Urdu Kahania -Digital Kahani -Purana chasma

پرانا چشمہ اور خالی گہوارہ

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

گاؤں کے ایک پُرانے اور اجڑے ہوئے گھر کے روشن دان سے جب دوپہر کی مدہم دھوپ اندر آتی، تو وہ سیدھی ایک لکڑی کے خالی گہوارے پر پڑتی تھی۔ اس گہوارے کے قریب رکھی ایک چھوٹی سی میز پر تانبے کا ایک پرانا چشمہ اور عینک کا کیس دھرا تھا، جسے پچھلے تیرہ سال سے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ یہ چیزیں اسّی سالہ مسمات بلقیس کی تھیں، جو روزانہ اپنی ماند پڑتی بینائی کے ساتھ اس خالی گہوارے کو دیکھتیں اور اپنے اکلوتے بیٹے احسان کی راہ تکتی رہتیں، جو جوانی کے جوش میں گھر چھوڑ کر شہر گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔

احسان کے بلند و بالا خواب اور غفلت

احسان جب شہر گیا تھا تو اس کے پاس بڑے بڑے ارادے تھے: "اماں! یہ بستی اور اس کچے گھر کی تنگ دستی اب مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔ میں شہر جا کر اتنا کماؤں گا کہ تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔" مگر شہر کی رنگین دنیا، بڑی نوکری اور دولت کی چمک نے احسان کو اس قدر خود غرض بنا دیا کہ اس نے اپنے بوڑھے ماں باپ اور اس پرانے گھر کو ایک پرانے باب کی طرح بند کر دیا۔ شروع میں کچھ خطوط آئے، پھر پیسوں کا سلسلہ بند ہوا اور آخرکار احسان کا نام لینا بھی گھر میں جرم بن گیا۔

بلقیس بی بی ہر روز اس عینک کو پہن کر دروازے کی طرف دیکھتیں اور محلے کے لوگوں سے کہتیں: "کوئی میرے احسان کو بتائے کہ اس کی ماں کا دم نکل رہا ہے، وہ آ کر مجھے آخری بار دیکھ لے..." محلے والے ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے، مگر وقت کے اس بہاؤ میں کوئی اس ماں کے دل کا بوجھ ہلکا نہ کر سکا۔

دیر سے جاگنے والا ضمیر اور پچھتاوے کا بوجھ

برسوں بعد جب احسان کے کاروبار کو ایک بہت بڑا دھکا لگا، اس کے تمام ساتھی اسے دھوکہ دے کر اس کا سارا سرمایہ سمیٹ کر چل دیے، اور وہ سڑک پر آ گیا، تب اسے اپنے اس اجڑے ہوئے گھر اور اس ماں کی یاد تڑپانے لگی جس نے اسے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ وہ ندامت کے بوجھ تلے دبا ہوا، پھٹے ہوئے کپڑوں میں ایک طویل سفر طے کر کے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔

جب وہ پرانی گلی میں داخل ہوا، تو اس کے آبائی گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ حواس باختہ ہو کر اندر داخل ہوا؛ ماں کا بے جان جسم سفید چادر اوڑھے چار پائی پر پڑا تھا اور ہمسائے تدفین کے آخری مراحل میں مصروف تھے۔

ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر احسان کا ہاتھ پکڑا اور کانپتی ہوئی آواز میں بولا: "احسان! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں مرتے وقت بھی اسی خالی گہوارے کو دیکھ کر کہہ رہی تھی کہ میرا بیٹا بچپن میں بھی راستہ بھول جاتا تھا، آج بھی شاید راستہ بھٹک گیا ہے..." احسان نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے ماں کے سرد قدموں پر سر رکھ دیا اور چیخ چیخ کر معافی مانگنی چاہی، مگر اب اس خالی گہوارے اور پرانے چشمے کے پاس رونے والے بیٹے کے آنسو پونچھنے کے لیے وہ ماں ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی۔

Post a Comment

0 Comments