درزی کا پرانا فیتہ اور کفن کی سلائی
پرانی سلائی مشین اور رات کا سناٹا
باپ کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی چوٹی پر پہنچا دیتی ہے جہاں بڑے بڑے برانڈڈ سوٹ اور مہنگے فیشن ہاؤسز اس کی شان بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنے اس بوڑھے باپ کو بھول جاتا ہے جو بازار کے ایک کونے میں پرانی سلائی مشین پر لوگوں کے پھٹے پرانے کپڑے سی کر اس کا مستقبل سجاتا تھا۔ یہ کہانی ہے ماسٹر رحیم بخش کی، جو شہر کے ایک نکر پر بیٹھا صبح سے شام تک ہاتھ سے چلنے والی سلائی مشین پر محنت کرتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا ارسلان تھا، جسے ماسٹر رحیم نے لوگوں کی درزی کا کام کر کے، خود سردی میں ٹھٹھر کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے سب سے بڑے کالج سے فیشن ڈیزائنر بنایا تھا۔
ارسلان جب پڑھ لکھ کر ایک نامور برانڈ کا ہیڈ ڈیزائنر بن گیا اور اس کے پاس شاندار فلیٹ، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی رنگینیاں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانی سلائی مشین کو اپنی توہین سمجھ کر یکسر فراموش کر دیا۔ شروع میں کبھی کبھار ڈرائیور کے ہاتھ پیسے بھجوا دیے جاتے تھے، مگر پھر وہ سلسلہ بھی بالکل بند ہو گیا۔ ماسٹر رحیم ہر روز رات کو دکان بڑھانے سے پہلے اپنا وہ پرانا رنگ اڑا ہوا ناپ کا فیتہ اپنی گردن میں لٹکاتا، دکان کے دروازے پر بیٹھ کر سڑک کی طرف دیکھتا اور سوچتا کہ شاید اس کا ارسلان کبھی اپنے ہاتھ سے اس کے لیے کوئی سوٹ سلوانے آئے گا۔ وہ اس فیتے کو اس لیے سنبھالے رکھتا تھا کہ اس نے اسی فیتے سے ارسلان کے بچپن کے کپڑوں کا ناپ لیا تھا۔
ایک سرد رات، جب دکان بند ہونے والی تھی، ماسٹر رحیم کو سینے میں شدید درد اٹھا۔ اس کے پاس نہ کوئی دوا تھی اور نہ ہی کوئی سہارا۔ مرنے سے پہلے اس نے اپنے ایک پڑوسی سے کہہ کر ارسلان کے دفتر کا نمبر ملایا، مگر ارسلان ایک فیشن شو کی ریہرسل میں مصروف تھا اور اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے کہا: "مجھے ان فضول جھمیلوں میں مت گھسیٹو، جو بھی خرچہ ہے وہ مجھ سے مت پوچھو!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک جملے نے بوڑھے رحیم کی رہی سہی سانسیں بھی توڑ دیں۔ جب اگلے دن صبح ارسلان کے پاس باپ کی موت کی خبر پہنچی، تو اس نے مصروفیت کا بہانہ کر کے آنے سے صاف انکار کر دیا اور اپنے منشی کو لاوارثوں کی طرح دفنانے کا کہہ دیا۔
تین دن بعد جب ارسلان کا کارندہ ماسٹر رحیم کی وہ چھوٹی سی دکان صاف کرنے گیا، تو اس نے میز کی دراز سے وہ پرانی سلائی مشین کا فیتہ اور ایک ادھوری سلائی والا سفید کپڑا نکالا، اور ساتھ میں ایک کاغذ کا ٹکڑا ارسلان کو لا کر دیا۔ جب ارسلان نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر اس کے باپ کے کانپتے ہاتھوں سے لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ارسلان، میں نے ساری زندگی لوگوں کے تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے سیتے رہے... اور سوچا تھا کہ تیرے لیے دنیا کا سب سے خوبصورت جوڑا اپنے ہاتھ سے بناؤں گا۔ یہ فیتہ تیرے بچپن سے میرے پاس ہے۔ تو جہاں بھی رہے، خوش رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ارسلان کے ہاتھ سے وہ فیتہ چھوٹ کر زمین پر گر گیا، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں اندھیرے میں ڈوب گئی، وہ پاگلوں کی طرح دوڑتا ہوا اس پرانی دکان پر پہنچا، اس سلائی مشین اور فیتے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی شہرت اور دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ بوڑھا درزی باپ ہمیشہ کے لیے سو چکا تھا اور زندگی کی سلائی ادھوری رہ گئی تھی۔
کہانی کا نام: درزی کا پرانا فیتہ اور کفن کی سلائی
ہیرو: ماسٹر رحیم بخش (خاموش قربانی اور بے لوث محبت کا پیکر)
ولن: غرور، تکبر اور سنگدلانہ بے حسی
سائیڈ کردار: ارسلان (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.