پرانا حیا کا جوڑا اور ادھوری دعائیں
گاؤں کی اس پرانی اور خستہ حال گلی میں جب بھی شام کا سایا گہرا ہوتا، ایک مکان کی کھڑکی پر رکھی لالٹین ہلکی سی روشنی بکھیرنے لگتی تھی۔ اس گھر کے اندر اسی سالہ اماں سکینہ بسترِ مرگ پر پڑی تھیں اور ان کے کانپتے ہوئے ہاتھ ایک پرانے صندوق کو ٹٹول رہے تھے۔ اس صندوق کے اندر موتیوں کی کڑھائی والا ایک ایسا روایتی جوڑا رکھا تھا جو انہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی عائزہ کے لیے بڑی محنت سے سیا تھا، جو پندرہ سال پہلے بڑے شہر میں نام اور دولت کمانے کی ہوس میں گھر چھوڑ کر گئی تھی اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آئی تھی۔
عائزہ کے بڑے خواب اور بے وفائی
عائزہ جب گاؤں سے رخصت ہوئی تھی تو اس کی زبان پر ایک ہی ضد تھی: "اماں! یہ تنگدست حویلیاں اور عام لباس میرے لیے نہیں ہیں۔ میں شہر جا کر فیشن کی دنیا میں ایسا نام بناؤں گی کہ سب دیکھتے رہ جائیں گے۔" ماں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے سمجھایا تھا کہ بیٹی، اصل خوبصورتی اور سکون حیا اور اپنوں کے ساتھ میں ہے، مگر عائزہ کے سر پر جدید دنیا اور سرمائے کا جنون سوار تھا۔ وہ چلی گئی اور پھر اس کی آواز صرف ٹی وی سکرینز یا کبھی کبھار آنے والے سرد خطو ط تک محدود ہو گئی۔
وقت گزرا، عائزہ شہر کی چکاچوند میں اتنی گم ہوئی کہ اس نے اپنے بوڑھے والدین اور اس مٹی کے گھر کو ایک پرانا قصہ سمجھ کر بھلا دیا۔ ماں باپ دونوں تلخ حالات اور غمِ جدائی میں ایک ایک کر کے دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر اماں سکینہ کی روح ہمیشہ اس دروازے پر لٹکی رہی جہاں سے ان کی بیٹی نے جانے کا رستہ چنا تھا۔
دیر سے جاگنے والا ضمیر اور کھنڈہر بنا گھر
برسوں بعد جب عائزہ کی فریب دنیا بکھر گئی، اس کا کیریئر برباد ہو گیا، اس کے اپنے ساتھی اسے اکیلا چھوڑ گئے اور وہ تمام مالی و ذہنی توازن کھو بیٹھی، تب اسے اپنے آبائی گھر اور ماں کی دعائیں شدت سے یاد آئیں۔ وہ ندامت کے بوجھ تلے جھکی ہوئی، ٹوٹے دل کے ساتھ ایک طویل سفر طے کر کے اپنے گاؤں پہنچی۔
جب وہ پرانی گلی میں داخل ہوئی، تو اس کا گھر اب ایک ویران کھنڈہر بن چکا تھا۔ دروازے پر تالا نہیں تھا بلکہ اندر چند ہمسائے بیٹھے پرانی یادیں تازہ کر رہے تھے۔ عائزہ حواس باختہ ہو کر اندر داخل ہوئی؛ اس کی ماں اور باپ دونوں مٹی کے نیچے جا چکے تھے۔
ایک بوڑھی ہمسائی نے آگے بڑھ کر عائزہ کے ہاتھ میں وہی موتیوں کی کڑھائی والا پرانا جوڑا تھمایا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولی: "عائزہ! تم بہت دیر سے آغی ہو۔ تمہاری ماں مرتے وقت بھی اسی جوڑے کو سینے سے لگائے یہی دعا مانگ رہی تھی کہ میری بیٹی جب بھی لوٹے، اسے سردی نہ لگے اور اس کا نصیب سنور جائے..." عائزہ نے اس جوڑے کو اپنے سینے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، مگر اب اس کے آنسوؤں کو پونچھنے اور اسے سینے سے لگانے کے لیے اس دنیا میں اس کی ماں موجود نہیں تھی؛ اور اس کے حصے میں صرف زندگی بھر کا سناٹا اور ادھوری دعائیں رہ گئیں۔

0 Comments
Thanks for your feedback.