مٹی کا گھڑا اور پیاسی رات
ٹھنڈا پانی اور تنہا آنگن
ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں ریفریجریٹر کا ٹھنڈا پانی اور مہنگے گلاس اس کی عیاشی کا سامان بن جاتے ہیں، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے کچی مٹی کے گھڑے سے خود گرم پانی پی کر اس کے لیے ہمیشہ ٹھنڈا پانی سنبھال کر رکھا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی کلثوم کی، جو گاؤں کے ایک خسته حال کمرے میں مٹی کے ایک پرانے اور سیاہ گھڑے کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا طارق تھا، جسے مائی بی بی کلثوم نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود پیاسی رہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
طارق جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس مٹی کے گھڑے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی کلثوم ہر روز شام کو اسی پرانے گھڑے کو تازہ پانی سے بھر دیتی، اس پر مٹی کی پیالی رکھتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا طارق کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس گھڑے کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ جب اس کا بیٹا تھکا ہار کر آئے تو وہ اسے اپنے ہاتھ کا ٹھنڈا پانی پلا سکے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی کلثوم کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ طارق جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ طارق کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب طارق نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے گھڑے کے پاس رکھے ایک صندوق پر اس کی نظر پڑی، جس کے اندر مائی بی بی کلثوم کے ہاتھ کا بنا ہوا ایک مٹی کا پیالہ اور اس کے ساتھ ایک کاغذ پر لرزتی ہوئی تحریر رکھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے طارق، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس گھڑے کے پانی کی طرح ہمیشہ تیرے لیے ٹھنڈی دعائیں مانگی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی طارق کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے گھڑے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: مٹی کا گھڑا اور پیاسی رات
ہیرو: مائی بی بی کلثوم (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: طارق (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.