Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 108

ریلوے کی پرانی پٹری اور ادھورا خط

پٹریوں کی سرراہٹ اور تاریک کمرہ

ماں کے ٹٹولتے ہاتھ اور بیٹے کی پرتعیش دنیا

جب دنیا میں کسی کو ہوائی جہازوں کے سفر اور نامور شہروں کے عالیشان ہوٹل میسر آ جاتے ہیں، تو وہ اکثر اس چھوٹی سی ریلوے لائن کے کنارے بنی ٹین کی اس جھونپڑی کو بھول جاتا ہے جہاں اس کی نابینا ماں نے اپنی بینائی کے بغیر اس کے لیے اجالا خریدا تھا۔ یہ کہانی ہے مائی سکینہ کی، جو شہر کے ایک مرکزی ریلوے پھاٹک سے بالکل جڑے ہوئے ایک چھوٹے سے کمرے میں اکیلی رہتی تھی۔ جوانی میں ایک حادثے کے دوران اپنی بینائی گنوانے والی سکینہ نے لوگوں کے گھروں میں آٹا پیس کر، خود اندھیرے میں ٹھوکریں کھا کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر اپنے اکلوتے بیٹے عمار کو شہر کے سب سے مہنگے تعلیمی ادارے سے ایک بڑا سول انجینئر بنایا تھا۔

عمار جب پڑھ لکھ کر ایک نامور ملٹی نیشنل تعمیراتی ادارے کا پراجیکٹ مینیجر بن گیا اور اس کے پاس جدید ترین گاڑیاں، فلیٹس اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی اس نابینا ماں اور اس ریلوے پھاٹک والے پس منظر کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے مٹا دیا۔ شروع میں کبھی کبھار منشی کے ہاتھ کچھ رقم آ جایا کرتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ مائی سکینہ ہر روز شام کو پھاٹک بند ہونے کی آواز سن کر اپنی ٹوٹی ہوئی چارپائی سے اٹھتی، چھڑی کے سہارے دروازے تک جاتی، اور پٹریوں سے گزرنے والی ٹرین کے شور میں اس امید پر کان لگاتی کہ شاید اس کا عمار کبھی اس ٹرین سے اتر کر اپنی ماں کو گلے لگانے آئے گا۔ وہ اپنے سینے سے ایک پرانی خط والی سلیٹ لگائے رکھتی تھی جس پر اس نے عمار کے بچپن کی یادیں ٹٹول کر بنوا رکھی تھیں۔

ایک سرد اور گہری دھند والی رات، جب ٹرینیں سست رفتاری سے گزر رہی تھیں اور باہر کڑاکے کی ٹھنڈ تھی، مائی سکینہ کی طبیعت اسی تنہا کمرے میں اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس پانی کا پوچھنے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "عمار..." کا نام نکل رہا تھا۔ پڑوسیوں نے جب بڑی مشکل سے عمار کے نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو عمار ایک بڑی سائٹ کی افتتاحی تقریب میں وی آئی پی مہمانوں کے ساتھ مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی جھنجھلا کر کہا: "مجھے ان نابینا پن اور پرانی بیماریوں کے فضول قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے مائی سکینہ کے دل کی آخری ڈور بھی ہمیشہ کے لیے توڑ دی، اس کے ہاتھ سے وہ خط والی سلیٹ نیچے فرش پر گر گئی اور وہ پٹریوں کی آواز کے ساتھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔

دو دن بعد جب عمار کا بھیجا ہوا ایک کارندہ مائی سکینہ کی وہ چھوٹی سی کوٹھری صاف کرنے آیا، تو اس نے اس ٹوٹی ہوئی سلیٹ اور اس کے ساتھ مائی سکینہ کے ٹٹولتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے نقوش والا ایک ادھورا خط اٹھایا۔ جب عمار کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان دفتر میں بیٹھ کر اس خط کو کسی طرح پڑھوایا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے عمار، میں نے اپنی آنکھوں کا اندھیرا کاٹ کر تیرے راستے میں روشنی بچھائی تھی... سوچا تھا میرا بیٹا ایک دن اس پٹری کے راستے لوٹ کر آئے گا۔ تو جہاں بھی رہے، سلامت رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی عمار کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور عہدے کو وہیں چھوڑ کر ہنگامی پرواز کے ذریعے ملک واپس آیا، سیدھا اس ریلوے پھاٹک کی جھونپڑی میں گیا جہاں اس کا باپ کی طرح لاوارثوں کی طرح دفن ہونے والی ماں جا چکی تھی، وہ اس قبر کی مٹی اور اس ٹوٹی ہوئی سلیٹ سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ نابینا ماں ریلوے کی ان پٹریوں کی طرح ہمیشہ کے لیے دور جا چکی تھی اور کوئی ٹرین اسے واپس نہیں لا سکتی تھی۔

کہانی کا نام: ریلوے کی پرانی پٹری اور ادھورا خط

ہیرو: مائی سکینہ (اندھیرے میں اولاد کے لیے روشنی بننے والی نابینا ماں)

ولن: غرور اور سنگدلانہ مصروفیت

سائیڈ کردار: عمار (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments