Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 111

پرانا لیمپ اور بارش کی رات

بند گلی اور چوکیدار کا کیبن

باپ کے ٹھٹھرتے ہاتھ اور بیٹے کی روشن دنیا

جب دنیا میں کسی کو اے سی والے کمروں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں سونے کی عادت ہوتی ہے، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ باہر سڑکوں پر سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے پہرہ دینے والے کسی غریب چوکیدار باپ کے جسم پر کتنے راتوں کے جاگنے کے فاقے اور تکلیفیں ہوتی ہیں۔ یہ کہانی ہے چاچا الطاف کی، جو شہر کے ایک پوش علاقے کے باہر بنے چھوٹے سے لکڑی کے کیبن میں رات کا چوکیدار تھا۔ اس کی کمر جھک چکی تھی، اس کے بال سفید ہو چکے تھے، مگر اس نے اسی کیبن میں بیٹھ کر لوگوں کے طعنے سن کر اور ٹھنڈی ہواؤں میں جاگ کر اپنے اکلوتے بیٹے عاصم کو شہر کے سب سے بڑے کالج سے قانون کی اعلیٰ تعلیم دلائی تھی تاکہ وہ ایک بہت بڑا وکیل بن سکے۔

عاصم جب پڑھ لکھ کر شہر کا ایک نامور اور مہنگا کارپوریٹ وکیل بن گیا اور اس کے پاس جدید ترین لگژری گاڑیاں، عالیشان بنگلے اور دنیا بھر کی رنگینیاں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس چوکیداری والے پس منظر اور لکڑی کے اس کیبن کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے نکال دیا۔ شروع میں کبھی کبھار منشی کے ذریعے کچھ رقم بھیج دی جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ چاچا الطاف ہر رات بارہ بجے اپنا پرانا مٹی کا لیمپ جلاتا، کیبن کی کھڑکی کھول کر سڑک پر پہرہ دیتا، اور آنے جانے والی ہر بڑی گاڑی کی طرف اس امید پر دیکھتا کہ شاید اس کا عاصم کبھی اس راستے سے گزرے اور اپنے باپ کو دیکھ کر گاڑی روک لے۔ وہ اس پرانے لیمپ کو اس لیے سنبھالے رکھتا تھا کیونکہ عاصم نے بچپن میں اسی لیمپ کی روشنی میں اپنی کتابیں پڑھی تھیں۔

ایک انتہائی سرد اور بارش والی رات، جب شہر کی بتیاں بجھ چکی تھیں اور طوفانی ہوا کی وجہ سے درختوں کی شاخیں ٹوٹ رہی تھیں، چاچا الطاف کی طبیعت اسی لکڑی کے کیبن میں اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت دوا کا ایک قطرہ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "عاصم..." کا نام نکل رہا تھا۔ پاس کے ایک دکاندار نے جب بڑی مشکل سے وکیل عاصم کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو عاصم ایک کلب کی نائٹ پارٹی میں ڈرنکس اور دوستوں کے ساتھ مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان چوکیداری اور پرانی بیماریوں کے فضول قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے چاچا الطاف کے دل کی آخری ڈور بھی ہمیشہ کے لیے توڑ دی، اس کے ہاتھ سے وہ پرانا لیمپ کیبن کے فرش پر گر کر بجھ گیا اور وہ تاریکی میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

دو دن بعد جب عاصم کا بھیجا ہوا ایک کارندہ چاچا الطاف کا وہ کیبن صاف کرنے آیا، تو اس نے فرش پر پڑے ہوئے اسی ٹوٹی ہوئی چمنی والے لیمپ اور چاچا الطاف کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے ایک خط کو اٹھایا۔ جب عاصم کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان دفتر کے کیبن میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے عاصم، میں نے ساری زندگی لوگوں کے گھروں کی حفاظت کے لیے راتوں کا اندھیرا کاٹا... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی اس سڑک سے گزرے گا تو اسے اپنا یہ لیمپ دکھاؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، روشن رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی عاصم کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور وکیلوں کا پروٹوکول وہیں چھوڑ کر فوری طور پر اس کیبن کی طرف دوڑا، سیدھا اس لکڑی کے کمرے میں گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا چکا تھا، وہ اس ٹوٹے ہوئے لیمپ اور زمین سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام دولت اور مقدمے دھرے کے دھرے رہ گئے، مگر اب وہ بوڑھا چوکیدار باپ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا اور کوئی لیمپ اس کی زندگی میں روشنی واپس نہیں لا سکتا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا لیمپ اور بارش کی رات

ہیرو: چاچا الطاف (راتوں کا اندھیرا کاٹ کر اولاد کو روشن کرنے والا بے لوث باپ)

ولن: غرور، تکبر اور سنگدلانہ مصروفیت

سائیڈ کردار: عاصم (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments