Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 99

سیپل کی ٹہنی اور پرانی کتاب

درخت کا سایہ اور تنہا کمرہ

ماں کے کانپتے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں ڈیجیٹل سکرینیں اور مہنگی گاڑیاں اس کا معمول بن جاتی ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے بچپن میں اسے پڑھانے کے لیے لوگوں کے باغات سے سوکھے پتھر اور لکڑیاں چن کر چولہا جلایا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی ممتاز کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال مکان میں ایک پرانے سیپل کے درخت کے سائے میں اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا عاصم تھا، جسے مائی بی بی ممتاز نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود بھوکے پیٹ رہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

عاصم جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، نوکر چاکر اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے درخت کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی ممتاز ہر روز شام کو اسی سیپل کے درخت کے نیچے رکھی ایک ٹوٹی ہوئی لکڑی کی کرسی پر بیٹھ جاتی، ہاتھ میں عاصم کی بچپن کی ایک پھٹی ہوئی نصابی کتاب لیتی اور اس کے صفحات الٹ پلٹ کر اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا عاصم کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس کتاب کو اس لیے سینے سے لگائے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کے پہلے سبق کی خوشبو آتی رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی ممتاز کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ عاصم جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ عاصم کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب عاصم نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے بستر کے پاس رکھی اسی پھٹی ہوئی کتاب پر اس کی نظر پڑی، جو اس کی ماں ہمیشہ اپنے پاس رکھتی تھی۔ جب اس نے اس کتاب کا پہلا صفحہ کھولا تو اس کے اندر مائی بی بی ممتاز کے کانپتے ہاتھوں سے لکھا ہوا ایک خط اور ایک سوکھا ہوا پھول رکھا تھا۔ خط پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے عاصم، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس کتاب کے ہر صفحے پر تیرے روشن مستقبل کے لیے دعائیں لکھی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی عاصم کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں مٹی میں مل گیا، وہ اس پرانی کتاب سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

کہانی کا نام: سیپل کی ٹہنی اور پرانی کتاب

ہیرو: مائی بی بی ممتاز (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: عاصم (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments