پیرس کی گلی اور خالی جھولا
باب اول: مونمارتر کی خاموش گلیاں اور ایملیا کی جھونپڑی
فرانس کے دارالحکومت پیرس کا شمار دنیا کے حسین ترین اور چمکتے دمکتے شہروں میں ہوتا ہے، جہاں کی رنگینیاں اور روشنائی پوری دنیا کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر اس شہر کی اس چمکدار سجی ہوئی سستی کے پیچھے ایک اندھیرا بھی ہے، جہاں غریب تارکینِ وطن کی سسکیاں اور بھوک کی دہاڑیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اسی شہر کے شمالی کونے میں مونمارتر کی پہاڑی کے دامن میں ایک پرانی، خستہ حال عمارت کے تہہ خانے میں چھپن سالہ ایملیا اپنی چھوٹی سی دنیا کے ساتھ مقیم تھی۔
ایملیا کا تعلق مشرقی یورپ کے ایک چھوٹے سے جنگلی گاؤں سے تھا جو جنگ اور غربت کی چکی میں پس کر پیرس ہجرت کر آئی تھی۔ اس کے پاس پیٹ بھرنے کا واحد ذریعہ شہر کے مہمان خانوں میں رات گئے جھاڑو دینا، صفائی کرنا اور پرانے اخبارات جمع کر کے بیچنا تھا۔ ایملیا کا شوہر سالوں پہلے ایک تعمیراتی حادثے میں اس دنیا سے کوچ کر چکا تھا، اور اب اس کی زندگی کا کل سرمایہ اس کا سات سالہ پوتا لیو تھا، جس کی پرورش اس نے اپنی سوکھتی ہوئی ہڈیوں کا خون نچوڑ کر کی تھی۔
لیو ایک خوبصورت، شرارتی اور حسرت زدہ بچہ تھا جس کی بڑی بڑی نیلی آنکھوں میں ایک ان کہی اداسی بسی رہتی تھی۔ سردیوں کی ان راتوں میں جب باہر پیرس کی سڑکوں پر لوگ خوشیاں منا رہے ہوتے، ایملیا اور لیو کے اس تہہ خانے میں سردی کا پہرہ ہوتا تھا۔ ان کے پاس اوڑھنے کے لیے صرف ایک گھسا ہوا کمبل اور جلانے کے لیے کاغذ کے پرانے ٹکڑے تھے، جو ایملیا کام کے دوران سڑکوں سے چن کر لاتی تھی۔
باب دوم: نومبر کی ہڈیوں کو چھوتی سردی اور لیو کی ضد
نومبر کا مہینہ آتے ہی پیرس کا موسم بے حد بے رحم ہو گیا تھا۔ درجہ حرارت صفر سے نیچے گر چکا تھا اور برف باری کے ساتھ چلنے والی تیز ہواؤں نے لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا تھا۔ ایملیا کی صحت دن بہ دن گرتی جا رہی تھی۔ اس کی ٹانگوں میں شدید درد رہتا تھا، مگر اس کے باوجود اسے صبح سویرے اٹھ کر سڑکوں پر جمی برف صاف کرنے کے لیے نکلنا پڑتا تھا تاکہ اسے اتنے پیسے مل سکیں جس سے وہ شام کو لیو کے لیے سوکھا سوپ اور روٹی کا ٹکڑا خرید سکے۔
ایک شام جب ایملیا تھکی ماندہ، کانپتے ہوئے ہاتھوں سے تہہ خانے میں لوٹی، تو اس نے دیکھا کہ لیو بستر پر لیٹا بری طرح کانپ رہا ہے۔ اس کے سینے سے ہوٹ اٹھ رہے تھے اور اس کا پورا جسم بخار کی شدت سے تپ رہا تھا۔ ایملیا نے گھبرا کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ آگ کی طرح دہک رہا تھا۔
لیو نے اپنی مدہم اور سوکھی آواز میں اپنی دادی سے کہا:
"دادی! مجھے بہت سردی لگ رہی ہے... میرا سینہ اندر سے پھٹ رہا ہے۔ کیا ہم اس سال کرسمس پر کوئی گرم کوٹ خرید سکیں گے؟ اور دادی... مجھے وہ چھوٹا سا لکڑی کا جھولا چاہیے جو سامنے والے کھلौنے والے کی دکان پر رکھا ہے، جس میں ایک چھوٹی سی بلدی لگی ہوئی ہے..."
لیو کی یہ معصوم بات سن کر ایملیا کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ اس کی جیب میں اس وقت صرف چند سکّے تھے، جو اگلے دن کی روٹی کے لیے بھی ناکافی تھے۔ اس نے اپنے پوتے کو اپنے سینے سے بھینچ لیا اور آنسو چھپا کر بولی: "ہاں میرے بچے! میں کل ضرور تیرے لیے وہ جھولا بھی لاؤں گی اور اچھا سا گرم کوٹ بھی... بس تو آنکھیں بند کر کے سو جا!"
باب سوم: مالکِ مکان کا نوٹس اور بے بسی
مگر غریب کی زندگی پر مشکلات کبھی اکیلی نہیں آتیں؛ ان کے ساتھ مصائب کا پورا لشکر آتا ہے۔ آدھی رات کو جب باہر طوفان زوروں پر تھا، تہہ خانے کے دروازے پر کسی نے زور زور سے ٹھوکر ماری۔ یہ عمارت کا ظالم مالکِ مکان پیئر تھا، جو پچھلے تین مہینے کا کرایہ لینے آیا تھا۔
ایملیا نے درواز کھول کر ہاتھ جوڑ دیے اور روتے ہوئے التجا کی: "مسٹر پیئر! خدا کے لیے ہمیں چند دن کی مہلت دے دیں۔ میرا پوتا بیمار ہے، میرے پاس اس وقت ایک بھی سکہ نہیں ہے..."
پیئر کے چہرے پر ذرا سا بھی رحم نہیں آیا۔ اس نے حقارت سے ایملیا کو دھکا دیا اور کہا: "یہ کوئی خیراتی ادارہ نہیں ہے! اگر کل صبح تک کرایہ ادا نہیں کیا، تو میں تمہارا یہ سارا سامان سڑک پر پھینک کر تمہیں اس تہہ خانے سے باہر نکال دوں گا!"
پیئر یہ کہہ کر چلا گیا، مگر اس کے الفاظ ایملیا کے دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو گئے۔ تہہ خانے کے کونے میں لیو بخار میں مبتلا ہلکا ہلکا سسک رہا تھا۔ ایملیا نے اپنے بال نوچے اور اس اندھیرے کمرے میں پھوٹ پھوٹ کر روئی، جہاں اس کی بے بسی کا مذاق اڑانے کے لیے صرف دیواریں موجود تھیں۔
باب چہارم: برفانی رات اور باہر کا سفر
اگلی صبح سورج طلوع نہیں ہوا بلکہ آسمان سے سرمئی بادلوں نے پورے پیرس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لیو کی حالت مزید بگڑ چکی تھی۔ اس کے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے اور اس کی سانسیں رک رک کر آ رہی تھیں۔ ایملیا کو سمجھ آ گیا کہ اگر وہ فوری طور پر ڈاکٹر یا دوا کا بندوبست نہ کر سکی، تو وہ اپنے پوتے کو ہمیشہ کے لیے کھو دے گی۔
وہ لیو کو کمبل میں اچھی طرح لپیٹ کر بولی: "لیو! میں ابھی قریبی چرچ کے پادری سے مدد مانگنے جا رہی ہوں، یا شہر کے دواخانے سے ادھار دوا لانے کی کوشش کرتی ہوں۔ یہیں رہنا، میں جلدی آؤں گی!"
لیو نے کمزور ہاتھ اٹھا کر اپنی دادی کا ہاتھ پکڑا اور مدہم آواز میں کہا: "دادی... جلدی واپس آنا، مجھے اکیلے میں ڈر لگتا ہے..."
ایملیا باہر نکلی۔ پیرس کی مشہور شاہراہیں برف کی چادر اوڑھے ہوئے تھیں اور لوگ اپنے گرم کوٹوں میں ملبوس کرسمس کی خریداری میں مصروف تھے۔ ایملیا نے ہر گزرتے شخص کے آگے ہاتھ پھیلایا، چرچ کے دروازے پر جا کر پادری کے پیروں میں گری، مگر اس یخ بستہ شہر میں کسی کے پاس ایک غریب بڑھیا اور اس کے بیمار پوتے کے لیے وقت یا درد نہیں تھا۔ سب نے اسے پاگل سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
باب پنجم: تہہ خانے کا اندھیرا اور ابدی خاموشی
دو گھنٹے بعد، جب ایملیا خالی ہاتھ، روتی ہوئی اور ٹھنڈ سے اکڑی ہوئی واپس اس تہہ خانے میں پہنچی، تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
تہہ خانے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اندر مالکِ مکان پیئر اپنے دو کارندوں کے ساتھ کھڑا تھا، جنہوں نے لیو کا پرانا بستر اور اس کا وہ کھلونا (جو ایملیا نے پچھلے مہینے اس کی پیدائش پر بڑی مشکل سے سڑک پر گرا ہوا جوڑا تھا) باہر سڑک پر پھینک دیا تھا۔
لیو زمین پر پڑی برف پر نیم بے ہوش حالت میں پڑا تھا۔ ایملیا نے پاگلوں کی طرح دوڑ کر اپنے پوتے کو اٹھایا اور اپنے سینے سے لگایا، مگر لیو کا جسم اب برف کی طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اس کی نیلی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں اور اس کے ہونٹوں پر ایک ادھوری سی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ خواب میں اپنے اسی چھوٹے سے لکڑی کے جھولے کو دیکھ رہا ہو۔
لیو کی سانسوں کی ڈور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ چکی تھی۔ اس کی روح اس ظالم، سنگدل اور چمکتے ہوئے پیرس سے آزاد ہو کر اس جہان میں جا چکی تھی جہاں بھوک تھی اور نہ ہی سردی!
باب ششم: پیرس کی سڑک پر ماں کی چیخ
ایملیا نے کوئی بلند آواز میں آہ و فغاں نہیں کی، کوئی گلہ نہیں کیا۔ وہ اپنے پوتے کے بے جان جسم کو گود میں لیے اس برفیلی سڑک پر بیٹھ گئی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے ماتھے کو سہلاتی رہی۔ اس کے منہ سے صرف ایک ہی سرگوشی نکلتی رہی: "لیو... اٹھ جا میرے بچے! دیکھ میں تیرے لیے جھولا لے آئی ہوں... اٹھ جا..."
شام ہوتے ہوتے پولیس اور امدادی عملہ وہاں پہنچا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت اپنے مردہ پوتے کے لاشے سے لپٹی ہوئی برف کا حصہ بن چکی ہے، اور اس کے پاس ہی ریت پر وہ چھوٹا سا ٹویا ہوا لکڑی کا جھولا پڑا ہے جو اب بالکل خالی تھا۔
آج بھی پیرس کی اس پرانی گلی سے جب کوئی سیاح گزرتا ہے، تو مقامی لوگ کہتے ہیں کہ جب رات کو ایفل ٹاور کی روشنیاں بند ہوتی ہیں، تو مونمارتر کی اس موڑ پر ایک بوڑھی دادی کی لرزتی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے جو اپنے پوتے کو پکارتی ہے: "لیو! اب تمہیں کبھی سردی نہیں لگے گی نا؟" یہ کہانی اس دنیائے رنگ و بو کے منہ پر ایک گہرا طمانچہ ہے جو غریب کے انسوؤں پر اپنے محلات کی بنیاد رکھتی ہے۔

0 Comments
Thanks for your feedback.