ابّا کی گھڑی اور پرانا بستہ
شہر کے اس پرانے محلے میں جب بھی شام کا دھندلاہٹ اترتی، ایک چھوٹے سے گھر کے دالان میں رکھی لکڑی کی پرانی میز پر ایک گھڑی اور بچوں کا ایک بوسیدہ بستہ دھرا دکھائی دیتا۔ اسّی سالہ بابا صابر پچھلے بارہ سال سے ہر روز مغرب کے بعد اس میز کے سامنے بیٹھتے، اس گھڑی کی سوئیوں کو صاف کرتے اور اپنے چھوٹے بیٹے فہد کا انتظار کرتے، جو جوانی کے جوش میں ملک سے باہر جا کر بڑا آدمی بننے کی ضد کر کے گھر چھوڑ گیا تھا اور پھر برسوں تک پلٹ کر نہیں آیا تھا۔
فہد کے خواب اور پردیس کا سفر
فہد جب گھر سے جا رہا تھا تو اس کی آنکھوں میں پردیس کی چمکتی ہوئی دنیا اور بے پناہ دولت کے خواب تھے۔ اس نے جاتے ہوئے ابّا سے کہا تھا: "ابّا! یہ تنگی، یہ پرانی گھڑی اور یہ عام زندگی اب مجھ سے مزید نہیں کاٹی جاتی۔ میں سمندر پار جا کر اتنا کماؤں گا کہ ہم سب کے دن بدل جائیں گے۔" بابا صابر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا: "بیٹا! وقت کی دوڑ میں اپنوں کو مت چھوڑنا، کیونکہ دولت سے زیادہ سکون دلوں کے پاس ہوتا ہے۔" مگر فہد کے سر پر پردیس کا جنون سوار تھا اور وہ کسی کی سنے بغیر چلا گیا۔
شروع کے کچھ مہینے فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، پھر یہ فاصلے بڑھتے گئے اور آخرکار رابطے بالکل منقطع ہو گئے۔ پردیس کی رنگینیوں اور کام کی اندھی دوڑ نے فہد کو اس طرح بدلا کہ اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ اس کا بوڑھا باپ روزانہ اس کی راہ تکتا ہے۔ محلے والے بابا صابر سے کہتے: "صابر بھائی! اب اس نالائق کا انتظار چھوڑ دو، باہر جانے والے اپنے پرانے گھروں کے راستے بھول جاتے ہیں۔" مگر بابا صابر مسکرا کر کہتے: "باپ کا دل کبھی مایوس نہیں ہوتا، میرا بیٹا ایک نہ ایک دن ضرور لوٹے گا۔"
تقدیر کا کٹھن موڑ اور پچھتاوے کی شام
وقت کا پہیہ گھوما اور تقدیر نے اپنا روپ بدل لیا۔ فہد نے جس فریب اور دولت کے سہارے اپنی نئی دنیا بنائی تھی، وہ اچانک ایک بڑے مالیاتی بحران میں بیٹھ گئی۔ نوکری چلی گئی، سارے ساتھی منہ پھیر گئے اور وہ کڑے قرضوں کے بوجھ تلے دب کر بالکل تنہا رہ گیا۔ جب اس کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہ رہی، تب اسے اپنے بوڑھے باپ کی وہ پرانی گھڑی اور بچپن کی باتیں شدت سے یاد آئیں۔
ایک سرد اور تاریک رات، جب باہر تیز آندھی چل رہی تھی، اس پرانے گھر کے دروازے پر انتہائی ہلکی سی دستک ہوئی۔ بابا صابر نے کانپتے ہاتھوں سے لالٹین اٹھائی اور دروازہ کھولا؛ سامنے زمین پر نڈھال پڑا ہوا فہد تھا، جس کے جسم پر پھٹے ہوئے کپڑے اور چہرے پر ندامت کے آنسو جم چکے تھے۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور بولا: "ابّا مجھے معاف کر دیں! میں سب کچھ ہار کر، دنیا کا سب سے بے وقوف انسان بن کر آپ کے پاس لوٹا ہوں... کیا آپ مجھے اپنائیں گے؟" بابا صابر نے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا اور بولے: "پاگل! باپ کبھی اولاد سے خفا نہیں ہوتا۔ میرا مسافر لوٹ آیا، اب میرے دل کا ہر بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔" اس رات اس گھر میں برسوں کا سناٹا ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
0 Comments
Thanks for your feedback.