Urdu Kahania - Digital Kahani - Kahani no 93

سوت کا گالا اور ادھوری شام

خاموش کمرہ اور تنہا آنگن

ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں بڑی بڑی ٹیکسٹائل ملیں اور مہنگے ترین ملبوسات اس کی شان و شوکت کا حصہ بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے ہاتھ سے سوت کا ایک ایک گالا کاٹ کر اس کے لیے سردی کے کپڑے تیار کیے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی صفیہ کی، جو گاؤں کے ایک خسته حال کمرے میں روئی کے ایک پرانے گالے اور سوت کی پھٹی ہوئی ڈور کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ندیم تھا، جسے مائی بی بی صفیہ نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود راتوں کو جاگ کر سوت کاتتے ہوئے اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

ندیم جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس سوت کے گالے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی صفیہ ہر روز شام کو اسی سوت کے گالے کو اپنے کانپتے ہاتھوں میں لیتی، اسے ہلکا سا چھوتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا ندیم کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس نشانی کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کی محنت کا ہر ایک دھاگہ یاد رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی صفیہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ ندیم جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ ندیم کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب ندیم نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے بستر کے پاس رکھے اسی سوت کے گالے پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی بی بی صفیہ کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ندیم، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس سوت کے ہر دھاگے سے تیرے لیے دعائیں کاتی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ندیم کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس سوت کے گالے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو चुके تھے۔

کہانی کا نام: سوت کا گالا اور ادھوری شام

ہیرو: مائی بی بی صفیہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: ندیم (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments