Urdu Kahania -Digital Kahani -Purani Basti

دھند میں لپٹی چوکھٹ

ایک طویل المیعاد جذباتی و سبق آموز ناول | تحریر: خصوصی ادراک

باب اول: پرانی بستی اور شام کا سناٹا

جہلم کے کنارے آباد یہ پرانی بستی ہمیشہ سے ہی اپنی خاموشی اور سادگی کے لیے جانی جاتی تھی۔ یہاں کے مکان مٹی کے بنے تھے، جن کی دیواریں وقت کی گرد تلے دبی ہوئی تھیں اور گلیوں میں شام ہوتے ہی ایسا گہرا سناٹا اتر جاتا تھا جیسے صدیوں کا بوجھ دلوں پر آ گرا ہو۔ اسی بستی کے ایک آخری کونے میں واقع خستہ حال مکان میں نو سالہ اماں زینت اکیلی رہتی تھیں۔ ان کا بوڑھا وجود اسّی برس کی کٹھن مسافت طے کر چکا تھا، مگر آنکھوں کی نوری مدھم پڑ جانے کے باوجود ان کے دل کا چراغ اپنے اکلوتے بیٹے عادل کی یاد سے روشن تھا۔

عادل کو بستی چھوڑے پورے سولہ سال بیت چکے تھے۔ وہ سولہ سال جو اماں زینت کے لیے ایک ایک صدی کے برابر تھے۔ عادل جب گیا تھا، تب اس کی عمر محض بائیس سال تھی؛ آنکھوں میں بڑے شہر کی چکاچوند اور دل میں اس غریبی سے نجات پانے کی ایک اَن مٹ ضد۔ جاتے ہوئے اس نے ماں کے بوسیدہ آنچل کو چھو کر کہا تھا: "اماں! یہ بستی، یہ کچا گھر اور یہ پھٹے پرانے کپڑے ہمارے مقدر میں ہمیشہ کے لیے نہیں ہیں۔ میں شہر جا کر اتنی دولت کماؤں گا کہ تجھے ان تکلیفوں سے نکال کر محل میں بٹھاؤں گا۔"

اماں زینت نے تب بھی روتے ہوئے اسے سینے سے لگایا تھا اور کہا تھا: "بیٹا! دولت کی ہوس انسان کو اپنوں سے دور کر دیتی ہے۔ میرے لیے تیرا پاس ہونا ہی سب کچھ ہے۔" مگر عادل کے سر پر کامیابی اور مادیت پرستی کا جو بھوت سوار تھا، اس نے ماں کی اس التجا کو وقت کی ہوا میں اڑا دیا۔ وہ گھر سے نکلا تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

باب دوم: خطوط کا ٹوٹتا ہوا سلسلہ

پہلے دو سال تک حالات کچھ بہتر رہے۔ عادل کی طرف سے ہر مہینے ایک خط اور منی آرڈر آ جاتا تھا۔ خط کے الفاظ مختصر ہوتے تھے، جن میں وہ اپنی مصروفیت کا رونا روتا اور جلد واپس آنے کا جھوٹا وعدہ کرتا۔ اماں زینت ان خطوط کو عینک لگا کر بار بار پڑھتیں، انہیں چومتیں اور اپنے سینے سے لگا کر سو جاتی تھیں۔ وہ پیسے ان کا سہارا نہیں بنتے تھے، بلکہ عادل کی وہ لکھی ہوئی دو لائنیں ان کے لیے زندگی کی آخری امید تھیں۔

مگر وقت کا سمندر جیسے جیسے آگے بڑھا، شہر کے فریب نے عادل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بڑے لوگوں کی صحبت، نئی دنیا کی چکاچوند اور بے رحم تجارتی دوڑ نے اسے سکھا دیا کہ رشتے انسان کی ترقی کے راستے کی رکاوٹ ہوتے ہیں۔ آہستہ آہستہ خطوط کا آنا کم ہو گیا۔ پہلے مہینے میں ایک خط آیا، پھر چھ ماہ میں ایک اور پھر ایک دن وہ وقت بھی آ گیا جب ڈاکیا اس گلی میں آنا بھول گیا۔

محلے کے لوگ ترس کھاتے ہوئے اماں زینت سے کہتے: "اماں! اب اس نالائق کا انتظار چھوڑ دو۔ شہر کے بڑے لوگ اپنے ماں باپ کو یاد نہیں رکھتے، وہ تو اپنے نام اور خاندانی پس منظر تک بدل لیتے ہیں۔" مگر اماں زینت کا دل اس بات کو ماننے سے انکاری تھا۔ وہ دروازے کی ٹوٹی ہوئی چوکھٹ پر بیٹھ کر کہتیں: "نہیں! میرا عادل ایسا نہیں ہے۔ وہ راستہ بھول گیا ہوگا، لیکن ایک دن ضرور لوٹے گا۔"

باب سوم: شہر کی چکاچوند اور زوال کا آغاز

دوسری طرف شہر کے پرفریب ماحول میں عادل اپنی منزل کی طرف دوڑ رہا تھا۔ اس نے دن رات محنت کر کے، اصولوں کو پاؤں تلے روند کر اور جھوٹے تعلقات کی بنیاد پر ایک بڑی کاروباری سلطنت کھڑی کر لی تھی۔ اس کی شادی شہر کے ایک اثر و رسوخ والے خاندان میں ہو گئی تھی۔ اب اس کی زندگی میں نہ گاؤں کی مٹی کی بو تھی اور نہ ہی کسی غریب ماں کی دعاؤں کا خیال۔ وہ اپنے ماضی کو اس طرح دفن کر چکا تھا جیسے وہ کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔

مگر قدرت کے فیصلے انسان کے ترازو سے مختلف ہوتے ہیں۔ جس دولت اور غرور کی بنیاد پر عادل نے اپنا محل کھڑا کیا تھا، وہ ریت کی دیوار سے زیادہ پائیدار ثابت نہ ہوا۔ ایک دن، اچانک کاروباری دنیا میں ایک بہت بڑا طوفان آیا۔ اس کے شراکت داروں نے اسے دھوکہ دیا، جعلی دستخطوں کے ذریعے اس کی ساری جائیداد اور فیکٹریاں ہتھیا لیں اور بینک کے اربوں روپے کے قرضوں کا بوجھ اکیلے عادل کے کندھے پر ڈال دیا۔

عدالتوں کے چکر، پولیس کے نوٹس اور میڈیا کی رسوائی نے عادل کو چند دنوں میں ہی توڑ دیا۔ جو بیوی کل تک اس کی دولت پر ناز کرتی تھی، وہ عدالت میں طلاق کے کاغذات تھما کر بچوں سمیت اپنے مائیکے چلی گئی۔ دوست، جو اس کی محفلوں کی جان بوجھ کر بیٹھے رہتے تھے، اب اس کے سامنے سے منہ پھیر کر گزر جاتے۔ ایک ہی رات میں عادل کروڑ پتی سے سڑک پر آ چکا تھا۔

باب چہارم: ضمیر کی بیداری اور یادوں کا عذاب

جب عادل کے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی چھت نہ رہی، جب اس کے پاس دو وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑ گئے، اور وہ ایک سنسان پارک کے بنچ پر پھٹے پرانے کپڑوں میں بیٹھا راتیں گزارنے لگا، تب اس کے اندر سویا ہوا ضمیر جھنجھوڑ کر بیدار ہوا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے سے فریب کی پٹی اتر گئی اور اسے وہ ماضی شدت سے یاد آنے لگا جسے اس نے خود اپنے ہاتھوں سے مٹایا تھا۔

اسے یاد آیا کہ جب وہ بیمار ہوتا تھا تو کس طرح ایک بوڑھی ماں پوری رات اس کے سرہانے بیٹھ کر دعائیں مانگتی تھی۔ اسے یاد آیا وہ کچا گھر، وہ مٹی کا چولہا اور وہ دعاؤں سے بھری ہوئی آواز جو کہتی تھی کہ بیٹا، دنیا کچھ بھی کہے، ماں کا دل کبھی نہیں بدلتا۔

ندامت کی آگ نے عادل کے دل کو اندر سے جلا کر راکھ کر دیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس نے آسمان کی طرف منہ کر کے معافی مانگنی چاہی، مگر زمین اور آسمان دونوں پر سناٹا تھا۔ اس کے پاس اب ایک ہی راستہ بچا تھا؛ اپنی اسی بوڑھی ماں کے پاس لوٹ جانا، جس کی دلآزاری کر کے اس نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کر لی تھیں۔

باب پنجم: سفرِ ندامت اور واپسی کا کٹھن راستہ

عادل نے بستی کی طرف جانے والے بس کا کرایہ مانگنے کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، کسی نے روکھا جواب دیا تو کسی نے ترس کھا کر چند سکے دے دیے۔ وہ پھٹے جوتوں اور خستہ حال حالت میں کئی دن کا سفر طے کر کے اپنے آبائی ضلع کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے دل میں ایک ہی خوف تھا کہ کہیں بہت دیر نہ ہو چکی ہو۔ کیا اس کی ماں اب بھی زندہ ہوگی؟ کیا وہ اسے اس حال میں معاف کرے گی؟

جب وہ اپنی پرانی بستی کی حدود میں داخل ہوا، تو سورج غروب ہو رہا تھا اور شام کا دھندلاہٹ ہر طرف پھیل رہی تھی۔ ہوا میں وہی پرانی مٹی کی خوشبو تھی، جو برسوں پہلے اس نے چھوڑی تھی۔ عادل کے پیر کانپ رہے تھے، اس کا سانس پھول رہا تھا اور دل کی دھڑکنیں اتنی تیز تھیں کہ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ابھی بے ہوش ہو جائے گا۔

وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اپنی گلی میں داخل ہوا۔ گلی کے بچے اسے اجنبی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جب وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچا، تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ گھر کے دروازے پر تالا نہیں تھا، بلکہ باہر محلے کی چند عورتیں اور بوڑھے لوگ جمع تھے۔ گھر کے اندر سے مدہم مدہم رونے اور قرآن خوانی کی آوازیں آ رہی تھیں!

باب ششم: آخری چوکھٹ اور دل سوز حقیقت

عادل حواس باختہ ہو کر دوڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اس کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی: "اماں! ... اماں میں آ گیا ہوں!"

دالان میں ایک سفید چادر میں لپٹا ہوا بے جان جسم پڑا تھا۔ محلے کے بوڑھے حاجی صاحب نے آگے بڑھ کر عادل کو تھام لیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز بھاری تھی۔ انہوں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا: "عادل! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں پچھلے سولہ سال سے روزانہ اسی چوکھٹ پر بیٹھ کر تمہاری راہ تکتی تھی۔ کل رات جب اس کی آخری سانسیں نکل رہی تھیں، تو اس نے آخری بار یہی پوچھا تھا کہ میرا عادل آیا کیا؟ اور پھر وہ تمہارا نام پکارتے ہوئے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئی..."

عادل کی ٹانگیں جواب دے گئیں اور وہ دھڑام سے زمین پر گر پڑا۔ وہ گھسٹتا ہوا اس چار پائی کے پاس گیا، ماں کے سرد اور بے جان پیروں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور پاگلوں کی طرح رونے لگا۔ اس نے چیخ چیخ کر کہا: "اماں! اٹھو! دیکھو میں سب کچھ ہار کر تمہارے پاس لوٹ آیا ہوں... مجھے معاف کر دو اماں! ایک بار مجھ سے بات کرو..."

مگر اب جواب دینے کے لیے وہ ماں وہاں موجود نہیں تھی۔ اس کے ہاتھ میں اماں کی وہ پرانی تسبیح تھی، جس کا ہر دانہ بیٹے کے انتظار کی گواہی دے رہا تھا۔ عادل کا پچھتاوا اب اس کے لیے عمر بھر کا روگ بن چکا تھا، اور وہ ویران چوکھٹ گواہ تھی کہ دنیا کی دولت انسان کو سب کچھ دے سکتی ہے، مگر ماں کی دعا کا نعم البدل دنیا کی کسی تجوری میں نہیں پایا جاتا۔

Post a Comment

0 Comments