Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 99

ریلوے کا ٹکٹ اور ادھوری گھڑی

پٹری کی آوازیں اور بوڑھی آنکھیں

باپ کا ٹوٹا ہوا گھڑی اور بیٹے کی دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی سیڑھی پر چڑھا دیتی ہے جہاں ہوائی جہازوں کے ٹکٹ اور مہنگے سفر اس کا معمول بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنے اس باپ کو بھول جاتا ہے جس نے زندگی میں صرف ایک بار ٹرین کا سفر کر کے اس کے لیے بڑا آدمی بننے کا خواب دیکھا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے سٹیشن ماسٹر ریٹائرڈ ماسٹر الیاس کی، جو چھوٹے سے قصبے کے پرانے ریلوے سٹیشن کے ساتھ بنی ایک چھوٹی سی کوٹھری میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا حمزہ تھا، جسے الیاس نے دن رات ریلوے لائنوں پر مزدوری کر کے، خود بھوکے پیٹ رہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے سب سے بڑے کالج سے انجینئر بنایا تھا۔

حمزہ جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، نوکر چاکر اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس غریبانہ پس منظر اور ریلوے سٹیشن کی اس بستی کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ ماسٹر الیاس ہر روز شام کو سٹیشن کے پلیٹ فارم پر آ کر بیٹھ جاتا، ہاتھ میں اپنی پرانی جیب والی گھڑی لیتا، اس کا ڈھکن کھول کر دیکھتا اور آنے والی ہر ٹرین کے مسافروں کو بڑی حسرت سے دیکھتا کہ شاید اس کا حمزہ کبھی اس ٹرین سے اتر کر اسے گلے لگا لے۔ وہ ہر آنے جانے والی گاڑی کا ٹکٹ سنبھال کر رکھتا تھا کہ میرا بیٹا جب بھی آئے گا، میں اس سے یہ پرانا سفر یاد کراؤں گا۔

ایک سرد شام، جب دھند بہت گہری تھی اور پٹریوں پر ٹرین کی سیٹی کی آواز گونج رہی تھی، ماسٹر الیاس کی سانسیں اچانک اکھڑنے لگیں۔ سٹیشن کے ایک چوکیدار نے جب اسے اٹھانا چاہا تو اس کے ہاتھ سے وہ پرانی گھڑی اور ایک ٹرین کا پرانا ٹکٹ نیچے گر گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے آخری بار فون ملانے کو کہا، مگر حمزہ کا فون مصروف جا رہا تھا کیونکہ وہ ایک بڑی پارٹی میں مصروف تھا۔ اگلے دن جب حمزہ کو اس کے باپ کے انتقال کی خبر ملی، تو اس نے ایک اہم میٹنگ کا بہانہ کر کے آنے سے انکار کر دیا اور اپنے منشی کو کہہ کر تدفین کے پیسے بھجوا دیے۔

دو دن بعد جب حمزہ کا کارندہ اس ریلوے کوٹھری کا سامان سمیٹنے گیا، تو اس نے میز پر رکھی ہوئی وہی پرانی گھڑی اور وہ ٹکٹ حمزہ کے پاس لا کر رکھ دیا۔ جب حمزہ نے اس گھڑی کو کھولا تو اس کے اندر اس کے بچپن کی ایک تصویر تھی اور اس کے ساتھ ایک کاغذ پر ماسٹر الیاس کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر لکھی تھی: "میرے پیارے بیٹے حمزہ، میں نے زندگی بھر ٹرین کی پٹریوں پر تیری واپسی کا انتظار کیا ہے... یہ ٹکٹ اس دن کا ہے جب تو پہلی بار شہر پڑھنے گیا تھا۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی حمزہ کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں مٹی میں مل گیا، وہ اس گھڑی سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور اس کے باپ کی زندگی کی ٹرین ہمیشہ کے لیے آخری سفر پر جا چکی تھی۔

کہانی کا نام: ریلوے کا ٹکٹ اور ادھوری گھڑی

ہیرو: ماسٹر الیاس (انتظار اور بے لوث محبت کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: حمزہ (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments