Urdu Kahania -Digital Kahani -Purani Rakh

آخری خط اور تندور کی راکھ

ایک روح فرسا اور دل دہلا دینے والی جذباتی داستان | تحریر: خصوصی ادراک

باب اول: پرانی بستی اور بھوک کی سسکیاں

پنڈ دادن خان کے مٹی کے تودوں اور دریائے جہلم کے کنارے بسنے والے اس پسماندہ گاؤں میں غربت نے جب ڈیرے ڈالے، تو اس نے انسانوں سے ان کا بچپن اور مسکراہٹیں تک چھین لیں۔ اسی بستی کے ایک نکر میں بنے ٹین اور مٹی کے بوسیدہ کمرے میں اسی سالہ مسمات حلیمہ بی بی اکیلی رہتی تھیں۔ ان کی کمر جھک چکی تھی، آنکھوں کی نور تقریباً بجھ چکا تھا، مگر دل کے کسی نہاں خانے میں ایک ایسی امید زندہ تھی جو ہر آنے والے دن کے ساتھ ان کی ہڈیوں کو اندر سے چاٹ رہی تھی۔

حلیمہ بی بی کے دو بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا قاسم، جو جوانی کے جوش میں بستی کے حالات سے تنگ آ کر سولہ سال قبل ملک سے باہر کسی خلیجی ریاست میں قسمت آزمانے گیا تھا، اور چھوٹا بیٹا زین، جو یہیں گاؤں میں مزدوری کرتا تھا۔ مگر قسمت کا ستم دیکھیے کہ چھوٹے بیٹے زین کو ٹی بی جیسے موذی مرض نے آ لیا اور وہ دواؤں کی کمی اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے تین سال پہلے انہی ہاتھوں میں دم توڑ گیا تھا۔ چھوٹے کی قبر کا ابھی کچا نشان بھی نہیں مٹا تھا کہ بڑے بیٹے قاسم کی یاد نے حلیمہ بی بی کی راتوں کی نیندیں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔

قاسم جب گیا تھا تو اس نے جاتے ہوئے ماں کے پیروں میں سر رکھ کر کہا تھا: "اماں! بس یہ چند سال کٹھن ہیں، وہاں جا کر اتنا کماؤں گا کہ تجھے اس تندور کی راکھ اور مٹی کے برتنوں سے نجات دلا کر پکے گھر میں بٹھاؤں گا۔" مگر پردیس کی رنگینیوں، کڑے حالات اور وقت کے تھپیڑوں نے قاسم کو ایسا بدلا کہ اس نے اپنے بوڑھے ماں باپ اور بیمار بھائی کو مکمل طور پر فراموش کر دیا۔ پہلے دو سال کچھ رقوم آئیں، پھر خطوط کا سلسلہ کم ہوا اور پھر ایک ایسا سیاہ دور آیا کہ قاسم کا نام لینا بھی اس گھر میں جرم بن گیا۔

باب دوم: تندور کی راکھ اور روزانہ کا انتظار

گھر کے صحن میں مٹی کا ایک پرانا تندور رکھا تھا، جس میں چھوٹے بیٹے زین کے مرنے کے بعد سے کبھی آگ نہیں جلی تھی اور اس کی راکھ مکمل طور پر ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ حلیمہ بی بی ہر روز عصر کی نماز کے بعد اس تندور کے پاس بیٹھ جاتیں، اس کی ٹھنڈی راکھ کو اپنے کانپتے ہاتھوں سے کریدتیں اور دھیرے دھیرے گنگناتیں: "میرا قاسم آنے والا ہوگا... وہ کہتا تھا نا کہ اماں تیرے لیے روٹی پکانے تندور جلاؤں گا..."

محلے والے جب انہیں اس حال میں دیکھتے تو ان کا کلیجہ منہ کو آ جاتا۔ ایک بار پڑوس کی مسمائی صغراں نے ترس کھاتے ہوئے کہا: "اماں! کیوں اپنی جان عذاب میں ڈالتی ہو؟ جو بیٹا سولہ سال تک پلٹ کر نہیں آیا، وہ مرنے کے بعد بھی تیری لاش کو ہاتھ لگانے نہیں آئے گا۔ بھول جاؤ اسے!"

حلیمہ بی بی نے اپنی سفید اور پتھریلی آنکھیں اٹھا کر صغراں کو دیکھا اور کانپتی ہوئی آواز میں بولیں: "صغراں بیٹی! ماں کا دل پتھر کا نہیں ہوتا۔ میرا بچہ راستہ بھول گیا ہوگا، لیکن جب اسے میری یاد آئے گی، وہ اسی تندور کے پاس دوڑتا ہوا آئے گا۔ میں نے اس کے لیے تندور کی راکھ میں ہی اس کی پسندیدہ روٹی کی جگہ سنبھال رکھی ہے..."

باب سوم: پردیس میں قاسم کا زوال اور فریب

دوسری طرف پردیس کی نام نہاد چکاچوند میں قاسم کی زندگی بھی ایک بھیانک خواب بن چکی تھی۔ شروعات میں اس نے کچھ پیسے کمائے تھے، مگر وہاں کے جوئے، غلط صحبت اور فریب دینے والے دوستوں نے اس کا سب کچھ لوٹ لیا۔ اس کا پاسپورٹ اور اقامہ کفیل نے ضبط کر لیا تھا، اور وہ غیر قانونی حالت میں ایک تاریک تہہ خانے میں مزدوری کرنے پر مجبور تھا۔

نہ وہ واپس وطن آ سکتا تھا اور نہ ہی وہاں دو وقت کی روٹی کا کوئی ڈھنگ کا سہارا تھا۔ غربت اور ذلت نے قاسم کے اندر کے انسان کو مار ڈالا تھا۔ اسے اپنے بوڑھے ماں باپ اور بھائی کی یاد آتی تو اس کا سینہ پھٹنے لگتا، مگر ندامت کا بوجھ اتنا بھاری تھا کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ جب تک وہ کوئی بڑا آدمی بن کر نہیں جائے گا، تب تک گھر خط بھی نہیں لکھے گا۔ مگر وقت نے اس کے تمام ارادوں کو روند ڈالا۔

ایک رات، جب قاسم فیکٹری کی ایک پرانی مشین کے نیچے کام کر رہا تھا، اچانک مشین کا ایک بھاری حصہ ٹوٹ کر اس کے سینے اور دونوں ٹانگوں پر آ گرا۔ ہڈیوں کے چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ اس کی چیخ تہہ خانے کے اندھیرے میں دب کر رہ گئی۔ کوئی اسے اسپتال لے جانے والا نہیں تھا؛ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے مالکان اسے ایک ویران سڑک پر پھینک کر فرار ہو گئے۔ جب پولیس اور فلاحی ادارے اسے اٹھا کر ہسپتال لے گئے، تب تک اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ اس کی زندگی کے چند دن باقی ہیں۔

باب چہارم: آخری خواہش اور وہ خط جو لکھا نہ جا سکا

ہسپتال کے سفید بستر پر موت کے منہ میں لیٹا ہوا قاسم اب ایک زندہ لاش بن چکا تھا۔ اس کے پاس دنیا کا کوئی مال یا دولت نہیں تھی، بس ایک نرس کی مدد سے اس نے ایک کاغذ کا ٹکڑا منگوایا اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے زندگی کا آخری خط لکھوانا چاہا۔

اس نے روتے ہوئے نرس سے کہا: "بیٹی! میرا یہ خط میرے گاؤں بھیج دینا... میری اماں کو بتا دینا کہ اس کا گنہگار بیٹا سب ਕੁچھ ہار کر، اپاہج ہو کر آ رہا ہے۔ اس سے کہنا کہ تندور میں آگ جلا لے، میرا دل بہت سرد ہو چکا ہے..."

قاسم کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں، اس کی آنکھیں دروازے کی طرف جمی ہوئی تھیں کہ شاید کوئی فرشتہ آ کر اسے اس کی ماں کے پاس پہنچا دے۔ مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ خط ابھی ڈاک خانے پہنچنے ہی والا تھا کہ اسپتال کے مانیٹر کی لکیر سیدھی ہو گئی—قاسم ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا تھا، اور اس کے سینے پر وہی ادھوری خواہش دبی رہ گئی۔

باب پنجم: طوفانی رات اور بستی کا منظر

پنڈ دادن خان میں اس رات موسم انتہائی شدید تھا۔ آسمان پر کالے بادل گرج رہے تھے، تیز آندھی کے جھونکے کچے مکانوں کی چھتیں اڑا رہے تھے اور شدید سرد بارش بستی کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ حلیمہ بی بی اسی ٹوٹی ہوئی چار پائی پر لیٹی ہوئی تھیں، جن کے جسم پر صرف ایک پھٹی ہوئی چادر پڑی تھی۔

طوفان کی اس گھن گرج میں اچانک دروازے پر ایک ہلکی سی دستک ہوئی۔ حلیمہ بی بی کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔ انہوں نے کمزور بینائی کے باوجود خود کو گھسیٹتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھایا۔ وہ یہ سوچ کر پاگل ہو رہی تھیں کہ شاید ان کا قاسم آ گیا ہے!

انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا؛ باہر کوئی انسان نہیں تھا، بلکہ تیز آندھی کے ساتھ ایک ڈاکو نما لفافہ اڑتا ہوا ان کے پیروں میں آ گرا تھا۔ وہ فلاحی ادارے کی طرف سے بھیجا گیا وہ خط اور قاسم کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ تھا، جو سفارتی کاغذی کارروائی کے بعد پہنچا تھا۔

باب ششم: آخری سانحہ اور راکھ کا ڈھیر

حلیمہ بی بی اس خط کو اپنے سینے سے لگا کر بارش میں بھیگتی ہوئی صحن کے اس پرانے تندور کے پاس آئیں۔ محلے کے دو نوجوان جب طوفان میں ان کی خبر لینے آئے، تو انہوں نے جو منظر دیکھا، ان کی روحیں کانپ اٹھیں۔

حلیمہ بی بی تندور کی اسی ٹھنڈی راکھ کے اوپر اوندھے منہ گری پڑی تھیں؛ ان کے ٹھنڈے ہاتھوں میں قاسم کا وہ آخری خط مضبوطی سے جکڑا ہوا تھا، اور ان کے خشک ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکان تھی جیسے انہیں یقین ہو گیا ہو کہ ان کا بیٹا اب تندور جلانے آ رہا ہے۔

جب لوگوں نے ان کے جسم کو اٹھانا چاہا، تو وہ راکھ ہوا میں اڑ کر ان کے سفید بالوں پر یوں پھیل گئی جیسے قدرت نے اس ماں اور بیٹے کے انتظار کا کفن خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہو۔ دنیا کہتی ہے کہ وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، مگر اس بستی کا وہ تندور آج بھی گواہ ہے کہ کچھ زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں جو انسان کو زندہ جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments