Urdu Kahania -Digital Kahani -Purana Burqa

پرانا برقع اور ادھوری مہندی

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

گاؤں کی اس پرانی گلی میں جب بھی شام کا دھندلکاترتا، ایک چھوٹے سے گھر کے دالان میں رکھی سلائی مشین کی آواز مدہم پڑ جاتی۔ اسّی سالہ اماں عائشہ پچھلے تیرہ سال سے ہر روز عشا کے بعد ایک پرانا سیاہ برقع اور مہندی کی ڈبیہ اپنے پاس رکھ کر بیٹھ جاتیں۔ یہ برقع ان کی اکلوتی بیٹی زارا کا تھا، جو فیشن اور ماڈلنگ کی اندھی ہوس میں اپنے بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر بڑے شہر چلی گئی تھی اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں آئی تھی۔

زارا کے خواب اور شہر کی چکاچوند

زارا جب گھر سے نکلی تھی تو اس کے دل میں شہر کی چمکتی ہوئی دنیا اور بڑی شہرت پانے کی تڑپ تھی۔ جاتے ہوئے اس نے ماں سے کہا تھا: "اماں! یہ پرانا برقع اور یہ چھوٹے موٹے کپڑے سلائی کرنے کا کام میری زندگی نہیں بن سکتے۔ میں شہر جا کر اتنی دولت کماؤں گی کہ ہم شاہانہ زندگی گزاریں گے۔" ماں نے روتے ہوئے سمجھایا تھا کہ بیٹی، حیا اور سکون جتنا اس سادہ لباس میں ہے، وہ شہر کے کسی محل میں نہیں، مگر زارا کے سر پر کامیابی کا جنون سوار تھا۔

شروع کے چند ماہ فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، پھر رابطے کم ہوتے گئے اور آخرکار بالکل منقطع ہو گئے۔ شہر کی رنگینیوں نے زارا کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ وہ اپنے بوढ़े والدین اور اس مٹی کے گھر کو یکسر بھول گئی۔ ماں باپ دونوں غمِ جدائی اور ٹوٹے دل کے ساتھ ایک ایک کر کے دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر اماں عائشہ کی روح ہمیشہ اس دروازے پر لٹکی رہی۔

دیر سے جاگنے والا ضمیر اور سناٹا

وقت کا پہیہ گھوما اور زارا کی وہ فریب دنیا ایک لمحے میں ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ گئی۔ دوست منہ پھیر گئے، فیشن کی دنیا سے نام مٹ گیا اور وہ شدید مالی و ذہنی بحران کا شکار ہو گئی۔ جب اس کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہ رہی، تب اسے اپنے اس آبائی گھر اور ماں کی یاد شدت سے تڑپانے لگی۔

ایک بارش کی رات، زارا پھٹے پرانے کپڑوں میں لپٹی ہوئی، روتی ہوئی اس پرانے گھر کی دہلیز پر پہنچی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ ہمسایوں نے باہر نکل کر دیکھا تو گھر اب ایک ویران کھنڈہر بن چکا تھا اور ماں باپ دونوں مٹی کے نیچے جا چکے تھے۔

ایک بوڑھی ہمسائی نے آگے بڑھ کر زارا کے ہاتھ میں وہی پرانا سیاہ برقع اور مہندی کی سوکھی ڈبیہ تھمائی اور روتے ہوئے بولی: "زارا! تم بہت دیر سے آئی ہو۔ تمہاری ماں مرتے وقت بھی یہی برقع سینے سے لگائے ہاتھوں پر منڈالا مہندی سجانے کا انتظار کر رہی تھی..." زارا نے اس برقع کو اپنے چہرے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، مگر اب اس کے آنسوؤں کا مول چکانے اور اسے گلے لگانے کے لیے اس دنیا میں اس کی ماں موجود نہیں تھی؛ اور اس کے حصے میں صرف زندگی بھر کا پچھتاوا اور ادھوری مہندی رہ گئی۔

Post a Comment

0 Comments