پرانا چرخہ اور ادھوری لوری
خاموش کمرہ اور لکڑی کا چرخہ
ماں کی گونگی سسکیاں اور بیٹے کی شان و شوکت
جب دنیا میں کسی کو ریشم اور اطلس کے مہنگے لباس پہننے کا فخر ہوتا ہے، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ کسی تاریک کونے میں بیٹھ کر اپنے ہاتھ سے سوت کاتنے والی کسی گونگی بوڑھی ماں کے گلے میں کتنے برسوں کی ان کہی آہیں اور سسکیاں پھنسی ہوتی ہیں۔ یہ کہانی ہے مائی بی بی جان کی، جو پیدائشی تو نہیں مگر جوانی کے ایک صدمے میں بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی تھی۔ اس نے لوگوں کے گھروں میں کپڑے سی کر، اپنے ہاتھوں سے پرانے چرخے پر سوت کات کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر اپنے اکلوتے بیٹے اسد کو شہر کے سب سے بڑے ادارے سے ٹیکسٹائل انجینئر بنایا تھا تاکہ اس کا بیٹا بڑی فیکٹریوں کا مالک بنے۔
اسد جب پڑھ لکھ کر شہر کا ایک بہت بڑا گارمنٹس ایکسپورٹر اور فیکٹری کا مالک بن گیا اور اس کے پاس بین الاقوامی برانڈز، لگژری گاڑیاں اور دنیا بھر کی رنگینیاں آ گئیں، تو اس نے اپنی گونگی ماں کے اس پرانے چرخے اور غریبانہ کوٹھری کو اپنی فیکٹری کی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے نکال دیا۔ شروع میں کبھی کبھار منشی کے ذریعے کوئی روکھا سا لفافہ آ جاتا تھا، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ مائی بی بی جان ہر روز شام کو اپنا لکڑی کا پرانا چرخہ گھماتی، اس کی گونج میں اپنی انگلیوں سے سوت بنتی، اور اس امید پر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا اسد کبھی اس تاریک گلی میں لوٹ کر آئے اور کہے کہ ماں میں آ گیا ہوں۔ وہ اس چرخے کے ساتھ ایک ریشمی رومال سنبھالے رکھتی تھی جو اس نے اسد کے بچپن کے پہلے کرتے سے کاٹ کر بنایا تھا۔
ایک انتہائی سرد اور تنہا رات، جب باہر برفباری ہو رہی تھی اور کوٹھری کا دروازہ ٹھنڈی ہوا سے ہل رہا تھا، مائی بی بی جان کی طبیعت اسی بستر پر اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور وہ بول نہ سکنے کی وجہ سے صرف منہ سے بے آواز سسکیاں لے رہی تھی، اس کے دل میں صرف "اسد..." کا نام گونج رہا تھا۔ پاس کے ایک ہمسایه نے جب بڑی مشکل سے فیکٹری کے مالک اسد کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو اسد ایک فائیو سٹار ہوٹل میں غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ فیشن شو کی پارٹی میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "مجھے ان گونگی اور پرانی بیماریوں کے قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین یا کفن کا خرچہ ہے وہ میرے مینیجر سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے مائی بی بی جان کے سینے کی آخری سسکی کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
دو دن بعد جب اسد کا بھیجا ہوا ایک کارندہ مائی بی بی جان کی وہ کوٹھری صاف کرنے آیا، تو اس نے چرخے کے پاس رکھے ہوئے اسی ریشمی رومال اور مائی بی بی جان کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے نقوش والا ایک کاغذ اٹھایا۔ جب اسد کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان فیکٹری کے آفس میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھوایا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے اسد، میں نے ساری زندگی لوگوں کے تن ڈھانپنے کے لیے اپنے ہاتھ جلا کر سوت کاتا... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی لوٹے گا تو اسے اپنے ہاتھ کا بنا ہوا لباس پہناؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، خوش رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی اسد کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند فیشن کی دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور فیکٹری کو وہیں چھوڑ کر ہنگامی پرواز کے ذریعے شہر واپس آیا، سیدھا اس کوٹھری میں گیا جہاں اس کا گونگا باپ کا متبادل یعنی اس کی ماں مٹی کی آغوش میں جا چکی تھی، وہ اس پرانے چرخے اور ریشمی رومال سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام دولت اور ملبوسات دھرے کے دھرے رہ گئے، مگر اب وہ گونگی ماں ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی تھی اور دنیا کا کوئی برانڈ اس کی زندگی واپس نہیں لا سکتا تھا۔
ایک انتہائی سرد اور تنہا رات، جب باہر برفباری ہو رہی تھی اور کوٹھری کا دروازہ ٹھنڈی ہوا سے ہل رہا تھا، مائی بی بی جان کی طبیعت اسی بستر پر اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور وہ بول نہ سکنے کی وجہ سے صرف منہ سے بے آواز سسکیاں لے رہی تھی، اس کے دل میں صرف "اسد..." کا نام گونج رہا تھا۔ پاس کے ایک ہمسایه نے جب بڑی مشکل سے فیکٹری کے مالک اسد کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو اسد ایک فائیو سٹار ہوٹل میں غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ فیشن شو کی پارٹی میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "مجھے ان گونگی اور پرانی بیماریوں کے قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین یا کفن کا خرچہ ہے وہ میرے مینیجر سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے مائی بی بی جان کے سینے کی آخری سسکی کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
دو دن بعد جب اسد کا بھیجا ہوا ایک کارندہ مائی بی بی جان کی وہ کوٹھری صاف کرنے آیا، تو اس نے چرخے کے پاس رکھے ہوئے اسی ریشمی رومال اور مائی بی بی جان کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے نقوش والا ایک کاغذ اٹھایا۔ جب اسد کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان فیکٹری کے آفس میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھوایا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے اسد، میں نے ساری زندگی لوگوں کے تن ڈھانپنے کے لیے اپنے ہاتھ جلا کر سوت کاتا... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی لوٹے گا تو اسے اپنے ہاتھ کا بنا ہوا لباس پہناؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، خوش رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی اسد کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند فیشن کی دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور فیکٹری کو وہیں چھوڑ کر ہنگامی پرواز کے ذریعے شہر واپس آیا، سیدھا اس کوٹھری میں گیا جہاں اس کا گونگا باپ کا متبادل یعنی اس کی ماں مٹی کی آغوش میں جا چکی تھی، وہ اس پرانے چرخے اور ریشمی رومال سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام دولت اور ملبوسات دھرے کے دھرے رہ گئے، مگر اب وہ گونگی ماں ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی تھی اور دنیا کا کوئی برانڈ اس کی زندگی واپس نہیں لا سکتا تھا۔

0 Comments
Thanks for your feedback.