پرانا پیانو اور ادھورا سر
زنگ آلود تاریں اور اداس کمرہ
باپ کی تھکی انگلیاں اور بیٹے کی شاندار محفلیں
جب دنیا میں کسی کو بڑے کنسرٹ ہالز میں نامور موسیقاروں کی دھنیں سننے کا شوق ہوتا ہے، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ کسی پرانی گلی کے تاریک کمرے میں بیٹھ کر اپنے ہاتھ کے لمس سے پیانو کی ٹوٹی ہوئی تاریں جوڑنے والے کسی نابینا باپ کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ یہ کہانی ہے ماسٹر الیاس کی، جو جوانی کے ایک حادثے میں اپنی بینائی گنوا بیٹھا تھا، مگر اس نے موسیقی سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔ ماسٹر الیاس نے لوگوں کی شادیوں اور تقریبات میں پرانا پیانو بجا کر، خود راتوں کو جاگ کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر اپنے اکلوتے بیٹے ایان کو شہر کے سب سے بڑے آرٹس کالج سے عالمی شہرت یافتہ کمپوزر بنایا تھا۔
ایان جب پڑھ لکھ کر دنیا کا ایک نامور اور مہنگا میوزک ڈائریکٹر بن گیا اور اس کے پاس بین الاقوامی شو، لگژری اسٹوڈیوز اور دنیا بھر کی رنگینیاں آ گئیں، تو اس نے اپنے نابینا باپ کے اس پرانے پیانو اور غریبانہ پس منظر کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے مٹا دیا۔ شروع میں کبھی کبھار منشی کے ذریعے کوئی روکھا سا لفافہ آ جاتا تھا، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ ماسٹر الیاس ہر روز شام کو اپنے کمرے میں بیٹھتا، اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اسی پرانے پیانو کی چابیاں دباتا، اور اس کی اداس دھنیں نکال کر اس امید پر دروازے کی طرف کان لگاتا کہ شاید اس کا ایان کبھی اس ٹوٹی ہوئی گلی میں لوٹ کر آئے اور اپنے باپ کے ساتھ کوئی نئی دھن بنائے۔ وہ اس پیانو کے اندر ایک خاص نوٹ لکھ کر رکھتا تھا جو ایان کے بچپن کی پہلی کمپوزیشن تھی۔
ایک انتہائی سرد اور تنہا رات، جب باہر تیز بارش ہو رہی تھی اور کمرے کی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا، ماسٹر الیاس کی طبیعت اسی تاریک کمرے میں اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "ایان..." کا آخری نام نکل رہا تھا۔ پاس کے ایک ہمسائے نے جب بڑی مشکل سے میوزک ڈائریکٹر ایان کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو ایان ایک فائیو سٹار ہوٹل میں بڑے غیر ملکی فنکاروں کے ساتھ لائیو پارٹی میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان نابینا پن اور پرانی موسیقی کے قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے مینیجر سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے ماسٹر الیاس کے دل کی آخری لے اور سانس کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
دو دن بعد جب ایان کا بھیجا ہوا ایک کارندہ ماسٹر الیاس کا وہ کمرہ صاف کرنے آیا، تو اس نے پیانو کے پاس رکھے ہوئے اسی پرانے کاغذ اور ماسٹر الیاس کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے نقوش والا ایک ادھورا خط اٹھایا۔ جب ایان کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان ساؤنڈ اسٹوڈیو میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھوایا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ایان، میں نے ساری زندگی لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے پیانو پر سکھ کے سر سجائے... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی لوٹے گا تو ہم دونوں مل کر زندگی کا سب سے خوبصورت گیت گائیں گے۔ تو جہاں بھی رہے، خوشگوار سُروں میں جیے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ایان کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنے تمام مہنگے اسٹوڈیوز اور شو کو وہیں چھوڑ کر ہنگامی پرواز کے ذریعے ملک واپس آیا، سیدھا اس پرانے کمرے میں گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا چکا تھا، وہ اس پرانے پیانو اور ٹوٹی ہوئی چابیوں سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام شہرت اور دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ نابینا باپ ہمیشہ के لیے رخصت ہو چکا تھا اور دنیا کا کوئی بھی سنگیت اس کی زندگی میں واپس وہ سُر نہیں لا سکتا تھا۔
ایک انتہائی سرد اور تنہا رات، جب باہر تیز بارش ہو رہی تھی اور کمرے کی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا، ماسٹر الیاس کی طبیعت اسی تاریک کمرے میں اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "ایان..." کا آخری نام نکل رہا تھا۔ پاس کے ایک ہمسائے نے جب بڑی مشکل سے میوزک ڈائریکٹر ایان کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو ایان ایک فائیو سٹار ہوٹل میں بڑے غیر ملکی فنکاروں کے ساتھ لائیو پارٹی میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان نابینا پن اور پرانی موسیقی کے قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے مینیجر سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے ماسٹر الیاس کے دل کی آخری لے اور سانس کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
دو دن بعد جب ایان کا بھیجا ہوا ایک کارندہ ماسٹر الیاس کا وہ کمرہ صاف کرنے آیا، تو اس نے پیانو کے پاس رکھے ہوئے اسی پرانے کاغذ اور ماسٹر الیاس کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے نقوش والا ایک ادھورا خط اٹھایا۔ جب ایان کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان ساؤنڈ اسٹوڈیو میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھوایا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ایان، میں نے ساری زندگی لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے پیانو پر سکھ کے سر سجائے... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی لوٹے گا تو ہم دونوں مل کر زندگی کا سب سے خوبصورت گیت گائیں گے۔ تو جہاں بھی رہے، خوشگوار سُروں میں جیے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ایان کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنے تمام مہنگے اسٹوڈیوز اور شو کو وہیں چھوڑ کر ہنگامی پرواز کے ذریعے ملک واپس آیا، سیدھا اس پرانے کمرے میں گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا چکا تھا، وہ اس پرانے پیانو اور ٹوٹی ہوئی چابیوں سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام شہرت اور دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ نابینا باپ ہمیشہ के لیے رخصت ہو چکا تھا اور دنیا کا کوئی بھی سنگیت اس کی زندگی میں واپس وہ سُر نہیں لا سکتا تھا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.