پرانا صندوق اور مٹی کی گڑیا
گاؤں کے ایک پرانے اور خستہ حال گھر کے کونے میں لکڑی کا ایک بھاری صندوق رکھا تھا، جس کے اندر ایک ٹوٹی ہوئی مٹی کی گڑیا اور بچپن کے چند کپڑے سلیقے سے رکھے ہوئے تھے۔ یہ صندوق بانو بی بی کا تھا، جو پچھلے اٹھارہ سال سے روزانہ عشا کی نماز کے بعد اس صندوق کو کھولتیں، اس مٹی کی گڑیا کو چومتیں اور خاموشی سے آنسو بہاتی تھیں۔ یہ گڑیا ان کی اکلوتی بیٹی مریم کی تھی، جوانی کے آغاز میں ہی جب غربت سے تنگ آ کر گھر کے حالات سے بغاوت کرتی ہوئی بڑے شہر چلی گئی تھی اور پھر کبھی پلٹ کر واپس نہیں آئی تھی۔
مریم کے خواب اور شہر کی چکاچوند
مریم جب گھر سے گئی تھی تو اس کی آنکھوں میں بڑے شہر کی رنگین فضاؤں اور ماڈلنگ یا فیشن کی دنیا میں نام کمانے کے سنہرے خواب تھے۔ جاتے ہوئے اس نے ماں سے کہا تھا: "اماں! یہ کچا گھر، یہ مٹی اور یہ غریبی اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتی۔ میں شہر جا کر اتنی دولت کماؤں گی کہ تم پہچان نہیں پاؤ گی۔" ماں نے اسے بہت سمجھایا تھا کہ بیٹی، شہر کی یہ ظاہری چمک عارضی ہوتی ہے، مگر مریم کے سر پر کامیابی کا بھوت سوار تھا۔
شروع کے چند ماہ تو کبھی کبھار فون آ جاتا تھا، مگر پھر شہر کی بے رحم دنیا نے مریم کو ایسا بدلا کہ اس نے اپنے غریب والدین اور اس چھوٹے سے گاؤں کو اپنی شان و شوکت کے راستے میں رکاوٹ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ کچھ ہی عرصے میں ماں باپ کا دل ٹوٹنے سے دنیا ہی سے کوچ کر گیا، مگر اکیلی بانو بی بی اس امید پر زندہ رہیں کہ شاید ان کی بیٹی ایک دن پچھتا کر ضرور لوٹے گی۔
بربادیاں اور ندیم کی شام
وقت کا پہیہ گھوما اور وہ فریب کا محل جو مریم نے کھڑا کیا تھا، ایک طوفان کی طرح ڈہ گیا۔ غلط صحبت، جھوٹے وعدے کرنے والے دوست اور فیشن کی دنیا کے دھوکے نے مریم کو ذہنی اور مالی طور پر تباہ کر دیا۔ جب اس کے پاس نہ پیسہ رہا، نہ حسن اور نہ ہی کوئی سہارا، تب اسے اپنے اس پرانے گھر اور ماں کی دعائیں شدت سے یاد آئیں۔
ایک بارش کی رات، جب سرد ہواؤں کے جھونکے چل رہے تھے، مریم پھٹے پرانے کپڑوں میں لپٹی ہوئی، روتی ہوئی اس پرانے گھر کی دہلیز پر پہنچی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ ہمسایوں نے باہر نکل کر دیکھا تو وہ حیران رہ گئے؛ بانو بی بی تو برسوں پہلے دنیا سے جا چکی تھیں اور گھر اب ایک ویران کھنڈہر بن چکا تھا۔
مریم دوڑتی ہوئی اندر گئی اور لکڑی کے اس پرانے صندوق کو کھولا، جس کے اندر وہی ٹوٹی ہوئی مٹی کی گڑیا اور اس کی ماں کا لکھا ہوا ایک خط پڑا تھا جس پر لکھا تھا: "میری پیاری مریم! دنیا تمہیں جتنا بھی ٹھکرا دے، میری گڑیا کے لیے اس گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے..." مریم نے اس مٹی کی گڑیا کو سینے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، مگر اب اس کے آنسوؤں کو پونچھنے اور اسے گلے لگانے کے لیے اس دنیا میں اس کی ماں موجود نہیں تھی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.