ہسپتال کا آخری بیڈ اور خالی جھولی
دوا کی خوشبو اور باپ کی آخری سانس
بیٹی کی چمکتی دنیا اور بوڑھے باپ کا انتظار
زندگی جب انسان کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں بڑے ہسپتالوں کے اے سی والے کمرے اور ڈاکٹروں کی فیسیں معمولی لگنے لگتی ہیں، تو وہ اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اس مقام کے پیچھے کسی عزیز کا خون پسینہ اور ادھوری سانسیں شامل ہوتی ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے اور بیمار باپ بابا رحمت کی، جو شہر کے ایک سرکاری ہسپتال کے پرانے اور ٹوٹے ہوئے بیڈ پر آخری سانسیں لے رہا تھا۔ اس کی اکلوتی بیٹی عائشہ تھی، جسے بابا رحمت نے دن رات سڑکوں پر پھل بیچ کر، خود آدھا پیٹ روٹی کھا کر اور اپنی جوانی کی تمام توانائیاں لٹا کر شہر کے سب سے بڑے میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بنایا تھا۔
عائشہ جب خود ایک نامور ہسپتال میں بڑی سرجن بن گئی اور اس نے ایک امیر اور شاندار زندگی کا انتخاب کر لیا، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس غریبانہ وجود کو اپنے اونچے حلقوں اور مصروف زندگی میں بوجھ سمجھ کر بھلا دیا۔ شروع میں عائشہ کبھی کبھار ہسپتال کے اخراجات بھیج دیا کرتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی مہینوں میں تبدیل ہو گیا اور آخر کار بالکل ختم ہو گیا۔ بابا رحمت اسی سرکاری ہسپتال کے وارڈ میں اکیلا پڑا رہتا، نرسوں سے پوچھتا کہ کیا میری بیٹی عائشہ کا فون آیا ہے؟ اور جب نرسیں انکار کرتی ہیں، تو وہ چپ چاپ اپنی نم آنکھیں تکیے میں چھپا لیتا۔ اس کی جیب میں ہمیشہ عائشہ کی بچپن کی ایک تصویر رہتی تھی جسے وہ بار بار چومتا تھا۔
ایک طوفانی رات جب بابا رحمت کی حالت اچانک انتہائی تشویشناک ہو گئی اور ڈاکٹروں نے اسے آئی سی یو میں منتقل کرنے کا کہا، تو وارڈ کے ایک عملے نے عائشہ کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی۔ دوسری طرف سے ایک سرد اور مصروف لہجے میں آواز آئی: "مجھے اس وقت ایک بہت اہم آپریشن میں ہونا ہے، یہ چھوٹی موٹی چیزوں کے لیے بار بار ہسپتال سے کال مت کیا کریں، جو بل بنتا ہے وہ میں خود ادا کر دوں گی۔" فون کاٹ دیا گیا۔ یہ آخری جملہ سنتے ہی بابا رحمت کے سینے سے ایک ایسی دردناک سسکی نکلی کہ وہاں کھڑے تمام مریضوں کے دل دہل گئے۔ بابا رحمت نے نرس کے کان میں آہستہ سے کہا کہ بیٹی کو سلام کہنا اور جیب سے وہ پرانی تصویر نکال کر بستر پر رکھ دی، اور اس کے بعد اس کا ہاتھ ہمیشہ کے لیے نیچے لٹک گیا۔
اگلے دن جب ہسپتال کا ایک کارندہ عائشہ کے عالیشان کلینک پر اس کے باپ کا مرگ نامہ لے کر پہنچا، تو عائشہ اپنے مریضوں میں مصروف تھی۔ اس نے کاغذ پر نظر ڈالی اور سائن کرتے ہوئے اتنا کہا کہ لاوارثوں کی طرح دفنا دیا جائے۔ لیکن جب وہ شام کو اپنے کیبن میں واپس آئی اور اس نے کارندے کا دیا ہوا وہ لفافہ کھولا جس میں بابا رحمت کا سارا سامان تھا، تو اس میں صرف وہی بچپن کی پرانی تصویر اور ایک مٹی والا تعویز تھا، اور ساتھ ہی بابا رحمت کے کانپتے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک خط تھا۔ جب عائشہ نے وہ خط پڑھا جس پر لکھا تھا: "میری بچی عائشہ، مجھے معلوم ہے تو بہت بڑی ڈاکٹر بن گئی ہے اور تیرے پاس وقت نہیں ہے... میں نے مرتے وقت بھی دعا کی ہے کہ تجھے کبھی کسی کا انتظار نہ کرنا پڑے"، تو سرجن عائشہ کے ہاتھ سے وہ خط چھوٹ کر نیچے گر گیا۔ وہ اپنے ہی کلینک کے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی، ہسپتال کے اس کشادہ کمرے میں اس کی چیخیں گونج اٹھیں، وہ دوڑتی ہوئی سرکاری ہسپتال کے اس پرانے وارڈ تک گئی، بابا رحمت کے اس خالی بیڈ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی اور زندگی بھر کے پچھتاوے کی آگ میں جلتی رہی، مگر اب وہ باپ کبھی واپس نہیں آ سکتا تھا۔
کہانی کا نام: ہسپتال کا آخری بیڈ اور خالی جھولی
ہیرو: بابا رحمت (بے لوث اور قربانی دینے والا باپ)
ولن: غرور اور بے حسی
سائیڈ کردار: ڈاکٹر عائشہ (مسرور اور پچھتانے والی بیٹی)
0 Comments
Thanks for your feedback.