پرانا چولہا اور ٹھنڈی راکھ
شہر سے دور بستی کے ایک نکر والے کچے گھر کے صحن میں مٹی کا ایک پرانا چولہا رکھا تھا، جس میں پچھلے دس سال سے آگ نہیں جلی تھی اور اس کی راکھ مکمل طور پر ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ اس چولہے کے پاس ایک ٹوٹی ہوئی لکڑی کی پیڑھی پر بیٹھی نوے سالہ مسمات زینب بی بی ہر روز شام کو خالی ہاتھ بیٹھ جاتیں، چولہے کی راکھ کو پھونکتی اور اپنے اکلوتے بیٹے کا نام پکارتی رہتیں۔ ان کا بیٹا طارق جوانی کے جوش میں گھر کے حالات بدلنے کی قسم کھا کر بڑے شہر گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔
طارق کے بڑے خواب اور بے وفائی
طارق جب بستی سے نکلا تھا تو اس کے پاس ماں کی دعاؤں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ جاتے ہوئے اس نے کہا تھا: "اماں! یہ دھواں اور مٹی کا چولہا اب تمہاری قسمت میں نہیں رہنے دوں گا۔ شہر جا کر گیس کا چولہا لاؤں گا اور تجھے آرام دوں گا۔" مگر شہر کی چمکتی ہوئی دنیا، دولت کے انبار اور فریب دینے والی رنگینیوں نے طارق کو اس قدر بدلا کہ اس نے اپنے بوढ़े ماں باپ اور اس کچے گھر کو ایک پرانے بوجھ کی طرح بھلا دیا۔ ابتدائی مہینوں میں کچھ پیسے آئے، پھر رابطے کم ہوئے اور آخرکار فون نمبر تک بدل گئے۔
ز زینب بی بی ہر روز اس ٹھنڈی راکھ میں چنگاری ڈھونڈتی تھیں اور محلے کے لوگوں سے کہتیں: "کوئی میرے طارق کو بتاؤ کہ اس کی ماں کے لیے اس چولہے پر روٹی پکائے بغیر اتنے سال گزر گئے، وہ آ کر مجھے ایک بار دیکھ لے..." محلے والے ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے، مگر وقت کے اس بے رحم تھپیڑے میں کوئی اس ماں کے دل کی آگ کو ٹھنڈا نہ کر سکا۔
دیر سے جاگنے والا ضمیر اور خالی گھر
برسوں بعد جب طارق کے کاروبار کو ایک بہت بڑا دھکا لگا، اس کے تمام ساتھی اسے دھوکہ دے کر سارا سرمایہ سمیٹ کر چل دیے، اور وہ شدید مالی زوال کا شکار ہو کر سڑک پر آ گیا، تب اسے اپنے اس اجڑے ہوئے گھر اور اس ماں کی یاد تڑپانے لگی جس نے اسے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ وہ ندامت کے بوجھ تلے دبا ہوا، پھٹے ہوئے کپڑوں میں ایک طویل سفر طے کر کے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔
جب وہ پرانی گلی میں داخل ہوا، تو اس کے آبائی گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ حواس باختہ ہو کر اندر داخل ہوا؛ ماں کا بے جان جسم سفید چادر اوڑھے چار پائی پر پڑا تھا اور ہمسائے تدفین کے آخری مراحل میں مصروف تھے۔
ایک بوڑھے ہمسای نے آگے بڑھ کر طارق کا ہاتھ پکڑا اور کانپتی ہوئی آواز میں بولا: "طارق! تم بہت دیر سے آئے۔ تمہاری ماں مرتے وقت بھی اسی ٹھنڈی راکھ کو دیکھ کر کہہ رہی تھی کہ میرا بیٹا بھوکا آ رہا ہوگا، کوئی اس کے لیے چولہا جلا دو..." طارق نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے ماں کے سرد قدموں پر سر رکھ دیا اور چیخ چیخ کر معافی مانگنی چاہی، مگر اب اس پرانے چولہے اور ٹھنڈی راکھ کے پاس رونے والے بیٹے کے آنسو پونچھنے کے لیے وہ ماں ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی اور اس کے حصے میں صرف زندگی بھر کی راکھ اور اکیلا پن رہ گیا تھا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.