شہد کا چھتہ اور ادھوری مٹھاس
پہاڑی ڈھلان اور جنگل کا سناٹا
باپ کے چھلنی ہاتھ اور بیٹے کی شیریں دنیا
جب دنیا میں کسی کو صبح کے ناشتے میں خالص شہد کی مٹھاس نصیب ہوتی ہے، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ جنگل کے اونچے درختوں پر چڑھ کر وہ چھتے اتارنے والے کسی بوڑھے باپ کے جسم پر کتنے شہد کی مکھیوں کے ڈنک اور زخموں کے نشانات ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہے بابا عنایت کی، جو شمالی پہاڑوں کے دامن میں جنگل سے جنگلی شہد اکٹھا کر کے قصبے کے بازار میں بیچنے کا کام کرتا تھا۔ اس کے ہاتھ مکھیوں کے کاٹنے سے سوجے ہوئے اور عمر بھر کی مشقت سے کانپتے تھے، مگر اس نے اسی جنگل کی کچی مٹی پر بیٹھ کر اپنے اکلوتے بیٹے سلمان کو شہر کے سب سے بڑے طبی ادارے سے فارماسیوٹیکل سائنسز کی اعلیٰ تعلیم دلائی تاکہ وہ ایک بہت بڑا سائنسدان بن سکے۔
سلمان جب پڑھ لکھ کر شہر کا ایک نامور دوا ساز اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کا ریسرچ ڈائریکٹر بن گیا اور اس کے پاس جدید ترین لیبارٹریز، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس جنگلی پس منظر اور شہد کی بوتلوں والی چھوٹی سی دکان کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے نکال دیا۔ شروع میں کبھی کبھار نام کے لیے فنڈز کی کوئی رقم آ جایا کرتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ بابا عنایت ہر روز صبح سویرے پہاڑ پر جاتا، ایک خالص شہد کا نیا مرتبان بھر کر اپنی دکان کے طاق پر رکھتا، اور اس امید پر گلی کے موڑ کی طرف دیکھتا رہتا کہ شاید اس کا سلمان کبھی اس پہاڑی راستے سے لوٹ کر آئے اور وہ اپنے ہاتھ کا اتارا ہوا خالص شہد اپنے بیٹے کو چکھائے۔ وہ اس مرتبان کو اس لیے روز بدلتا تھا تاکہ شہد کی اصل خوشبو برقرار رہے۔
ایک انتہائی سرد اور برفانی شام، جب پہاڑوں پر دھند چھائی ہوئی تھی اور ٹھنڈی ہوا ہڈیوں کو چیر رہی تھی، بابا عنایت کی طبیعت جنگل کے راستے میں ہی اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "سلمان..." کا آخری نام نکلا۔ قصبے کے ایک راہگیر نے جب بڑی مشکل سے ڈائریکٹر سلمان کے نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو سلمان ایک ہائی ٹیک فارما کانفرنس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان جنگلی قصوں اور پرانی بیماریوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے بابا عنایت کے دل کی آخری ڈور بھی ہمیشہ کے لیے توڑ دی، اس کے ہاتھ سے شہد کا وہ شیشے کا مرتبان چھوٹ کر پتھریلی زمین پر گر گیا اور وہ پہاڑ کی مٹی پر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
دو دن بعد جب سلمان کا بھیجا ہوا ایک کارندہ بابا عنایت کی وہ ٹین کی چھت والی جھونپڑی صاف کرنے آیا، تو اس نے زمین پر بکھرے ہوئے شہد کے ٹکڑوں اور بابا عنایت کے کانپتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے ایک خط کو اٹھایا۔ جب سلمان کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان لیب کے کیبن میں بیٹھ کر اس خط کو پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے سلمان، میں نے ساری زندگی لوگوں کی زندگی میں مٹھاس گھولنے کے لیے جنگل کے کانٹے جھیلے... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی لوٹے گا تو اسے اپنے ہاتھ کا اتارا ہوا شہد کھلاؤں گا۔ تو جہاں بھی رہے، شاداب رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی سلمان کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور ریسرچ کی دنیا کو وہیں چھوڑ کر فوری طور پر پہاڑی قصبے کی طرف دوڑا، سیدھا اس جھونپڑی میں گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا چکا تھا، وہ اس ٹوٹی ہوئی شیشی اور مٹی سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام دولت اور ریسرچ دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب وہ بوڑھا باپ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا اور کوئی شہد اس کی زندگی میں واپس مٹھاس نہیں گھول سکتا تھا۔
کہانی کا نام: شہد کا چھتہ اور ادھوری مٹھاس
ہیرو: بابا عنایت (زندگی میں مٹھاس گھولنے والا بے لوث باپ)
ولن: غرور، تکبر اور سنگدلانہ مصروفیت
سائیڈ کردار: سلمان (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)

0 Comments
Thanks for your feedback.