لکڑی کا صندوق اور پرانی یادیں
بند دروازے اور ویران آنگن
ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں لاکھوں اور کروڑوں کے بینک بیلنس اور جدید ترین الماریاں اس کے گھر کی زینت بن جاتی ہیں، تو وہ اکثر اپنے ماضی کے اس لکڑی کے پرانے صندوق کو بھول جاتا ہے جس میں اس کی ماں نے اپنی زندگی بھر کی پونجی اور اس کے بچپن کی یادیں سنبھال کر رکھی تھیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی حلیمہ کی، جو گاؤں کے ایک خسته حال گھر میں لکڑی کے اسی پرانے اور دیمک زدہ صندوق کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ساجد تھا، جسے مائی بی بی حلیمہ نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود بھوکے پیٹ رہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
ساجد جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے صندوق کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی حلیمہ ہر روز شام کو اسی صندوق کے پاس بیٹھ جاتی، اس کے پرانے زنگ آلود قفل کو چھوتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا ساجد کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس صندوق کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اس میں رکھے اس کے بیٹے کے پہلے کپڑے اور اس کی پرانی کتابیں محفوظ رہیں، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی حلیمہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ ساجد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ ساجد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب ساجد نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے صندوق پر اس کی نظر پڑی، جو اس کی ماں نے مرنے سے پہلے کھول کر رکھا تھا۔ اس کے اندر ساجد کے بچپن کی ٹوٹی ہوئی تختی اور اس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی بی بی حلیمہ کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر رکھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ساجد، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس صندوق میں تیرے بچپن کی خوشیاں سنبھال کر رکھی تھیں کہ تو کبھی لوٹے گا۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ساجد کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے صندوق سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: لکڑی کا صندوق اور پرانی یادیں
ہیرو: مائی بی بی حلیمہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: ساجد (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.