پانی کی گڑیا اور پیاسا کنواں
تپتی دھوپ اور پرانی مٹی
ماں کے جھلسے ہاتھ اور بیٹے کی شاندار دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی چکاچوند فضاؤں میں لے جاتی ہے جہاں پانی کی بڑی بڑی بوتلیں اور جدید ترین فوارے اس کا فخر بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اس کنویں کو بھول جاتا ہے جس کی گہرائی سے اس کی ماں نے اپنی ہڈیاں گلا کر اسے زندگی کا رس پلایا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی دادی مائی مراد مائی کی، جو صحرا کے کنارے بستی ایک پرانی بستی میں ایک خشک اور پرانے کنویں کے پاس رہتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا سہراب تھا، جسے مائی مراد نے میلوں دور سے سر پر گھڑا اٹھا کر پانی لا کر، خود پیاسی رہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور تعلیمی ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بہت بڑا جج بنایا تھا۔
سہراب جب شہر میں ایک بڑا جج بن گیا اور اس کے پاس شان دار بنگلہ، بڑی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس ریگستانی پس منظر اور اس کنویں کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں کبھی کبھار نام کے لیے ڈاک کے ذریعے رقم آ جایا کرتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی مکمل طور پر ٹوٹ گیا۔ مائی مراد ہر روز صبح سویرے اٹھتی، ایک ٹوٹی ہوئی رسی اور مٹی کا ایک پرانا پیالہ لے کر اسی کنویں کے پاس بیٹھ جاتی، اور آنے جانے والوں سے پوچھتی کہ کیا کسی نے میرے سہراب کو دیکھا ہے؟ وہ اس کنویں کی منڈیر کو اس لیے صاف کرتی رہتی تھی تاکہ جب اس کا بیٹا لوٹ کر آئے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے تازہ پانی پلا سکے۔
ایک تپتی دوپہر، جب لو چل رہی تھی اور سورج آگ برسا رہا تھا، مائی مراد کی ضعیف روح اس پیاس کو برداشت نہ کر سکی اور اس کی سانسیں اسی کنویں کی منڈیر پر رک گئیں۔ مرنے سے چند لمحے پہلے اس نے بستی کے ایک بچے کو کہہ کر سہراب کے دفتر کا نمبر ملانے کی کوشش کی، مگر سہراب ایک اہم کیس کی سماعت میں مصروف تھا اور اس کے منشی نے فون کاٹ کر کہہ دیا کہ اس قسم کے فضول معاملات کے لیے جج صاحب کے پاس وقت نہیں ہے۔ اگلے دن جب بستی کے ایک آدمی نے سہراب تک اس کی ماں کے انتقال کی اطلاع پہنچائی، تو سہراب نے عدالت کے کام کا عذر پیش کر کے آنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ تدفین کے تمام اخراجات وہ بھجوا دے گا۔
تین دن بعد جب سہراب کا بھیجا ہوا کارندہ بستی میں پہنچا اور اس نے مائی مراد کی وہ جھونپڑی صاف کی، تو اس پرانے کنویں کے قریب رکھی ایک چھوٹی سی مٹی کی گڑیا اور ایک کاغذ پر مائی مراد کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر سہراب کے نام ملی۔ خط میں لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے سہراب، میں نے تیرے لیے زندگی بھر اس کنویں سے پیاس مول لے کر پانی نکالا ہے... تاکہ تیرا گلا کبھی خشک نہ ہو۔ تو جہاں بھی رہے، سیراب رہے۔" جب یہ الفاظ سہراب نے اپنے عالی شان بنگلے میں بیٹھ کر پڑھے، تو اس کا سارا عدل اور غرور ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اپنے حواس کھو بیٹھا، دوڑتا ہوا اس ریگستان اور کنویں کے پاس پہنچا، اس خشک کنویں کی مٹی سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے پیاسی دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: پانی کی گڑیا اور پیاسا کنواں
ہیرو: مائی مراد (بے لوث قربانی اور محبت کا پیکر)
ولن: غرور اور سنگدلانہ لاپرواہی
سائیڈ کردار: سہراب (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.