Urdu Kahania -Digital kahani - Purana Charkha

پرانا چرخہ اور ماں کی آخری امید

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر کے دالان میں لکڑی کا ایک پرانا چرخہ رکھا تھا، جس کی سائیں سائیں کی آواز برسوں سے اس گھر کا واحد سکون تھی۔ اسی چرخه کے پاس بیٹھی اسی سالہ بخت بھری روزانہ سوت کاتتے کاتتے باہر کے راستے کو تکتی رہتی تھیں۔ ان کی بینائی اب کمزور ہو چکی تھی، مگر دل کی آنکھیں اب بھی اپنے اکلوتے بیٹے سہراب کا راستہ دیکھتی تھیں، جو تیرہ سال پہلے گھر والوں کی مرضی کے خلاف ایک بڑے شہر میں اپنی قسمت آزمانے گیا تھا اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔

بڑے شہر کے خواب اور فریب

سہراب جب گھر سے نکلا تھا تو اس کے دل میں بڑے بڑے ارادے تھے۔ وہ کہتا تھا: "اماں! یہ گاؤں کی غربت ہمارے مقدر میں ہمیشہ کے لیے نہیں رہ سکتی۔ میں شہر جا کر اتنا کماؤں گا کہ تم سے یہ پرانا چرخہ چھڑا دوں گا اور تمہیں آرام کی زندگی دوں گا۔" بخت بھری نے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا تھا۔

شروع کے چند ماہ تو سہراب کا خط اور تھوڑی بہت رقم آتی رہی، مگر جیسے جیسے وقت گزرا، شہر کی چکاچوند اور اونچی عمارتوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سہراب کو لگا کہ اس کی غریب ماں اور یہ پرانا گھر اس کی نئی شان و شوکت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس نے رابطے آہستہ آہستہ بالکل ختم کر دیے۔ گاؤں کے لوگ کہتے تھے: "بخت بھری! اب اس نالائق کو بھول جاؤ، بڑے شہر جا کر لوگ اپنے ماں باپ کو یاد نہیں رکھتے۔" مگر ماں کا دل کہتا تھا کہ میرا بیٹا جہاں بھی ہو گا، ایک دن پچھتا کر ضرور لوٹے گا۔

تقدیر کا پلٹا اور ندامت کا سفر

وقت کا پہیہ گھوما اور دنیا نے اپنا رنگ دکھایا۔ جس سہراب کے پاس دولت اور اچھے دوستوں کا تانتا بندھا تھا، ایک غلط کاروباری شراکت داری اور دھوکہ دہی نے اسے ایک ہی رات میں سڑک پر لا کھڑا کیا۔ اس کا بزنس ڈوب گیا، لاکھوں کے قرضے سر پر آ گئے اور جن دوستوں نے کبھی اس کی تعریف کی تھی، انہوں نے منہ موڑ لیا۔ جب ہر طرف اندھیرا چھا گیا اور کوئی سہارا نہ بچا، تو سہراب کو اپنی بوڑھی ماں کا وہ کچا گھر اور چرخے کی آواز شدت سے یاد آئی۔

ایک اندھیری اور سرد رات، جب بارش تیز ہو رہی تھی، دالان میں رکھے پرانے چرخے کے پاس بیٹھی بخت بھری کو دروازے پر ہلکی سی دستک سنائی دی۔ انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے دیا اٹھایا اور دروازہ کھولا؛ سامنے بارش میں بھیگا ہوا ایک شخص کھڑا تھا، جس کے چہرے پر کامیابی کی چمک کی بجائے گہری ندامت اور تھکن کے بادل تھے۔

وہ سہراب تھا! وہ سیدھا ماں کے قدموں میں گر پڑا اور پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگا: "اماں مجھے معاف کر دو! میں دنیا کے فریب میں اندھا ہو گیا تھا، سب کچھ ہار کر اب صرف تمہاری دہلیز پر پناہ لینے آیا ہوں۔" بخت بھری نے جھک کر اپنے بیٹے کو اٹھایا، اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور بولیں: "روتے کیوں ہو میرے لعل! ماں کے دروازے اولاد کے لیے کبھی بند نہیں ہوتے۔ میرا بیٹا لوٹ آیا، میرے لیے اس سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے۔" اس رات اس پرانے گھر میں چرخے کی سائیں سائیں نے ایک بار پھر خوشیوں کا گیت گانا شروع کر دیا۔

Post a Comment

0 Comments