Urdu Kahania -Digital Kahani -Kshmir ki Baraf

کشمیر کی برف اور خون سے رنگین مٹی

ایک دل دہلا دینے والی، جگر پاش اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی داستانِ الم | تحریر: خصوصی ادراک

باب اول: وادیِ نیلم کا پرسکون گاؤں اور یوسف کا آنگن

وادیِ کشمیر کو دنیا کی جنت کہا جاتا ہے، جہاں کے اونچے سرسبز پہاڑ، دودھ کی طرح سفید آبشاریں اور نیلگوں ندیاں دیکھنے والے کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔ مگر اس حسین و جمیل وادی کا ایک اور رخ بھی ہے—ایک ایسا تاریک رخ جہاں کی ہر چٹان، ہر درخت اور ہر بستی نے خون کے آنسو دیکھے ہیں۔ اسی وادی کے ایک دور افتادہ، پہاڑی گاؤں 'کیل' کے دامن میں پنٹھاسٹی سالہ یوسف کا چھوٹا سا لکڑی کا گھر تھا۔

یوسف ایک انتہائی محنتی اور شریف کسان تھا، جو صبح سویرے اٹھ کر سیب کے باغات میں کام کرتا یا لکڑیاں کاٹ کر شہر کی مارکیٹ میں بیچتا تاکہ اس کا ہنستا بستا گھر چل سکے۔ اس کے گھر میں اس کی بیمار بیوی آمنہ اور دو معصوم بچے تھے—بڑا بیٹا بلال جو نو سال کا تھا اور چھوٹی بیٹی مریم جو محض پانچ سال کی تھی۔ مریم اس گھر کی جان تھی، جس کی ہنسی سے پورا گھر چہک اٹھتا تھا۔ یوسف شام کو جب تھکا ہارا گھر لوٹتا، تو مریم دوڑ کر اس کے گلے لگ جاتی اور کہती: "ابابا! آج آپ میرے لیے کیا لائے ہیں؟" اور یوسف ہمیشہ اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا مٹھائی کا ٹکڑا یا لکڑی کا کھلونا نکال کر اس کے حوالے کر دیتا۔

آمنہ پچھلے کئی مہینوں سے دل کے عارضے اور شدید کھانسی میں مبتلا تھی، مگر پہاڑی علاقے میں علاج کی کوئی مناسب سہولت نہ ہونے کی وجہ سے یوسف بس روایتی جڑی بوٹیوں سے اس کا علاج کر رہا تھا۔ غربت کی چکی میں پستے ہوئے بھی یہ خاندان ایک دوسرے کی محبت سے پرسکون زندگی گزار رہا تھا، انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کے اس چھوٹے سے آشیانے پر غم کا کوئی بہت بڑا طوفان منڈلا رہا ہے!

باب دوم: دسمبر کی قیامت خیز رات اور گولیوں کی آواز

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی وادی میں شدید برفباری کا آغاز ہو گیا۔ پورا گاؤں سفید چادر میں لپٹ گیا اور درجہ حرارت منفی میں چلا گیا۔ گھروں کے اندر جلانے کے لیے جو لکڑیاں رکھی تھیں، وہ بھی اب ختم ہونے کے قریب تھیں۔ باہر طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں اور پہاڑوں سے برف کے تودے گرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

آدھی رات کا وقت تھا جب اچانک گاؤں میں سائرن کی آوازوں اور اندھا دھند فائرنگ کے شور نے سب کو بیدار کر دیا۔ یہ وہ دن تھا جب سرحدی کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور دونوں طرف سے گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ گولے فضا کو چیرتے ہوئے مکانوں پر گر رہے تھے۔

یوسف نے گھبرا کر اپنی آنکھیں کھولیں اور بچوں کو سینے سے لگا لیا۔ آمنہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ اتنے میں ایک زور دار دھماکہ ان کے گھر کے پچھلے حصے میں ہوا، جس سے باورچی خانے کی چھت بیٹھ گئی اور کمرے میں دھوئیں کا غبار پھیل گیا۔

مریم خوف سے چیخ پڑی اور اپنے باپ کے بازو سے لپٹ گئی: "ابابا! مجھے ڈر لگ رہا ہے... یہ کیا آوازیں ہیں؟"

یوسف نے اپنے آنسو چھپاتے ہوئے کہا: "مجھ سے لپٹے رہو میری بچی! کچھ نہیں ہو گا، میں تمہیں بچا لوں گا..." مگر اس کے اپنے دل میں خوف کی لہر دوڑ رہی تھی کیونکہ گولہ باری رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

باب سوم: آمنہ کا آخری سانس اور گھر کا اجڑنا

رات بھر کی اس ہولناک بمباری کے بعد جب صبح کا ہلکا سا اجالا پہاڑوں کے پیچھے نمودار ہوا، تو فائرنگ تھم چکی تھی۔ مگر جو منظر یوسف کے سامنے تھا، وہ اس کی روح کو ہمیشہ کے لیے زخمی کر چکا تھا۔

دھماکے کی شدت سے آمنہ کا دل کا دورہ پہلے ہی پڑ چکا تھا، اور اب وہ بستر پر بے جان پڑی تھی۔ اس کی کھلی آنکھیں دروازے کی طرف دیکھ رہی تھیں جیسے وہ اپنے بچوں کو آخری بار دیکھنا چاہتی ہوں۔ یوسف جب اپنی بیوی کی طرف لپکا، تو اس کی سانسیں ہمیشہ کے لیے رک چکی تھیں۔

بلال اور مریم اپنی ماں کی لاش سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ یوسف کے پاس رونے کا وقت بھی نہیں تھا کیونکہ گھر کا آدھا حصہ تباہ ہو چکا تھا اور باہر شدید برفباری میں لاش کو دفنانا بھی ایک عذاب بن چکا تھا۔ گاؤں کے چند لوگ آئے، انہوں نے کچے راستوں پر برف ہٹا کر آمنہ کو اسی وادی کے ایک کونے میں سپردِ خاک کر دیا۔

ماں کے جانے کے بعد سے مریم نے بالکل بولنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ سارا دن ایک کونے میں بیٹھی رہتی اور اپنی ماں کا پرانا دوپٹہ ہاتھ میں لیے رکھتی۔ گھر میں کھانے کے لیے ایک دانہ بھی نہیں بچا تھا، اور یوسف شدید صدمے اور سردی کی وجہ سے اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔

باب چہارم: ہجرت کا سفر اور برفانی طوفان

گاؤں کے کونسلر نے آ کر وارننگ دی کہ اب یہاں رکنا خود کشی ہے کیونکہ کسی بھی وقت دوبارہ گولہ باری شروع ہو سکتی ہے، اس لیے تمام لوگوں کو محفوظ مقام پر نیچے وادی کی طرف ہجرت کرنی ہوگی۔

یوسف نے مجبور ہو کر اپنے دونوں بچوں کو اٹھایا، کچھ گرم کپڑے ایک گٹھڑی میں باندھے اور اس برفانی طوفان میں پیدل سفر پر نکل پڑا۔ راستے اتنے کٹھن اور خطرناک تھے کہ قدم قدم پر موت کا سایہ منڈلا رہا تھا۔ ہر طرف سفید برف کی تہہ جمی ہوئی تھی اور تیز ہوائیں جسم کو چیر رہی تھیں۔

چلتے چلتے مریم کے پوتوں کے جوتے پھٹ گئے اور اس کے چھوٹے چھوٹے پاؤں برف میں سن ہو گئے۔ اس نے روتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: "ابابا! میرے پاؤں میں بہت درد ہو رہا ہے... اب ہم کب اپنے گھر واپس جائیں گے؟"

یوسف نے اپنا پھٹا ہوا کوٹ اتار کر مریم کے پیروں پر لپیٹ دیا اور خود کانپتے ہوئے کہا: "بس تھوڑا سا اور آگے... بیٹا! ہم جلد ہی ایک محفوظ جگہ پہنچ جائیں گے جہاں تمہیں گرم سوپ ملے گا!"

باب پنجم: پہاڑ کا تودہ اور ابدی جدائی

مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جب وہ ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزر رہے تھے، تو اوپر سے برف کا ایک بہت بڑا تودہ (Avalanche) دھماکے کی آواز کے ساتھ نیچے آ گرا!

یوسف نے بلال کو تو ایک طرف کھینچ لیا، مگر برف کا وہ سفید طوفان مریم کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا نیچے گہری کھائی میں غائب ہو گیا۔ یوسف کی روح دہل گئی، اس کے منہ سے ایک دل چیر دینے والی چیخ نکلی: "مریم میری بچی!"

اس نے پاگلوں کی طرح ننگے ہاتھوں سے برف کھودنی شروع کر دی، اس کی انگلیاں زخمی ہو گئیں، خون بہنے لگا، مگر گھنٹوں کی تلاش کے بعد جب اس نے مریم کو نکالا، تو اس کی نبض ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھی۔ اس معصوم کے چہرے پر اب بھی وہ معصومانہ اداسی تھی، اور اس کی چھوٹی سی مٹھی میں برف کا ایک ٹکڑا جکڑا ہوا تھا۔

باب ششم: وادی کی خاموشی اور یوسف کا جنون

آج یوسف اکیلا ہے، اس کے ساتھ صرف اس کا نو سالہ بیٹا بلال ہے جو اس صدمے سے گونگا ہو چکا ہے۔ وہ دونوں اب نیچے ایک خیمہ بستی میں بے سرسام کی زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نہ دو وقت کی روٹی کا ٹھکانہ ہے اور نہ ہی مستقبل کی کوئی امید۔

آج بھی وادیِ نیلم کی ان پہاڑیوں سے جب سرد ہوائیں گزرتی ہیں، تو وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ رات کے وقت ایک باپ کی سسکی سنائی دیتی ہے جو اپنی بیٹی کو پکارتا ہے: "مریم! اٹھ جاؤ نا، دیکھو میں تمہارے لیے نیا کھلونا لایا ہوں..." یہ کہانی اس پرامن دنیا کے منہ پر ایک گہرا طمانچہ ہے جو جنگ اور سیاست کی آگ میں معصوم بچوں کے خواب اور ماؤں کی گودیں اجاڑ دیتی ہے!

Post a Comment

0 Comments