سمندر کا کنارہ اور ریت کے گھر
نمکین ہوائیں اور اداس افق
باپ کے کھردرے ہاتھ اور بیٹے کی جہازوں والی دنیا
جب دنیا میں کسی کو ساحلی resorts کے پرتعیش کمروں میں بیٹھ کر لہروں کا نظارہ کرنے کا شوق ہوتا ہے، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ انھی موجوں کے رحم و کرم پر اپنی چھوٹی سی لکڑی کی ناؤ لے کر جانے والے کسی غریب باپ کی انگلیاں کتنے طوفانوں سے لڑتی ہیں۔ یہ کہانی ہے بابا ساجد کی، جو سمندر کے ایک دورافتاده ساحل پر جھونپڑی بنا کر اکیلا رہتا تھا۔ اس کا چہرہ نمکین ہواؤں سے جھلس چکا تھا، اس کی کمر مچھلی کے جال کھینچ کھینچ کر خمیدہ ہو چکی تھی، مگر اس نے اپنے اکلوتے بیٹے دانش کو سمندر کی خطرناک لہروں سے بچا کر شہر کے سب سے بڑے ادارے سے میرین انجینئر بنایا تھا تاکہ اس کا بیٹا پانی کے رحم و کرم پر نہ رہے۔
دانش جب پڑھ لکھ کر ایک بہت بڑا جہاز رانی کا افسر بن گیا اور اس کے پاس بین الاقوامی بحری جہازوں کے کنٹرول، بڑی کوٹھیاں اور دنیا بھر کا پروٹوکول آ گیا، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس ساحلی پس منظر اور نمکین پانی کی بدبو کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے نکال دیا۔ شروع میں کبھی کبھار سیٹلائٹ فون پر کوئی روکھا سا رابطہ ہو جاتا تھا، مگر پھر وہ سلسلہ بھی ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ بابا ساجد ہر روز شام کو سورج ڈوبنے کے وقت ریت پر بیٹھ جاتا، اپنے ہاتھ سے ایک چھوٹا سا ریت کا گھر بناتا، اور دور سمندر کی طرف اس امید پر دیکھتا کہ شاید اس کا دانش کبھی کسی بڑے جہاز پر سوار ہو کر اس ساحل پر واپس لوٹ آئے۔ وہ اس گھر کو اس لیے روز بناتا تھا کیونکہ دانش بچپن میں اسی ساحل پر ریت کے گھر بنایا کرتا تھا۔
ایک خوفناک طوفانی رات، جب سمندر کی بلند و بالا لہریں ساحل کی جھونپڑیوں کو نگلنے کے لیے دوڑ رہی تھیں، بابا ساجد کی طبیعت اسی کچی جھونپڑی میں اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "دانش..." کا نام نکل رہا تھا۔ ساحل کے ایک نگہبان نے جب بڑی مشکل سے کیپٹن دانش کے سیٹلائٹ نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو دانش ایک سمندری بندرگاہ پر غیر ملکی مہنگے ڈنر میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان ساحلی قصوں اور پرانی بیماریوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے بابا ساجد کے دل کی آخری ڈور بھی ہمیشہ کے لیے توڑ دی، اس کے ہاتھ سے ریت کا وہ ادھورا گھر چھوٹ گیا اور وہ ساحل کی مٹی پر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
دو دن بعد جب دانش کا بھیجا ہوا ایک کارندہ بابا ساجد کی وہ ٹین کی جھونپڑی صاف کرنے آیا، تو اس نے ساحل کی گیلی ریت پر رکھے ہوئے صدف اور سیپیوں کے کھلونے اور بابا ساجد کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے ایک خط کو اٹھایا۔ جب دانش کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے جہاز کے کیبن میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے دانش, میں نے ساری زندگی اس سمندر کے طوفانوں سے لڑ کر تیری دنیا سجائی... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی اس ساحل پر لوٹے گا تو اسے اپنے ہاتھ کا بنایا ہوا ریت کا محل دکھاؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، سلامت رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی دانش کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں ڈوب گئی، وہ اپنے بحری جہاز کو وہیں چھوڑ کر ہنگامی پرواز کے ذریعے ملک واپس آیا، سیدھا اس ساحل پر گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا چکا تھا، وہ اس قبر کی ریت اور ادھورے گھر سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام جہاز رانی اور دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ بوڑھا ماہی گیر باپ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا اور سمندر کی کوئی لہر اسے واپس نہیں لا سکتی تھی۔
ایک خوفناک طوفانی رات، جب سمندر کی بلند و بالا لہریں ساحل کی جھونپڑیوں کو نگلنے کے لیے دوڑ رہی تھیں، بابا ساجد کی طبیعت اسی کچی جھونپڑی میں اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "دانش..." کا نام نکل رہا تھا۔ ساحل کے ایک نگہبان نے جب بڑی مشکل سے کیپٹن دانش کے سیٹلائٹ نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو دانش ایک سمندری بندرگاہ پر غیر ملکی مہنگے ڈنر میں مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان ساحلی قصوں اور پرانی بیماریوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے بابا ساجد کے دل کی آخری ڈور بھی ہمیشہ کے لیے توڑ دی، اس کے ہاتھ سے ریت کا وہ ادھورا گھر چھوٹ گیا اور وہ ساحل کی مٹی پر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
دو دن بعد جب دانش کا بھیجا ہوا ایک کارندہ بابا ساجد کی وہ ٹین کی جھونپڑی صاف کرنے آیا، تو اس نے ساحل کی گیلی ریت پر رکھے ہوئے صدف اور سیپیوں کے کھلونے اور بابا ساجد کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے ایک خط کو اٹھایا۔ جب دانش کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے جہاز کے کیبن میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے دانش, میں نے ساری زندگی اس سمندر کے طوفانوں سے لڑ کر تیری دنیا سجائی... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی اس ساحل پر لوٹے گا تو اسے اپنے ہاتھ کا بنایا ہوا ریت کا محل دکھاؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، سلامت رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی دانش کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں ڈوب گئی، وہ اپنے بحری جہاز کو وہیں چھوڑ کر ہنگامی پرواز کے ذریعے ملک واپس آیا، سیدھا اس ساحل پر گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا چکا تھا، وہ اس قبر کی ریت اور ادھورے گھر سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام جہاز رانی اور دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ بوڑھا ماہی گیر باپ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا اور سمندر کی کوئی لہر اسے واپس نہیں لا سکتی تھی۔

0 Comments
Thanks for your feedback.