Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 103

ریڈیو سیٹ اور پرانی فریکوئنسی

اندھیرا کمرہ اور سگنل کی تلاش

باپ کے ٹٹولتے ہاتھ اور بیٹے کی ڈیجیٹل دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی جدید اور ڈیجیٹل دنیا میں لے جاتی ہے جہاں سمارٹ فونز اور وائرلیس ایئربڈز اس کا روزمرہ بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنے اس باپ کو بھول جاتا ہے جو ریڈیو کے پرانے سپیکر سے نکلنے والی ایک مدہم سی آواز کے لیے اپنی پوری زندگی ترساتا رہا۔ یہ کہانی ہے بابا فضل کی، جو ایک چھوٹے سے قصبے میں ریڈیو ٹھیک کرنے کا کام کرتا تھا اور جوانی کے ایک حادثے میں اپنی بینائی گنوا بیٹھا تھا۔ بابا فضل نے دن رات لوگوں کے پرانے ریڈیو سیٹ مرمت کر کے، خود اندھیرے میں ٹٹول کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر اپنے اکلوتے بیٹے سفیان کو شہر کے سب سے مہنگے ادارے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ماہر بنایا تھا۔

سفیان جب پڑھ لکھ کر شہر میں ایک بڑا سافٹ ویئر انجینئر بن گیا اور اس کے پاس جدید ترین گیجٹس، بڑی گاڑیاں اور بیرونِ ملک کے دورے کرنے کی مصروفیت آ گئی، تو اس نے اپنے اس نابینا باپ اور اس کی ریڈیو مارکیٹ والی چھوٹی سی دکان کو اپنی ترقی کے راستے کی رکاوٹ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ شروع میں کبھی کبھار ہفتے میں ایک بار سفیان کی طرف سے ایک روکھا سا فون آ جایا کرتا تھا، مگر پھر وہ رابطہ بھی مہینوں میں بدل گیا اور آخر کار ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ بابا فضل ہر روز شام کو اپنے کمرے میں بیٹھتا، اپنے ہاتھ سے ٹھیک کیے ہوئے ایک پرانے ریڈیو کا نوب گھماتا، اس کی خراب فریکوئنسی کو سیٹ کرتا اور اس امید پر کان لگا کر بیٹھ جاتا کہ شاید کسی دن ریڈیو کی لہروں کے ذریعے اس کے بیٹے سفیان کی آواز اس تک پہنچ جائے گی۔ وہ اس ریڈیو کو اس لیے سینه سے لگائے رکھتا تھا کیونکہ سفیان نے بچپن میں اسی ریڈیو پر پہلی بار اپنے باپ کے لیے کوئی گیت ریکارڈ کیا تھا۔

ایک سرد اور تنہا رات، جب باہر تیز طوفان چل رہا تھا اور قصبے کی بجلی کٹ چکی تھی، بابا فضل کا وہ پرانا ریڈیو بھی سگنل نہ ہونے کی وجہ سے صرف سائیں سائیں کی آواز نکال رہا تھا۔ اسی دوران بابا فضل کو دل کا شدید دورہ پڑا، اس کے منہ سے صرف "سفیان..." کا نام نکلا۔ پڑوسیوں نے جب جلدی سے سفیان کے نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو سفیان ایک ہائی ٹیک کانفرنس میں بزی تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی جھنجھلا کر کہا: "مجھے ان نابینا پن اور پرانی بیماریوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو خرچہ ہے وہ منشی کو کہہ کر بھجوا دینا!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک جملے نے بابا فضل کے دل کی دھڑکن کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔

اگلے دن جب قصبے کا ایک آدمی سفیان کا بھیجا ہوا کفن اور رقم لے کر آیا اور اس نے بابا فضل کا وہ چھوٹا سا کمرہ کھولا، تو میز پر وہی پرانا ریڈیو رکھا ہوا تھا جس کے ساتھ ایک چھوٹی سی کاپی پر بابا فضل کے ٹٹولتے ہاتھوں کی لکھی ہوئی لائنیں موجود تھیں۔ جب سفیان کے ملازم نے وہ کاپی کھول کر پڑھی تو اس پر لکھا تھا: "میرا سفیان اب بہت بڑی دنیا میں چلا گیا ہے جہاں سگنل بہت تیز ہیں... مگر میں آج بھی اس فریکوئنسی پر انتظار کر رہا ہوں جہاں سے میرے بیٹے کی بچپن کی آواز آتی تھی۔" یہ الفاظ جب سفیان تک پہنچے اور اس نے اپنے سمارٹ فون پر اپنے باپ کی آخری کال کی ریکارڈنگ سنی، تو اس کی جدید دنیا ایک لمحے میں ریزہ ریزہ ہو گئی۔ وہ دوڑتا ہوا اس قصبے میں اپنے باپ کے گھر پہنچا، اس خاموش ریڈیو سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام ٹیکنالوجی اور دولت دھرے کی دھرے رہ گئی، مگر اب فریکوئنسی ہمیشہ کے لیے ڈیڈ ہو چکی تھی اور وہ نابینا باپ کبھی واپس نہیں آ سکتا تھا۔

کہانی کا نام: ریڈیو سیٹ اور پرانی فریکوئنسی

ہیرو: بابا فضل (اندھیرے میں امید کا دیا جلانے والا نابینا باپ)

ولن: تکنیکی غرور اور سنگدلانہ مصروفیت

سائیڈ کردار: سفیان (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments