤں گا۔" مگر شہر کی چکاچوند، نئی دنیا اور دولت کی اندھی ہوس نے سلیم کو اس قدر بدل ڈالا کہ اسے اپنی بوڑھی ماں کا خیال تک نہ آیا۔ ابتدائی مہینوں میں کچھ پیسے آئے، پھر رابطے کم ہوئے اور آخرکار فون نمبر تک بند ہو گئے۔

فاطمہ بی بی ہر روز شام کو دروازے پر بیٹھ کر اس شال کو دیکھتی تھیں اور آنے جانے والے ہر شخص سے کہتیں: "کوئی میرے سلیم کو خبر کر دے کہ اس کی ماں کی آنکھیں اب پتھرا رہی ہیں، وہ آ کر مجھے ایک بار گلے سے لگا لے..." محلے والے ترس کھاتے ہوئے انہیں تسلی دیتے، مگر وقت کا ہر گزرتا دن ماں کے لیے ایک نیا عذاب بن جاتا تھا۔

دیر سے جاگنے والا ضمیر اور پچھتاوے کا طوفان

برسوں بعد جب سلیم کے کاروبار کو زوال آیا، اس کے تمام دوست اور ساتھی اسے ادھورے راستے پر چھوڑ کر بھاگ گئے، اور وہ شدید مالی بدحالی کا شکار ہو گیا، تو اسے اپنے آبائی وطن اور اس ماں کی یاد ستانے لگی۔ وہ ندامت کے بوجھ تلے جھکا ہوا ایک طویل سفر طے کر کے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوا، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید ماں کی دعائیں اس کے بکھرے ہوئے نصیب کو پھر سے جوڑ دیں۔

جب وہ پرانی گلی میں داخل ہوا تو اس کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل کانپ اٹھا۔ وہ بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا؛ ماں کا بے جان جسم سفید کفن میں لپٹا ہوا تھا اور ہمسائے تدفین کی تیاریاں کر رہے تھے۔

ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر سلیم کا ہاتھ پکڑا اور لرزتی آواز میں کہا: "سلیم! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں مرتے وقت بھی اسی شال کو سینے سے لگائے یہی پکار رہی تھی کہ میرا بیٹا ٹھنڈ میں آ رہا ہوگا، اس کے لیے بستر گرم رکھنا..." سلیم نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے ماں کے سرد قدموں پر سر رکھ دیا اور چیخ چیخ کر معافی مانگنی چاہی، مگر اب اس خالی چارپائی پر رونے والے بیٹے کا پرسہ دینے کے لیے وہ ماں دنیا میں موجود نہیں تھی۔

Post a Comment

0 Comments