پرانا لیمپ اور ہسپتال کا انتظار
سرد سڑکیں اور مدہم روشنی
باپ کی جھکی ہوئی کمر اور بیٹے کی عالیشان دنیا
جب دنیا میں کسی کو شہر کے سب سے بڑے اور پرتعیش ہسپتال کے اے سی کمروں میں علاج کرانے کا اعزاز ملتا ہے، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ سڑکوں کے نکر پر بیٹھی اس سرد رات میں پہرہ دینے والے کسی بوڑھے باپ کے جسم پر کتنے سالوں کی محنت اور فاقوں کے نشانات ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہے بابا عنایت کی، جو شہر کے ایک پرانے محلے میں رات کا چوکیدار تھا اور اپنی جوانی کی تمام توانائیاں سڑکوں کی نگرانی میں گنوا چکا تھا۔ بابا عنایت نے سردیوں کی ٹھٹھرتی راتوں میں جاگ کر، لوگوں کے دروازوں پر پہرہ دے کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر اپنے اکلوتے بیٹے فیضان کو شہر کے سب سے مہنگے تعلیمی ادارے سے ایم بی بی ایس ڈاکٹر بنایا تھا تاکہ وہ ایک بڑا سرجن بن سکے۔
فیضان جب پڑھ لکھ کر شہر کا ایک بہت بڑا اور نامور ہسپتال کا ڈاکٹر بن گیا اور اس کے پاس مہنگی لگژری گاڑیاں، عالیشان کوٹھیاں اور دنیا بھر کی شہرت آ گئی، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس چوکیداری والے پس منظر اور لکڑی کے پرانے کیبن کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے نکال دیا۔ شروع میں کبھی کبھار منشی کے ذریعے کوئی روکھا سا لفافہ آ جاتا تھا، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ بابا عنایت ہر روز رات کو بارہ بجے اپنا پرانا مٹی کا لیمپ جلاتا، سڑک کے کونے پر بیٹھ جاتا، اور آنے جانے والی ہر گاڑی کی طرف اس امید پر دیکھتا کہ شاید اس کا فیضان کبھی بیماروں کی دیکھ بھال کے بعد اس راستے سے گزرے اور اپنے باپ کو دیکھ کر گاڑی روک لے۔ وہ اس پرانے لیمپ کو اس لیے سنبھالے رکھتا تھا کیونکہ فیضان نے بچپن میں اسی لیمپ کی روشنی میں اپنی پہلی میڈیکل کی کتاب پڑھی تھی۔
ایک انتہائی سرد اور برفانی رات، جب شہر کے تمام راستے دھند کی چادر میں چھپے ہوئے تھے اور بابا عنایت کی طبیعت اسی کھلے آسمان کے نیچے اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "فیضان..." کا آخری نام نکل رہا تھا۔ پاس کے ایک دکاندار نے جب بڑی مشکل سے ڈاکٹر فیضان کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو فیضان ہسپتال کے ایک وی آئی پی وارڈ میں بڑے لوگوں کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان چوکیداری اور پرانی بیماریوں کے قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین یا ہسپتال کا خرچہ ہے وہ میرے مینیجر سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے بابا عنایت کے دل کی آخری ڈور بھی ہمیشہ کے لیے توڑ دی، اس کے ہاتھ سے وہ پرانا لیمپ سڑک پر گر کر بجھ گیا اور وہ فٹ پاتھ پر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
دو دن بعد جب فیضان کا بھیجا ہوا ایک کارندہ بابا عنایت کا وہ لکڑی کا کیبن صاف کرنے آیا، تو اس نے فرش پر پڑے ہوئے اسی ٹوٹے ہوئے لیمپ اور بابا عنایت کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے نقوش والا ایک خط اٹھایا۔ جب فیضان کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے ہسپتال کے عالیشان کیبن میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے فیضان، میں نے ساری زندگی لوگوں کو شفا دینے والے ڈاکٹر کی راہ تکنے کے لیے اپنی آنکھیں بچھا دیں... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی لوٹے گا تو اسے سینے سے لگاؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، سلامت رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فیضان کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور ہسپتال کا پروٹوکول وہیں چھوڑ کر فوری طور پر اس سڑک کی طرف دوڑا، سیدھا اس فٹ پاتھ پر گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا चुका تھا، وہ اس ٹوٹے ہوئے لیمپ اور مٹی سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام ڈاکٹری اور دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ بوڑھا چوکیدار باپ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا اور دنیا کا کوئی بھی ہسپتال اس کی زندگی واپس نہیں لا سکتا تھا۔
ایک انتہائی سرد اور برفانی رات، جب شہر کے تمام راستے دھند کی چادر میں چھپے ہوئے تھے اور بابا عنایت کی طبیعت اسی کھلے آسمان کے نیچے اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "فیضان..." کا آخری نام نکل رہا تھا۔ پاس کے ایک دکاندار نے جب بڑی مشکل سے ڈاکٹر فیضان کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو فیضان ہسپتال کے ایک وی آئی پی وارڈ میں بڑے لوگوں کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان چوکیداری اور پرانی بیماریوں کے قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین یا ہسپتال کا خرچہ ہے وہ میرے مینیجر سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے بابا عنایت کے دل کی آخری ڈور بھی ہمیشہ کے لیے توڑ دی، اس کے ہاتھ سے وہ پرانا لیمپ سڑک پر گر کر بجھ گیا اور وہ فٹ پاتھ پر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
دو دن بعد جب فیضان کا بھیجا ہوا ایک کارندہ بابا عنایت کا وہ لکڑی کا کیبن صاف کرنے آیا، تو اس نے فرش پر پڑے ہوئے اسی ٹوٹے ہوئے لیمپ اور بابا عنایت کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے نقوش والا ایک خط اٹھایا۔ جب فیضان کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے ہسپتال کے عالیشان کیبن میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے فیضان، میں نے ساری زندگی لوگوں کو شفا دینے والے ڈاکٹر کی راہ تکنے کے لیے اپنی آنکھیں بچھا دیں... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی لوٹے گا تو اسے سینے سے لگاؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، سلامت رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فیضان کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور ہسپتال کا پروٹوکول وہیں چھوڑ کر فوری طور پر اس سڑک کی طرف دوڑا، سیدھا اس فٹ پاتھ پر گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا चुका تھا، وہ اس ٹوٹے ہوئے لیمپ اور مٹی سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام ڈاکٹری اور دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ بوڑھا چوکیدار باپ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا اور دنیا کا کوئی بھی ہسپتال اس کی زندگی واپس نہیں لا سکتا تھا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.