مٹی کا گھڑا اور پیاسا نگر
جلتے ہوئے تندور اور سکی ہوئی مٹی
باپ کے خشک ہونٹ اور بیٹے کی شاندار حویلیاں
جب دنیا میں کسی کو اے سی والے کمروں میں رکھے فریج کا ٹھنڈا پانی نصیب ہوتا ہے، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ اس ٹھنڈک کے پیچھے کسی بوڑھے کمہار کے جھلسے ہوئے ہاتھ اور تپتی بھٹی کی وہ لپٹیں ہوتی ہیں جو اس کی جوانی کو خاک کر دیتی ہیں۔ یہ کہانی ہے بابا فضل دین کی، جو شہر سے دور ایک پرانے چوک پر مٹی کے گھڑے اور صراحییاں بیچنے کا کام کرتا تھا۔ اس کے چہرے کی جھریاں اس کی محنت کی داستان سناتی تھیں، اس کے بال مٹی سے سفید ہو چکے تھے، مگر اس نے اسی تپتی دوپہر میں مٹی گوندھ گوندھ کر اپنے اکلوتے بیٹے شہزاد کو شہر کے سب سے بڑے طبی ادارے سے ڈاکٹر بنایا تھا تاکہ کوئی غریب اس کے بیٹے کی طرح علاج کی کمی سے نہ مرے۔
شہزاد جب پڑھ لکھ کر شہر کا ایک مشہور اور امیر ترین سرجن بن گیا اور اس کے پاس شاندار ہسپتال، عالیشان کوٹھی اور مہنگی ترین لگژری گاڑیاں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس مٹی سے لتھڑے ہوئے پس منظر کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے نکال دیا۔ شروع میں کبھی کبھار منشی کے ذریعے کچھ رقم بھیج دی جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ بابا فضل دین ہر روز صبح سویرے اٹھتا، ایک تازہ مٹی کا گھڑا بھر کر چوک کے نکر پر رکھتا، اور آنے جانے والے مسافروں کو پانی پلا کر دعائیں لیتا، اس امید پر کہ شاید اس کا شہزاد کبھی اس راستے سے گزرے اور اپنے باپ کے ہاتھ سے بنا ہوا یہ ٹھنڈا پانی پی کر کہے کہ بابا میں آ گیا ہوں۔ وہ اس گھڑے کو اس لیے روز بدلتا تھا تاکہ پانی ہمیشہ تازہ اور ٹھنڈا رہے۔
ایک انتہائی گرم اور لو والی دوپہر، جب سورج آگ برسا رہا تھا اور قصبے کا درجہ حرارت عروج پر تھا، بابا فضل دین کی طبیعت مٹی کی بھٹی کے پاس ہی اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی پلانے والا کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "شہزاد..." کی پکار نکلی۔ پڑوسیوں نے جب بڑی مشکل سے ڈاکٹر شہزاد کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو شہزاد ایک ہائی پروفائل کانفرنس کی صدارت کر رہا تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "مجھے ان دیہاتی اور پرانے چکروں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین یا ہسپتال کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے بوڑھے فضل دین کے دل کی آخری دھڑکن کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
دو دن بعد جب شہزاد کا بھیجا ہوا ایک کارندہ بابا فضل دین کی وہ ٹین کی چھت والی جھونپڑی صاف کرنے آیا، تو اس نے چوک پر رکھے اسی پرانے مٹی کے گھڑے کو دیکھا جس میں پانی اب تک بھرا ہوا تھا، اور ساتھ ہی بابا فضل دین کے کانپتے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک کاغذ ملا۔ جب شہزاد کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان کیبن میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے شہزاد، میں نے ساری زندگی لوگوں کی پیاس بجھانے کے لیے مٹی کے گھڑے بنائے... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی اس تپتی دوپہر میں لوٹے گا تو اسے اپنے ہاتھ کا ٹھنڈا پانی پلاؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، سیراب رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی شہزاد کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور پروٹوکول کو چھوڑ کر فوری طور پر قصبے کی طرف دوڑا، سیدھا اس چوک پر گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا چکا تھا، وہ اس پرانے گھڑے اور مٹی سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام دولت اور شہرت دھری کی دھری رہ گئی، مگر اب وہ بوڑھا کمہار باپ ہمیشہ کے لیے سو چکا تھا اور کوئی گھڑا اس کی پیاس نہیں بجھا سکتا تھا۔
کہانی کا نام: مٹی کا گھڑا اور پیاسا نگر
ہیرو: بابا فضل دین (پیاسوں کو سیراب کرنے والا اور بے لوث باپ)
ولن: غرور اور سنگدلانہ مصروفیت
سائیڈ کردار: ڈاکٹر شہزاد (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.