Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 106

مٹی کے کھلونے اور ادھورا بچپن

چاک کی گھومتی آواز اور اداس آنکھیں

باپ کے گیلے ہاتھ اور بیٹے کی اونچی دنیا

جب دنیا میں کسی بچے کے ہاتھ میں پلاسٹک کے مہنگے اور چمکدار کھلونے آتے ہیں، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ ان بے جان چیزوں کے پیچھے کسی غریب باپ کی انگلیاں اور اس کا سارا دن مٹی میں گوندھتے ہوئے گزرتا ہے۔ یہ کہانی ہے چاچا مانی کی، جو پرانے شہر کے ایک کونے میں مٹی کے برتن اور بچوں کے چھوٹے چھوٹے کھلونے بنانے کا کام کرتا تھا۔ اس کے گھر کی دیواریں مٹی سے لپتی تھیں، اس کے کپڑے ہمیشہ گیلے چکنی مٹی میں لتھڑے رہتے تھے، مگر اس نے اپنے چاک کو دن رات گھما کر اپنے اکلوتے بیٹے ریحان کو پڑھایا، شہر کے نامور کالج میں داخلہ دلایا اور اسے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیج دیا تاکہ وہ ایک بہت بڑا آرکیٹیکٹ بن سکے۔

ریحان جب سمندر پار جا کر ایک بہت بڑا ڈیزائنر اور آرکیٹیکٹ بن گیا اور اس کے پاس شاندار فلیٹ، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی رنگینیاں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس مٹی والے پس منظر کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے مٹا دیا۔ شروع میں کبھی کبھار منشی کے ذریعے کچھ رقم آ جایا کرتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ چاچا مانی ہر روز شام کو اپنا چاک بند کرنے کے بعد مٹی کا بنا ہوا ایک چھوٹا سا گھوڑا یا کھلونا اپنی دکان کے طاق پر رکھ دیتا، اور اس امید پر گلی کے موڑ کی طرف دیکھتا رہتا کہ شاید اس کا ریحان کبھی لوٹ کر آئے اور وہ اپنے ہاتھ سے بنا ہوا یہ کھلونا اپنے بیٹے کو تحفے میں دے۔ وہ اس پرانے چاک کو اس لیے سنبھالے رکھتا تھا کیونکہ ریحان نے بچپن میں اسی چاک پر بیٹھ کر مٹی سے کھیلنا سیکھا تھا۔

ایک سرد شام، جب بارش ہو رہی تھی اور دکان کی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا، چاچا مانی کی طبیعت اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت کوئی دوا دینے والا نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "ریحان..." کا نام نکل رہا تھا۔ پڑوسیوں نے جب جلدی سے ریحان کے نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو ریحان ایک بڑے پروجیکٹ کی پریزنٹیشن میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے کہا: "مجھے ان مٹی اور غریبی کے قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے چاچا مانی کے دل کی آخری ڈور بھی توڑ دی، اس کے ہاتھ سے مٹی کا بنا ہوا ادھورا کھلونا چھوٹ کر زمین پر گر گیا اور وہ چاک کے پاس ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

دو دن बाद جب ریحان کا بھیجا ہوا ایک کارندہ چاچا مانی کی وہ چھوٹی سی دکان صاف کرنے آیا، تو اس نے طاق پر رکھے اسی ادھورے مٹی کے گھوڑے اور اس کے ساتھ چاچا مانی کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے ایک خط کو اٹھایا۔ جب ریحان کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان دفتر میں بیٹھ کر وہ خط کھولا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ریحان، میں نے ساری زندگی لوگوں کے گھر سجانے کے لیے مٹی کے برتن بنائے... سوچا تھا تیرے لیے ایک ایسا گھر بناؤں گا جو کبھی نہ ٹوٹے۔ یہ مٹی کا کھلونا تیرے بچپن کی یاد ہے۔ تو جہاں بھی رہے، سلامت رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ریحان کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی چھوڑ کر فوراََ ملک واپس آیا، سیدھا اس مٹی کی دکان پر گیا جہاں اس کا باپ دفن ہو چکا تھا، وہ اس چاک اور مٹی سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی دولت، بنگلے اور عہدے دھرے کے دھرے رہ گئے، مگر اب وہ بوڑھا کمہار باپ مٹی میں مل چکا تھا اور کوئی چاک اس کی زندگی کو واپس نہیں لا سکتا تھا۔

کہانی کا نام: مٹی کے کھلونے اور ادھورا بچپن

ہیرو: چاچا مانی (خاموش قربانی اور بے لوث محبت کا پیکر)

ولن: غرور اور سنگدلانہ مصروفیت

سائیڈ کردار: ریحان (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments