روئی کا گدا اور ادھورا خواب
دھنکی کی آواز اور پرانی دکان
باپ کی مزدوری اور بیٹے کا اونچا محل
جب دنیا میں کسی کو نرم و ملائم بستر پر سکون کی نیند آتی ہے تو وہ یہ نہیں جانتا کہ اس گدے میں کسی بوڑھے کی ہڈیوں کا رس اور آنکھوں کا پانی شامل ہوتا ہے۔ یہ کہانی ہے چاچا عنایت کی، جو شہر کے ایک کونے میں روئی دھنکنے کا کام کرتا تھا۔ اس کے ہاتھ زندگی بھر روئی کی گانٹھیں کھولتے کھولتے کانپنے لگے تھے، مگر اس نے اسی محنت سے اپنے اکلوتے بیٹے وقار کو پڑھا لکھا کر ملک کا ایک بہت بڑا بزنس مین بنا دیا تھا۔ عنایت کا خواب تھا کہ جب اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے گا تو وہ اس کے ساتھ ایک چھت کے نیچے آرام سے رہے گا، اور اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا روئی کا ایک نرم گدا اپنے بیٹے کو تحفے میں دے گا۔
وقار جب شہر کا ایک نامور صنعت کار بن گیا اور اس نے شاندار کوٹھی خرید لی، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس غریب اور روئی سے بھرے ہوئے پس منظر کو اپنی شان کے خلاف سمجھا۔ اس نے عنایت کو اپنے گھر لانے کے بجائے شہر کے ایک پرانے مسافر خانے کے پاس چھوڑ دیا اور مہینے میں ایک بار چند روپے بھجوا کر اپنے فرض سے بری الذمہ ہو گیا۔ چاچا عنایت سارا دن لوگوں کے پرانے بستر ٹھیک کرتا، روئی پیٹتا اور شام کو اسی مسافر خانے کے باہر بیٹھ کر اپنے بیٹے کے آنے کا انتظار کرتا۔ وہ رات بھر سردی میں ٹھٹھرتا رہتا کیونکہ اس کے پاس خود کے لیے اوڑھنے کو کوئی ڈھنگ کی چادر نہیں تھی، جبکہ اس کا بنایا ہوا خوبصورت گدا اب وقار کے عالیشان بیڈ روم کی زینت بنا ہوا تھا۔
ایک سخت سردی کی رات، جب بارش ہو رہی تھی اور کڑاکے کی ٹھنڈ تھی، چاچا عنایت کی طبیعت اچانک شدت سے خراب ہو گئی۔ اس کے پاس درد سے کراہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، اور مسافر خانے کا چوکیدار بھی کہیں اور جا چکا تھا۔ مرنے سے چند لمحے پہلے، عنایت نے اپنا آخری فون نمبر اپنے بیٹے وقار کا ملایا۔ دوسری طرف سے وقار کی بوریت سے بھری آواز آئی: "بابا! میں اس وقت بزنس ٹرپ پر باہر ہوں، اس طرح بار بار تنگ مت کیا کریں، جو پیسے چاہیے ہوں گے وہ منشی سے لے لینا۔" فون بند ہو چکا تھا۔ عنایت کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے سوکھے ہوئے گالوں پر بہہ گئے، اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھے اور اسی سرد فٹ پاتھ پر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
دو دن بعد جب وقار شہر واپس لوٹا اور اسے اپنے باپ کی لاش کی اطلاع ملی، تو وہ جنازے پر تو نہیں آیا البتہ اس نے اپنے ایک ملازم کو بھیج کر باپ کا بچا ہوا سامان منگوایا۔ جب اس ملازم نے عنایت کا وہ صندوق وقار کے سامنے رکھا اور اس میں سے ایک پرانی، میلی سی روئی کی گڑیا اور ایک خط نکلا، تو وقار نے اسے کھول کر پڑھا۔ خط میں لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے وقار، میں نے ساری زندگی لوگوں کو آرام دینے کے لیے بستر بنائے، مگر تیرے لیے جو بستر بنایا تھا وہ سب سے خاص تھا... مجھے امید ہے تجھ پر کبھی میری طرح سردی کی رات نہ آئے گی۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی وقار کے پیروں تزمین نکل گئی، وہ بھاگتا ہوا اس مسافر خانے کے فٹ پاتھ پر گیا جہاں اس کا باپ مٹی اوڑھ کر سو چکا تھا، وہ اس خالی جگہ سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی دولت اور محل دھرے کے دھرے رہ گئے، مگر اب وہ بوڑھا باپ اور اس کی محبت بھری روئی کی خوشبو دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: روئی کا گدا اور ادھورا خواب
ہیرو: چاچا عنایت (بے لوث محبت کا پیکر باپ)
ولن: غفلت اور خود غرضی
سائیڈ کردار: وقار (دیر سے پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.