ریلوے کا کچا پلیٹ فارم اور ادھورا ٹکٹ
مجھ سے بچھڑ کر جانے والے
باپ کے کالے ہاتھ اور بیٹے کی سفید دنیا
جب دنیا میں کسی کو پھولوں کی سجاوٹ اور مہکتی ہوئی محفلیں ملتی ہیں، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ ان گلابوں کے پودوں میں کسی بوڑھے مالی کی آنکھوں کا پانی اور اس کے ہاتھوں کے چھالے شامل ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہے بابا سبحانی کی، جو شہر کے سب سے پرانے گورنمنٹ پارک میں مالی کا کام کرتا تھا۔ اس کے کپڑے ہمیشہ مٹی سے لتھڑے ہوتے تھے، اس کی انگلیاں ہمیشہ کانٹوں سے زخمی رہتی تھیں، مگر اس نے اسی پارک کی گھاس پر بیٹھ کر اپنے اکلوتے بیٹے وقاص کو پڑھایا، شہر کے بہترین اسکولوں کے چکر کاٹے اور اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے سمندر پار بھیج دیا تاکہ وہ ایک بہت بڑا افسر بن سکے۔
وقاص جب بیرونِ ملک جا کر ایک نامور ملٹی نیشنل کمپنی کا ڈائریکٹر بن گیا اور اس کے پاس دنیا بھر کی آسائشیں، بڑی گاڑیاں اور وی آئی پی پروٹوکول آ گیا، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس مٹی والے پس منظر کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر یکسر دل سے نکال دیا۔ شروع میں کبھی کبھار ای میل کے ذریعے خیریت آ جایا کرتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ بابا سبحانی ہر روز شام کو پارک کا کام ختم کرنے کے بعد ریلوے اسٹیشن کے پل پر آ کر بیٹھ جاتا، اس کی جیب میں ایک پرانا ریلوے ٹکٹ ہوتا جو اس نے وقاص کے جانے کے دن سنبھالا تھا، اور وہ آنے جانے والی ہر ٹرین کے مسافروں کو بڑی حسرت سے دیکھتا کہ شاید اس کا وقاص اسی ٹرین سے اتر کر اسے گلے لگانے آ رہا ہو۔ وہ ہر روز اسٹیشن ماسٹر سے کہتا کہ میرا بیٹا باہر سے آنے والا ہے، ذرا دیکھو کون سی گاڑی آ رہی ہے۔
ایک انتہائی سرد اور بارش والی شام، جب پارک کے تمام پودے بھیگ چکے تھے اور سردی ہڈیوں میں اتر رہی تھی، بابا سبحانی کی طبیعت پارک کے ایک کونے میں ہی اچانک شدت سے خراب ہو گئی۔ اس کے پاس اس وقت مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس کے منہ سے صرف "وقاص..." کا آخری نام نکلا۔ پارک کے چوکیدار نے جب جلدی سے وقاص کے نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو وقاص ایک بورڈ میٹنگ کی صدارت کر رہا تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے کہا: "مجھے بار بار ان فضول کالز سے تنگ مت کیا کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لینا!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے بابا سبحانی کی زندگی کا آخری پتہ بھی توڑ دیا، اس کے ہاتھ سے وہ پرانا ٹکٹ چھوٹ کر مٹی میں گر گیا اور وہ پھولوں کی کیاری کے پاس ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
دو دن بعد جب وقاص کا بھیجا ہوا ایک کارندہ بابا سبحانی کی وہ چھوٹی سی جھونپڑی صاف کرنے گیا، تو اس نے میز پر رکھے ایک پرانے مٹی کے گملے سے وہی پرانا ریلوے ٹکٹ اور اس کے ساتھ بابا سبحانی کے کانپتے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک خط نکالا۔ جب وقاص کو وہ خط ملا اور اس نے اسے کھول کر پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے وقاص، میں نے ساری زندگی لوگوں کے لیے پھول کھلائے ہیں... سوچا تھا تیرے آنے پر پورا اسٹیشن پھولوں سے سجا دوں گا۔ یہ ٹکٹ تیرے جانے کی نشانی ہے۔ تو جہاں بھی رہے، پھلتا پھولتا رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی وقاص کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی چھوڑ کر ہوائی جہاز کے ذریعے ملک واپس آیا، سیدھا اس پارک کی اس مٹی والی کیاری کے پاس گیا جہاں اس کا باپ دفن ہو چکا تھا، وہ اس قبر کی مٹی سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی دولت، عہدہ اور بنگلے دھرے کے دھرے رہ گئے، مگر اب وہ بوڑھا مالی باپ مٹی کے نیچے جا چکا تھا اور کوئی ٹکٹ اس کی واپسی کا نہیں لا سکتا تھا۔
کہانی کا نام: ریلوے کا کچا پلیٹ فارم اور ادھورا ٹکٹ
ہیرو: بابا سبحانی (خاموش قربانی اور بے لوث محبت کا پیکر)
ولن: غرور اور سنگدلانہ مصروفیت
سائیڈ کردار: وقاص (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)

0 Comments
Thanks for your feedback.