ریلوے اسٹیشن کا بینچ اور آخری رقعہ
دھند میں ڈوبا پلیٹ فارم اور تنہا مسافر
باپ کے کانپتے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی بلند منزلوں پر لے جاتی ہے جہاں ہوائی جہاز کے سفر اور فائیو سٹار ہوٹل اس کا معمول بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنے اس بوڑھے باپ کو بھول جاتا ہے جس نے اپنی پوری جوانی شہر کے اس پرانے ریلوے اسٹیشن پر কুলیاں کر کے اور پٹڑیاں صاف کر کے اس کا مستقبل سنوارا تھا۔ یہ کہانی ہے چاچا بشیر کی، جو روزانہ شام کو شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے آخری بینچ پر آ کر بیٹھ جاتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا جمیل تھا، جسے چاچا بشیر نے لوگوں کا سامان اٹھا کر، خود بھوکے پیٹ سو کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر ملک کے سب سے بڑے طبی ادارے سے ڈاکٹر بنایا تھا۔
جمیل جب شہر کا ایک بہت بڑا نامور سرجن بن گیا اور اس کے پاس شاندار کوٹھی، مہنگی ترین گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس غریبانہ پس منظر اور ریلوے اسٹیشن کی اس بدحال دنیا کو مکمل طور پر فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر جھوٹی خیریت معلوم کر لی جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل منقطع ہو گیا۔ چاچا بشیر ہر روز شام کو اسی اسٹیشن کے بینچ پر آ کر بیٹھ جاتا، ہاتھ میں ایک پرانی ٹارچ اور ایک کاغذ کا ٹکڑا رکھتا، اور آنے جانے والی ہر ٹرین کے دروازے کو بڑی حسرت سے دیکھتا کہ شاید اس کا جمیل کبھی اس ٹرین سے اتر کر اسے گلے لگا لے۔ وہ ہر روز اسٹیشن کے ماسٹر سے پوچھتا کہ آج کون سی بڑی گاڑی شہر سے آئی ہے، اور رات گئے تک اسی ٹھنڈے پلیٹ فارم پر بیٹھا رہتا۔
ایک انتہائی سرد اور گہری دھند والی رات، جب آخری ٹرین جانے کے بعد پلیٹ فارم پر سناٹا چھا گیا، تو چاچا بشیر کی طبیعت اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اسٹیشن کے ایک بوڑھے چوکیدار نے جب اس کے پاس آ کر دیکھا تو چاچا بشیر کی نبض انتہائی دھیمی ہو چکی تھی، مگر اس کے ہاتھ میں اب بھی وہی پرانا کاغذ کا ٹکڑا مضبوطی سے جکڑا ہوا تھا جس پر اس نے جمیل کے لیے کچھ لکھ رکھا تھا۔ مرنے سے پہلے اس نے آخری سسکی کے ساتھ چوکیدار سے کہا کہ میرے بیٹے جمیل کو بتانا کہ اس کا باپ اسی اسٹیشن پر اس کا آخری بار انتظار کرتا ہوا رخصت ہو گیا۔ اگلے دن جب چوکیدار نے جمیل کے کلینک کے نمبر پر کال کی، تو جمیل کی سیکرٹری نے انتہائی سرد لہجے میں کہا کہ ڈاکٹر صاحب اس وقت ایک ہائی پروفائل سرجری میں مصروف ہیں اور ان کے پاس اس طرح کی فضول کالز کے لیے بالکل وقت نہیں ہے، جو لاوارث لاش ہے اسے میونسپلٹی کے حوالے کر دیا جائے۔
دو دن بعد جب جمیل کا ایک نمائندہ چاچا بشیر کا چھوٹا سا سامان اور وہ ڈائری لے کر اس کے عالیشان کلینک پر پہنچا، تو جمیل نے میز پر پڑی اس پرانی ڈائری کو کھولا۔ اس کے اندر ایک سوکھا ہوا پھول اور چاچا بشیر کے کانپتے ہاتھوں کا لکھا ہوا آخری خط موجود تھا جس پر درج تھا: "میرے پیارے بیٹے جمیل، میں نے زندگی بھر اس ریلوے اسٹیشن کے ہر مسافر کو اس کی منزل تک پہنچایا ہے... مگر میرا دل کہتا تھا میرا بیٹا ایک دن اسی پلیٹ فارم پر مجھ سے ملنے آئے گا۔ میں نے تیرے انتظار میں اپنی یہ آخری سانس بھی یہیں چھوڑ دی ہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی جمیل کے پیروں تزمین نکل گئی، وہ اپنے ہی کیبن میں بے ہوش ہو کر گر پڑا، وہ دوڑتا ہوا اس ریلوے اسٹیشن کے اسی پرانے بینچ پر گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ کے لیے سو چکا تھا، وہ اس خالی بینچ سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی دولت اور شہرت دھری کی دھری رہ گئی، مگر اب وہ بوڑھا باپ اور اس کا انتظار ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا تھا۔
کہانی کا نام: ریلوے اسٹیشن کا بینچ اور آخری رقعہ
ہیرو: چاچا بشیر (بے لوث محبت اور لازوال انتظار کا پیکر)
ولن: غرور اور سنگدلانہ غفلت
سائیڈ کردار: ڈاکٹر جمیل (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.